رمضان شوگر ملز ریفرنس

از: ثمر عباس لنگاہ
عدالت کی سنگین چوکھٹ پر جب بھی کوئی مقدمہ ٹھہرایا جاتا ہے، تو انصاف کی دیوی کے ترازو میں نہ صرف دلائل تولا کرتے ہیں بلکہ زمانے کی ستم ظریفی بھی ایک پلڑے میں جا بیٹھتی ہے۔ حالیہ دنوں میں لاہور کی انسدادِ بدعنوانی عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ان کے فرزندِ ارجمند حمزہ شہباز کی بریت کا جو فیصلہ صادر کیا، اس نے نہ صرف عدالتی روایت پر سوالیہ نشان ثبت کیا بلکہ ملک کے سیاسی و قانونی ڈھانچے کی نحیف بنیادوں کو بھی مزید عریاں کر دیا۔
یہ مقدمہ، جو گویا عرصۂ دراز سے سیاست کی بھٹی میں تپتا رہا، 2019 میں نیب کے دستِ تصرف میں آیا۔ الزام یہ تھا کہ شہباز شریف نے بحیثیت وزیرِ اعلیٰ اپنے منصب کے دسترس کو غلط رنگ دے کر رمضان شوگر ملز کے لیے سرکاری خزانے سے نالہ تعمیر کروایا، اور یوں قومی سرمائے کو کروڑوں روپے کا خسارہ ہوا۔ مگر عدالت نے طویل قانونی کارروائیوں کے بعد عدمِ شواہد کی بنیاد پر دونوں حضرات کو بری کر دیا۔ یہ فیصلہ ایک جانب “عدل کی جیت” کہلا رہا ہے، تو دوسری جانب کئی سوالات کی راہ بھی ہموار کر رہا ہے۔
تاریخِ عدل گواہ ہے کہ وطنِ عزیز میں عدالتی فیصلے اکثر ہوا کے رخ پر بدلتے آئے ہیں۔ طاقت کے مسند پر براجمان افراد، خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے پروردہ ہوں، کبھی مجرم اور کبھی معصوم ٹھہرتے ہیں۔ جب حکومت دست بردار ہوتی ہے تو مقدمات دائر کیے جاتے ہیں، اور جب وہی افراد اقتدار کی دہلیز پر واپس آتے ہیں تو انہیں “باعزت” بری کر دیا جاتا ہے۔ یہ دستورِ کہنہ اب عوام کے لیے کسی اچھنبے کی بات نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر شہباز شریف اور حمزہ شہباز واقعی بے گناہ تھے تو پھر برسوں تک اس عدالتی تمثیل کا چرچا کیوں رہا؟ اور اگر بدعنوانی کا کوئی شائبہ تھا تو وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے انہیں قانون کے شکنجے سے بچا لیا؟
پاکستانی عدلیہ کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ یہاں احتساب کی شمشیر ہمیشہ کمزور گردنوں پر ہی گرتی ہے، جبکہ اصحابِ زر و اقتدار کے لیے یہ محض ایک رسمی کارروائی ثابت ہوتی ہے۔ نیب جیسے ادارے کی ساکھ بھی اب اس قدر متزلزل ہو چکی ہے کہ عوامی حلقے اسے احتساب سے زیادہ سیاسی جوڑ توڑ کا ایک ہتھیار تصور کرتے ہیں۔ سیاست دانوں کے خلاف بننے والے بیشتر مقدمات اسی انجام کو پہنچتے ہیں۔ کبھی سزا، کبھی معافی اور کبھی مکمل بریت۔۔۔
یہ المیہ اس ملک کے قانونی و عدالتی ڈھانچے پر ایک کاری ضرب ہے۔ اگر قانون کا نفاذ واقعی غیر جانبدارانہ ہوتا، تو احتساب کا ترازو کسی مخصوص سمت میں نہیں جھکتا۔ مگر افسوس کہ ہمارے نظام میں فیصلے اصولوں پر نہیں، بلکہ وقت کی نبض پر کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے سنگین الزامات لگانے والے، جب اقتدار میں آتے ہیں، تو انہی الزامات کو ہوائی بات قرار دیتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف عدلیہ کی وقعت کو مجروح کر رہا ہے، بلکہ عوام کے اس اعتماد کو بھی متزلزل کر رہا ہے جو کسی بھی ریاست کے عدالتی نظام کی اصل قوت ہوتا ہے۔
کیا پاکستان میں واقعی عدل و انصاف کا بول بالا ہو سکتا ہے؟ کیا احتساب بلا تفریق ممکن ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات محض عدالتی فیصلے نہیں، بلکہ عملی اقدامات سے ہی مل سکتے ہیں۔ اگر واقعی ملک میں انصاف کا راج قائم کرنا ہے، تو ہر مجرم، خواہ وہ تخت نشین ہو یا گوشۂ گمنامی میں بیٹھا ہو، قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہیے۔ جب تک عدالتوں میں فیصلے حق و صداقت کی بنیاد پر نہیں ہوں گے، تب تک یہ قوم اسی سیاسی و عدالتی بھول بھلیاں میں بھٹکتی رہے گی۔
مگر یاد رکھیے، تبدیلی راتوں رات نہیں آتی بلکہ وقت لگتا ہے۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow