شاعر۔۔۔ذوالفقار ہمدم اعوان
آؤ خوشبوئے محبت میں نہائیں مل کر
زندگی کو نئے مفہوم دلائیں مل کر
دیکھیں تاریک فضاؤں میں سحر کے امکاں
روشنی بن کے بلاؤں کو بھگائیں مل کر
کب تلک دھوکے محبت کے بہکائیں گے
سچ کے جگنو بھی کسی شب میں جلائیں مل کر
بولیں خاموش دریچوں میں صدا کی صورت
دل کے زخموں کو کسی طور چھپائیں مل کر
چاہیں پھر پیار کے لمحوں میں گزاریں جیون
پھر کسی خواب کی تعبیر کو پائیں مل کر
رکھ کے پلکوں پہ کسی خواب کی رنگیں کلیاں
پھر وفاؤں کی نئی راہ دکھائیں مل کر
بدلیں موسم کی خموشی کو نوا سے اپنی
تلخ لمحوں کے ستم آؤ مٹائیں مل کر
ختم رسمیں وہ کریں روح جو زخمی کر دیں
اپنے جذبوں کو عطا کیجے شعاعیں مل کر
اپنی نسلوں کے تحفظ ہو شجر کاری سے
گرد آلود فضاؤں کو سجائیں مل کر
داستاں کیجیے احساس کی خوشبو سے رقم
دل شکستہ ہیں یہاں ان کو ہنسائیں مل کر
گزریں ہم پیار سے سرشار فضا میں ایسے
جیسے بادل کسی برسات میں آئیں مل کر
عین ممکن ہے ازالہ ہو غلط فہمی کا
آج دیوار اناؤں کی گرائیں مل کر
خوف کے سائے جو دل پر ہیں مچلنے والے
روشنی بن کے ہر اک سمت سجائیں مل کر
چند خوابوں کو حسیں رنگ عطا ہو جائیں
زندگی نغمۂ امید بنائیں مل کر
سرد لمحوں کی اداسی سے نکلنا ہوگا
ہاتھ بکھری ہوئی خوشیوں سے ملائیں مل کر
بے حسی سانس جکڑ لے نہ بلا کی صورت
چاہتیں شوق کی وادی میں اگائیں مل کر
دل کی راہوں میں محبت کے مسافر گم ہیں
آگہی دیپ کی صورت میں جلائیں مل کر
وہ جو خاموش ہیں برسوں سے ستم سہتے ہوئے
ان کے جذبات کو آواز دلائیں مل کر
ظلم کی کوکھ سے آزادی کا سورج نکلے
لوگ سوئے ہوئے صدیوں کے جگائیں مل کر
عشق وہ کھیل نہیں کھیلیں جسے لفظوں سے
خون احساسِِِ مروت کو پلائیں مل کر
اپنے لہجے کی جو تلخی ہے مٹا دیں اس کو
گیت الفت کے چلو آج سے گائیں مل کر
Latest Posts
