کالم نگار: شبنم رانا ہڈالی
یقین ایک ایسی غیر مرئی طاقت ہے جو انسانی روح کی گہرائیوں میں بسی ہوتی ہے اور جب یہ بیدار ہوتی ہے تو ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔ یہ صرف ایک لفظ نہیں بل کہ ایک مکمل طرزِ زندگی اور وہ بنیاد ہے جس پر کامیابیوں کی بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ جب انسان اپنے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ اسے اپنی منزل پر یقین ہے، تو کائنات کی تمام قوتیں اسے اس مقصد تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہونے لگتی ہیں۔ یہ یقین ہی ہے جو صحراؤں میں راستے بناتا ہے اور سمندروں کی لہروں پر قدم رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یقین کا مطلب صرف جیت کا انتظار کرنا ہے لیکن حقیقت میں یقین کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب حالات خلاف ہوں، جب چاروں طرف ناکامی کے سائے ہوں , جب اپنوں اور بیگانوں کے طنز دل کو چھلنی کر رہے ہوں۔ ایسے میں جو لوگ شمع بن کر جلتے رہتے ہیں، وہی سچے یقین کی علامت ہوتے ہیں۔ یہ انسان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ گر کر دوبارہ اٹھے، اپنے کپڑوں سے گرد جھاڑ کر اور ایک نئی امنگ کے ساتھ دوبارہ سفر کا آغاز کرے، جس شخص کے پاس یقین کی دولت ہو، اسے دنیا کی کوئی بھی عارضی شکست مستقل طور پر زیر نہیں کر سکتی کیوں کہ اس کی نظر ظاہری حالات پر نہیں بلکہ اپنے باطنی عزم اور اپنے خالق کی رحمت پر ہوتی ہے۔
یقین کا ایک پہلو اپنی ذات پر بھروسہ کرنا بھی ہے۔ ہم اکثر دوسروں کی کامیابیوں کو دیکھ کر اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتے ہیں لیکن یاد رکھیے کہ ہر انسان ایک خاص مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور اسے وہ تمام وسائل عطا کیے گئے ہیں جو اس کی منزل کے لیے ضروری ہیں۔ جب ہمیں اپنی محنت، لگن اور خوابوں کی سچائی پر یقین ہوتا ہے، تو ہمارے کام میں وہ تاثیر پیدا ہو جاتی ہے جو پتھروں کو بھی موم کر دیتی ہے۔ یہ وہ پختگی ہے جو انسان کے اندر سے خوف کو نکال باہر کرتی ہے، چاہے وہ خوف مستقبل کا ہو یا رزق کا، تنہائی کا ہو یا لوگوں کی باتوں کا۔
انسان کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ وہی لوگ تاریخ ساز بنے جنہوں نے بھیڑ چال چلنے کے بجائے اپنے یقین کی پیروی کی۔ انہوں نے وہ خواب دیکھے جو دوسروں کو دیوانگی لگتے تھے لیکن ان کے “مجھے یقین ہے” کے پیچھے وہ پختہ ارادہ چھپا تھا جس نے زمانے کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ پس، اگر آپ کے پاس ایک مقصد ہے اور اس مقصد کو پانے کا سچا یقین ہے، تو آپ کو کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں۔ اپنی کوششوں کو جاری رکھیے، اپنے ارادوں کو مضبوط تھامے رہیے اور یقین رکھیے کہ صبر اور استقلال کے ساتھ کی گئی ہر جدوجہد ایک دن ثمر آور ضرور ہوتی ہے۔ یقین کی یہ راہ کٹھن ضرور ہو سکتی ہے مگر اس کا اختتام ہمیشہ اس سکون اور اطمینان پر ہوتا ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
Latest Posts
