صدیوں کی مصلوب یاد

​ازقلم: سیدہ صالبیہ حسن زیدی
​شفق کی سرخی جب گاؤں کی آخری پگڈنڈی پر دم توڑتی، تو وقت جیسے تھم جاتا۔ میں وہاں مٹی کے ڈھیر پر نہیں، بلکہ بیتے ہوئے زمانوں کے ملبے پر بیٹھتی تھی۔ وہ پگڈنڈی جو بستی سے نکل کر افق کی دھندلاہٹ میں گم ہو جاتی تھی، میرے لیے کوئی راستہ نہیں بل کہ ایک ایسی لکیر تھی جس پر میری ہستی مصلوب ہو چکی تھی۔ دس سال؟ نہیں، یہ دس صدیاں تھیں جو میری پلکوں پر منجمد ہو گئی تھیں۔
​لوگ مجھے مائی جوگن کہتے تھے۔ وہ کیا جانیں کہ جوگ لینا کوئی لباس بدلنا نہیں، بل کہ روح کا وہ ہجرت کر جانا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ وہ گیا تو جیسے اس زمین کا سارا سکون اپنے ساتھ لے گیا۔ میں منکوحہ تھی، اس کے نام کی مہر میرے وجود پر لگی تھی، مگر رخصتی کی وہ ڈولی جو خوابوں میں سجائی تھی، اب یادوں کے قبرستان میں ایک شکستہ ڈھانچہ بن چکی تھی۔ وہ ایسا ہی تو تھا ۔انا پرست، ضدی، اپنی بات پر اڑ جانے والا۔ ایک معمولی سی تلخی اور وہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔ پیچھے رہ گیا تو صرف ایک مہیب انتظار، جس میں نہ کوئی چراغ تھا، نہ کوئی نوید۔​ابا مولوی صاحب سے خلع کا فتویٰ لے آئے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوبارہ زندگی کی لہر میں شامل ہو جاؤں مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ جس دل میں ایک بار کسی کا انتظار جڑ پکڑ لے، وہاں کسی اور کی آہٹ سنائی نہیں دیتی۔ میں شام ہوتے ہی اس راستے کی دھول کو اپنے پوروں سے سہلاتی، جیسے وہ مٹی نہیں، اس کے بکھرے ہوئے بال ہوں۔ مجھے گمان تھا کہ وہ آئے گا لیکن وقت کی بے رحم گرد اس گمان کو ہر روز دھندلا دیتی۔ بستی کے لوگ میری طرف ہم دردی اور ترس کی نظروں سے دیکھتے، کئی ہاتھ میری طرف بڑھے، کئی سہارے میسر آئے، مگر ان اجنبی ہاتھوں کے لمس میں تمہارے ہاتھ کی وہ تپش کہاں تھی؟ تمہارے رشتہ دار مجھ سے نظریں چراتے، جیسے ان کی خاموشی میں کوئی لرزہ خیز راز چھپا ہو۔​پھر ایک ایک کر کے وہ سب چراغ بجھ گئے جن کی روشنی میں، میں نے بچپن گزارا تھا۔ اماں اور ابا کے جانے کے بعد زندگی ایک خالی حویلی کی طرح ہو گئی، جہاں صرف یادوں کی چمگادڑیں اڑتی تھیں۔ میری جوانی کو تمہارا انتظار کھا گیا اور اب بڑھاپا موت کی دہلیز پر دستک دے رہا تھا۔ ​جنوری کی وہ شام ضرورت سے زیادہ اداس اور بوجھل تھی۔ جاڑے کی سخت لہر نے بستی کے خون کو منجمد کر دیا تھا۔ بخار کی تپش میں میرا بدن سلگ رہا تھا، مگر روح اس پگڈنڈی کی پکار پر تڑپ رہی تھی۔ دھند کی سفید چادر نے کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ گلی کے موڑ پر کسی نے آواز دی، ”مائی جوگن! آج تے نہ جا، آج رج کے سردی اے!“
​مگر میں تو اس جوگی کی تلاش میں تھی جو خود اپنا رستہ بھول گیا تھا۔ میں اس کچے راستے پر جا بیٹھی جہاں اب پرندے بھی مجھ سے مانوس ہو چکے تھے۔ آج شدت سے رونا آ رہا تھا۔ اماں، ابا، اور وہ بے وفا شخص سب ایک قطار میں کھڑے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میرا قصور کیا تھا؟ ایسا انتظار تو دشمن کو بھی نہ دیا جائے جو جان لیوا ہو۔
میری آنکھیں بوجھل ہونے لگیں، مٹھیوں میں اس راستے کی خاک کو بھینچ لیا، جیسے اسے آخری بار روکنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
​”جا پردیسی! بروزِ محشر تیرا میرا حساب وہ سوہنا کرے گا۔“
​اگلی صبح، جب سورج کی پہلی کرن نے دھند کو چاک کیا، تو وہاں مائی جوگن نہیں بل کہ اس کے انتظار کی ایک اکڑی ہوئی تصویر باقی تھی۔ گاؤں والوں نے اسے وہیں دفن کر دیا جہاں وہ سالوں سے بیٹھتی تھی۔ اس کی قبر پر کوئی سنگِ مرمر نہیں لگا، بس ایک کتبہ تھا جس پر کسی نے کوئلے سے لکھ دیا تھا:
​”مائی جوگن اور نہ ختم ہونے والا انتظار.“
​وقت بہتا رہا، بستیاں اجڑتی اور بستی رہیں مگر وہ پگڈنڈی آج بھی گواہ ہے کہ کچھ انتظار موت کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow