ازقلم: افشاں بنت مشتاق
۲۸ جولائی ۱۹۷۸ میں ہندوستان (دہلی) سے پاکستان (کراچی) شادی ہو کر آنے والی شخصیت میری استانی جی تھیں۔ لمبا قد، گھنی سیاه لمبی چوٹی، کتابی چہرہ، کنول آنکھیں، کھلتی رنگت، ہزار گوری رنگت والے بیٹھے ہوں تو بھی پوری محفل میں ان کا ہی چہرہ دمکتا تھا۔ کبھی کوئی سرخی پاؤڈر نہیں لگایا، بس آنکھوں میں سرمہ۔ کبھی کہیں شادی کی تقریب میں جانا ہوتا تو تبّت کریم کا استعمال کر لیتیں۔ استانی جی صبر کی مورت اور شکر کا پیکر تھیں۔ ہندوستان سے شادی ہو کر آئیں مگر کبھی ان کو رنجیدہ نہ دیکھا، ہمارے استاد جی سے کبھی انہوں نے جھگڑا نہ کیا۔ نا ہی یہ کبھی کہتے سنا کہ: ”میں تو قید ہو کر رہ گئی، میں تو میکے جا نہیں سکتی۔“ ہمارے استاد جی بھی ولی طبیعت کے مالک تھے۔ انہیں گھر اور گھر کی ضرورتوں سے کوئی مطلب نہ تھا۔ بس استانی جی کو خرچہ دے دیتے سودا سلف، گھر کیسے چلانا ہے؟ کیا پکانا ہے؟ سب استانی جی کی ذمہ داری تھی۔ تین سو روپیہ مہینہ استاد جی، استانی جی کو جیب خرچ دیتے تھے۔ جس میں سے پورا سال بچت کر کے رمضان میں استاد جی، اپنے اور اپنی دونوں بیٹیوں کے لیے کپڑے بنا لیتیں۔
اندر سے ان کی طبیعت سادہ اور نرم تھی۔ مگر باہر سے انہوں نے اپنے اوپر سختی کا خول چڑھا رکھا تھا۔ تاکہ کسی غیر مرد کی جرأت نہ ہو ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے، کیونکہ استاد جی ان کے ہمراہ بازار نہیں جاتے تھے۔ اور ان کا میکہ بھی یہاں نہیں تھا۔ جب سے دہلی سے آئی تھیں انہوں نے قرآن پڑھانے کو اپنا شیوہ بنا لیا تھا وہ بھی بلا معاوضہ۔
ان کی وفات گیارہویں روزے ۲۰۱۶ کو ہوئی۔ ان کے صبر اور شکر کی بدولت ہی انہیں رمضان المبارک میں وفات کی سعادت نصیب ہوئی۔
Latest Posts
