غزل


شاعر۔۔۔۔ذوالفقار ہمدم اعوان
بے خودی اچھی، خودی اچھی نہیں
زندگی کی بے بسی اچھی نہیں
بے سبب جو سر جھکا کے جیتے ہو
ایسی کوئی بندگی اچھی نہیں
بام پر گر تم نہ ہو تو سچ کہوں
چاند کی پھر چاندنی اچھی نہیں
ظلم سہنا بھی تو ظلمت خیز ہے
بزدلی ہے بزدلی اچھی نہیں
اپنے ابا کی روایت توڑ دے
گھر میں ایسی روشنی اچھی نہیں
عین ممکن ہے لبِ شکوہ کھلے
آزمائش کی گھڑی اچھی نہیں
حرفِ حق کہنا ہوا جرم و خطا
اور سزا اس پر کڑی اچھی نہیں
دوستی میں آزمانا یار کو
دوستی میں دشمنی اچھی نہیں
شہر کے بازار سُونے پڑ گئے
ایسی اجڑی دلکشی اچھی نہیں
ہم نے سوچا، ضبط کر لیں ہر خلش
دل یہ بولا، خامشی اچھی نہیں
بے خودی میں درد کچھ تو کم ہوا
اور اچانک یہ کمی اچھی نہیں
رہروانِ عشق کو سمجھایے گا
ہر قدم پر خود سری اچھی نہیں
یادِ جاناں کو بسیرا دیجیے
سونی سونی ہر گلی اچھی نہیں
ایسا لگتا ہے کہ دم گھٹ جائے گا
یوں زیادہ بے کلی اچھی نہیں
جانے والوں کو کریں ہنس کے وداع
روتے دھوتے رخصتی اچھی نہیں

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow