عنوان: میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟

از قلم: بینا علی
ڈیرہ غازی خان کے ایک نجی اسکول میں چھت گرنے سے چار معصوم بچے شہید اور متعدد زخمی ہو گئے جب کہ بعض زخمی بچوں کی حالت تاحال تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بل کہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہر حساس دل کو لہولہان کر دیا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے دعاؤں کے حصار میں اسکول روانہ کرتی ہیں مگر جب واپسی کفن میں لپٹے چہروں کے ساتھ ہو تو یہ صرف ایک خبر نہیں رہتی بل کہ قیامت بن جاتی ہے۔ یہ اس ماں کا نوحہ ہے جس کی گود دس برس بعد ہری ہوئی تھی مگر چند لمحوں کی غفلت نے اس کی دنیا اجاڑ دی۔ کسی گھر میں معمولی سا پلستر بھی اکھڑ جائے تو اہلِ خانہ فوراً متوجہ ہو جاتے ہیں پھر ایک ایسی عمارت، جہاں روزانہ سینکڑوں بچے موجود ہوں، اس کی خستہ حالی اسکول انتظامیہ کی نظروں سے کیسے اوجھل رہی؟ کیا فیسیں صرف عمارتوں کی زیبائش، اشتہارات اور نام نہاد معیار کے لیے وصول کی جاتی ہیں؟ کیا بچوں کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟ مجھے یاد ہے کہ حال ہی میں میرے شوہرِ محترم کا ڈرائیونگ لائسنس بننا تھا۔ ان سے مختلف ٹیسٹ لیے گئے تاکہ یہ یقین کیا جا سکے کہ وہ گاڑی چلانے کے اہل ہیں تب جا کر لائسنس جاری کیا گیا افسوس کہ سینکڑوں بچوں کے مستقبل اور جانیں جن اداروں کے حوالے کی جاتی ہیں، ان کے لیے نہ کوئی مؤثر جانچ کا نظام ہے نہ حفاظتی معائنوں کی پابندی، اور نہ ہی کسی غفلت پر فوری احتساب اربابِ اختیار کو اب بیانات سے آگے بڑھنا ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر سروے کیا جائے۔ ایسی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو اسکولوں کی عمارتوں، چھتوں، بجلی کے نظام، ہنگامی راستوں اور حفاظتی انتظامات کا باقاعدہ معائنہ کریں۔ ہر اسکول کے لیے “سیفٹی سرٹیفکیٹ” لازم قرار دیا جائے، اور جو ادارے حفاظتی اصول پورے نہ کریں، انہیں فوری طور پر بند کر دیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی حق دیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کے اسکول کی عمارت اور حفاظتی انتظامات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر سکیں۔ تعلیمی اداروں میں سال میں کم از کم دو مرتبہ حفاظتی مشقیں کروائی جائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بچوں اور اساتذہ کو محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔ یہ وقت صرف افسوس کرنے کا نہیں بل کہ جاگنے کا ہے۔ اگر آج بھی غفلت کے ذمہ داروں کا احتساب نہ ہوا تو کل کسی اور ماں کی گود اجڑے گی کسی اور باپ کا سہارا چھن جائے گا اور پھر یہی سوال فضا میں گونجے گا:
“میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟”

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow