از : آمینہ یونس، سکردو بلتستان
صفیہ نے جائے نماز تہہ کر کے شیلف پر رکھ دی، ایک نظر بچوں پر ڈالی، پھر چولہے کے پاس آبیٹھی۔ مدھم پڑتی آگ کو پھونک مار کر دوبارہ جلایا، جیسے اپنی دم توڑتی امید کو اللہ کے ذکر سے جِلا بخش رہی ہو۔ کچھ دیر سوچتے ہوئے آٹا گوندھنے لگی۔ شام ہو چکی تھی، مگر احمد ابھی تک کام سے نہیں لوٹا تھا۔ آٹا گوندھ کر اس نے چولہے پر رکھی سبزی کو چمچ سے ہلایا، جو تقریباً پک چکی تھی۔ بچے جلدی سونے کے عادی تھے، اس لیے صفیہ رات کا کھانا سرِ شام ہی تیار کر لیتی تھی، تاکہ وہ بھوکے نہ سوئیں۔ کھانا تیار ہونے تک احمد بھی گھر آ پہنچا۔ صفیہ نے خفگی سے اس کی طرف دیکھا اور بولی: “اتنی دیر کہاں لگا دی؟ ذرا جلدی آیا کریں، مجھ سے سب سنبھالا نہیں جاتا۔”
“ہاں، آتے ہوئے اذان ہو رہی تھی، تو مسجد میں نماز پڑھنے رک گیا تھا۔” احمد نے جواب دیا۔ “اچھا، اچھا۔” صفیہ نے مختصر جواب دیا۔ احمد نے بیٹی کو گود میں اٹھا لیا۔ وہ دونوں آنکھوں سے نابینا تھی۔ ان کے دو بچے نابینا تھے اور دو بینائی والے، مگر اکثر بیمار رہتے۔ ماں باپ علاج معالجے کے ساتھ ساتھ روزی روٹی کے لیے بھی جدو جہد میں لگے رہتے۔ کچھ دن خیریت سے گزر گئے، مگر پھر عبداللہ کے گھٹنے میں شدید درد شروع ہو گیا، اور اسحاق بھی سست سا لگنے لگا۔ احمد اور صفیہ انہیں قریبی اسپتال لے گئے۔ ڈاکٹر نے معائنہ کر کے بتایا: “چھوٹے کو یرقان ہے اور بڑے بیٹے کو فوراً بڑے اسپتال لے جانا ہوگا۔ دیر مت کریں!”
یہ سنتے ہی دونوں میاں بیوی پریشان ہو گئے۔ گھر لوٹ کر احمد سر پکڑ کر بیٹھ گیا، جبکہ صفیہ بے بسی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔ گھر میں ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔ احمد کی مزدوری روز کے کھانے پر خرچ ہو جاتی، اور ویسے بھی کوئی بچت نہ تھی۔ اوپر سے ہر چند دن میں کوئی نہ کوئی بیمار پڑ جاتا۔ صفیہ بے اختیار بولی: “اب ہم کیا کریں گے، احمد؟ ہمارے پاس تو کرائے کے پیسے بھی نہیں ہیں، علاج کہاں سے کروائیں گے؟” احمد نے گہری سانس لی اور کہا: “کسی دوست یا رشتہ دار سے قرض مانگ لیتے ہیں۔”
“کس سے؟ کون دے گا؟ امی سے مانگنے کی بھی ہمت نہیں ہو رہی!” صفیہ نے روتے ہوئے کہا۔ احمد نے نرمی سے کہا: “صفیہ، تم ہی کہتی ہو کہ اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کو آزماتا ہے۔ جب کبھی میں مایوس ہوتا ہوں، تو تم مجھے یہ آیت سناتی ہو: لا تقنطو من رحمۃ اللہ۔ اب تم خود اس پر عمل کیوں نہیں کر رہی؟ مایوس کیوں ہو رہی ہو؟ اللہ ضرور کوئی سبیل نکالے گا۔” یہ کہہ کر احمد باہر چلا گیا، اور صفیہ آنسو پونچھ کر بچوں کو دیکھنے لگی۔
کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ صفیہ نے دروازہ کھولا، تو دیکھا کہ ہمسائے سے خالہ سکینہ کھڑی تھیں۔ سلام دعا کے بعد وہ اندر آئیں اور نرمی سے بولیں: “بیٹی، سنا ہے عبداللہ بیمار ہے، اور ڈاکٹر نے شہر لے جانے کو کہا ہے۔ سوچا، احمد کو مزدوری بھی نہیں ملی ہوگی، اور تمہارے پاس شاید کچھ بچت بھی نہ ہو۔ یہ کچھ پیسے رکھے تھے، وہی تمہیں دینے آئی ہوں۔” صفیہ چپ چاپ انہیں دیکھتی رہی۔ دل بار بار کہہ رہا تھا: لا تقنطو من رحمۃ اللہ۔ آنسو بھری آنکھوں سے ہاتھ بڑھا کر پیسے لے لیے، تو خالہ سکینہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا اور دلاسہ دینے لگیں: “مت رو میری بچی، ان شاءاللہ دونوں بچے صحت یاب ہو جائیں گے۔” اور صفیہ… وہ اللہ کی رحمت پر، صحرا میں کھلنے والے پھول پر، بے اختیار رو رہی تھی۔
Latest Posts
