ازقلم: عرفانیہ تبسّم
یہ ہمارے عہد کا ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید سچ ہے کہ تعلیم کے میدان میں ترقی کے باوجود ادب، اخلاق اور تہذیب کا گراف مسلسل نیچے آ رہا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، ڈگریوں کا انبار لگ گیا مگر انسانیت، احترام اور شائستگی جیسے اوصاف کہیں پیچھے رہ گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم تعلیم یافتہ ہو رہے ہیں یا صرف اسناد کے بوجھ تلے دب رہے ہیں؟ تعلیم کا اصل مقصد صرف معلومات کا حصول نہیں بلکہ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور انسان کو بہتر انسان بنانا ہے مگر موجودہ نظامِ تعلیم میں اخلاقیات کا عنصر کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ طلبہ جدید علوم میں مہارت تو حاصل کر رہے ہیں مگر برداشت، صبر، احترامِ، انسانیت اور گفتگو کا سلیقہ سیکھنے سے محروم ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، بدتمیزی اور خود غرضی بڑھتی جا رہی ہے۔ آج کا طالب علم ٹیکنالوجی سے جڑا ہوا ہے مگر اقدار سے کٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں علم تک رسائی آسان کی، وہیں زبان اور رویوں میں سختی اور بے ادبی کو بھی فروغ دیا۔ اختلافِ رائے اب دلیل کے بجائے تضحیک اور تلخی میں بدل چکا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ ہم نے تعلیم کو تو اپنا لیا مگر ادب کو نظر انداز کر دیا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کا کردار بھی بے حد اہم ہے۔ استاد صرف مضمون پڑھانے والا نہیں بلکہ کردار بنانے والا ہوتا ہے اگر استاد خود اخلاق، صبر اور شائستگی کا نمونہ بنیں تو طلبہ لازماً اس سے اثر لیں گے۔ بدقسمتی سے آج یہ رشتہ بھی کمزور پڑتا جا رہا ہے، جہاں ادب و احترام کی جگہ محض رسمی تعلق نے لے لی ہے۔
اقبالؔ نے کیا خوب کہا:
“علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں”
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم اگر اخلاق اور ادب سے خالی ہو تو وہ ادھورا ہے۔ اسی طرح ایک اور جگہ اس حقیقت کو یوں بیان کیا گیا ہے:
“خموش اے دل، بھری محفل میں چِلانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں”
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نظامِ تعلیم میں اخلاقی تربیت کو دوبارہ مرکزی حیثیت دیں، گھروں میں والدین بچوں کو صرف کامیابی کا سبق نہ دیں بلکہ ایک اچھا انسان بننے کا ہنر بھی سکھائیں۔ تعلیمی ادارے نصاب کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی توجہ دیں اور معاشرہ مجموعی طور پر ادب و احترام کو اپنی پہچان بنائے، اگر ہم نے اس رجحان کو نہ بدلا تو وہ دن دور نہیں جب تعلیم یافتہ افراد کی تعداد تو زیادہ ہوگی مگر مہذب انسان نایاب ہو جائیں گے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب کو بھی فروغ دیں کیونکہ اصل ترقی یافتہ ریاست وہی ہے جہاں علم کے ساتھ ساتھ ادب بھی زندہ رہے۔
Latest Posts
