مضمون نگار: تنزیلة الرحمٰن( جام پور)
زندگی میں انسان کو ہر طرح کے حالات و واقعات پیش آتے ہیں ۔ ان سے نمٹنے کا ہر ایک کا طرز الگ ہے ۔ کوئی صبر و تحمل سے کام لیتا ہے تو کوئی واویلا کر کے اپنی مشکل کو بڑھا دیتا ہے ۔ مگر جو چیز انسان کے اندر نرمی اور شخصیت میں نکھار پیدا کرتی ہے وہ صبر ہے۔ یہ اولولعزم لوگوں کی صفت ہے۔ اور جو اپنے آپ کو صبر کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے اس کو اللّٰہ تعالیٰ بلا حساب جنت میں داخل کرتے ہیں۔ اگر انسان پر وقت آڑا آ بھی جائے وہ صبر نہ کرئے، اس کے علاؤہ کر بھی کیا سکتا ہے۔ ایک آدمی کے بارے میں آتا ہے کہ وہ مشکلات کی آماج گاہ بن گیا تھا۔ زندگی میں ہر طرح سے اور ہر طرح کی مشکلات تھیں۔ اس نے صبر اور توکل علی اللہ کی ڈھال اختیار کیے رکھی۔ بڑوں اور شرفاء کی بات ہی یہی ہوتی ہے کہ مشکلات پر صبر کرتے ہیں اور اچھے وقت کا انتظار کرتے ہیں جو کہ عبادت ہے۔ ہم بھی اگر سوچیں کہ کسی مصیبت پر صبر نہ کریں تو اس کے علاؤہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں کیونکہ جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ” نہیں آتی کوئی مصیبت مگر اللّٰہ کے اذن سے” توان کا اللّٰہ پر یقین بڑھ جاتا ہے اور زندگی کے ہر موڑ پر صبر و قناعت اور توکل اختیار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ صبر سے دل میں ایک ٹھنڈک اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ پھر صبر کرنے والوں پر دو طرح کے انعامات ہوتے ہیں ایک تو اللّٰہ تعالیٰ کی معیت اور مزاج کی ٹھنڈک نصیب ہوتی ہے اور دوسرا آخرت میں ان کو بلا حساب جنت میں داخل کیا جائے گا۔
ایمان والوں کو بار بار اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ
” مدد مانگو صبر اور نماز کے ساتھ۔”( سورہ بقرہ)
یہی طریقہ اللّٰہ نے بتایا ، پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،صحابہ کرام ، تابعین اور بزرگانِ دین کا یہی طریقہ رہا۔ جب بھی کوئی مشکل پیش آئی صبر اور نماز سے کام لیا۔
ایک نیک بخت ماں کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ اپنے بچوں کو پریشان دیکھتی تو کہتی ” کر وضو پڑھ نماز ” یعنی کہ نماز پڑھ کر اللّٰہ تعالیٰ سے التجاء کرو اپنی پریشانی کے دور ہونے کی۔
یہ صفات اللّٰہ والوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہیں۔ ہمیں بھی ان سب کے پیشِ نظر اپنی پریشانی پر نگاہ رکھنے کی بجائے اللّٰہ رب العزت کی طرف اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو مسئلے کے ساتھ اس کا حل بھی پیدا کرتا ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: ( مفہوم)
” اللّٰہ تعالیٰ بندے کو آزمائش میں مبتلا کرتے ہیں اس( آزمائش)پر جو صبر کرے اس کے لیے صبر ہے اور جو چیخے چلائے ( یعنی بے صبری کرے) اس کے لیے چیخنا ہی ہے۔” صبر خیر کے خزانوں میں سے ہے اور یہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے نیک اور مقرب بندوں کو عطا فرماتے ہیں۔ ہم سب کے لیے سبق یہی ہے کہ جو بھی آزمائش آئے ، وقت کا دھارا اپنی گردشِ ایام میں ہو ہم نے ہر حال میں صبر کرنا ہے۔
صبر گھبراہٹ اور پریشانی سے زیادہ آسان ہے۔ بعض اوقات انسان کے بس میں کچھ چیزیں نہیں ہوتیں جیسے خوشی غم ، موت وحیات ، بیماری و تکلیف وغیرہ تو ان حالات پر انسان صبر ہی کر سکتا ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
” صبر کا ایمان میں وہی مقام ہے جو سر کا جسم میں۔اگر سر جسم سے جدا ہو جائے تو جسم بیکار ہو جاتا ہے۔ اور جس میں صبر نہیں اس کا ایمان معتبر نہیں۔ “
ایک سمجھدار انسان اپنے اوپر آئی آزمائش سے سبق حاصل کرتا ہے۔ اس سے اللّٰہ کی معرفت حاصل کرتا ہے تو یہ اس کے لیے نعمت بن جاتی ہے۔ اگر آزمائش آئی ہے تو انسان کو اس سے چھٹکارے کی امید بھی رکھنی چاہیے اور اس دوران صبر سے اجر و ثواب بھی ہوگا۔
سلیمان بن قاسم کہتے ہیں:
ہر عمل کا ثواب معلوم ہے سوائے صبر کے ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: ” صبر کرنے والوں کے لیے بے حساب اجر ہے یعنی موسلا دھار بارش کی مانند۔”
زندگی میں ہر طرح کے رنگ ہیں۔ کچھ امیدوں اور حوصلوں کے ، کچھ صبر و قناعت کے ،کچھ خوشیوں کے اور کچھ غموں کے۔ ہر ایک رنگ سے ہمیں خوب مستفید ہونا چاہیے۔ خوشیوں کے ساتھ کمر توڑ دینے والے غموں کا نام زندگی ہے۔ بس انسان کو ان سے نمٹنے کا ڈھنگ آنا چاہیے۔ نا امیدی ، مایوسی ، بے صبری ، کم حوصلگی ایک مومن کی شان نہیں۔
مومن تو جرات و شجاعت کا پیکر،صابر و شاکر،قناعت کی چادر اوڑھے ہوئے،ایمانی قوت سے لبریز امید کی شمع روشن کیے ہوئے،بلند حوصلگی سے غموں کی چٹانوں کو توڑنے والا اور دلوں کو فتح کرنے والا ہوتا ہے۔
ایک حکیم کا قول ہے کہ:
عقل مند اپنے اوپر آئی مصیبت پر دو باتوں سے تسلی پاتا ہے ایک یہ کہ جو ہوا وہ ٹل جائے گا اس سے خلاصی کی امید اور دوسرا جو باقی ہے اس پر خوشی اور رب کا شکر۔
اور جاہل اپنے اوپر آئی مصیبت سے مزید دو باتوں پر پریشان ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ جس کا اس نے سہارا لیا اس کی بڑھوتری کی خواہش اور دوسرا جو مشکل آئی ہے اس سے بڑی مشکل میں مبتلا ہونے کا خوف۔
غم بھی ہے گزشتنی ،خوشی بھی ہے گزشتنی
کر غم کو اختیار کہ گزرے تو غم نہ ہو
کہا جاتا ہے کہ جن چیزوں کا علاج نہیں وہاں صبر کام دیتا ہے۔ جو صبر کرتا ہے اللّٰہ کی نصرت و مدد اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ صبر کشادگی کی کنجی اور کامیابی کا قرینہ ہے۔ اہل جنت کی صفت ہے۔ اہل اللّٰہ کا شعار ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے گمان کے مطابق کرتے ہیں۔ جو اللّٰہ سے نیک گمان کرتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اس کے لیے راہیں آسان کر دیتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے ہمیں ہر موقع پر صبر کرنے والا بنائے۔ اور اس کے ثمرات سے دنیا و آخرت میں مستفید ہونے کی توفیق دئے۔ اور صابرین کی فہرست میں شامل فرمائے جن کو بروز قیامت بغیر حساب جنت میں داخل کیا جائے گا۔ الھم آمین یارب العالمین!
Latest Posts
