از قلم: عارفہ اسحاق

عنوان: تنقید
تنقید دو طرح کی ہوتی ہے۔ تنقید برائے طنز اور تنقید برائے اصلاح۔ جو تنقید اصلاح کے لیے کی جائے وہ تو ٹھیک ہے لیکن طنز دل کو زخمی کر کہ رکھ دیتا ہے۔ خاص طور پر جب اپنے لوگوں کی طرف سے تیر چلیں۔ بعض اوقات لوگ اسے فقط طنزاً ہی کرتے ہیں جو صلاحتیوں کو مار دیتی ہے۔ لیکن بعض لوگ کسی حد تک مثبت ہوتے ہیں وہ ہر بات میں مثبت پہلو نکال لیتے ہیں۔ اس طرح سے ان کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ کرنے والے نے تو کردی تنقید اب سننے والے پر منحصر ہے وہ اپنی مہارت کو مزید تراشتا ہے یا پھر چپ کر کہ اپنی منزل سے دور ہوجاتا ہے۔ میری بات سے کسی کو اختلاف ہوسکتا ہے لیکن میرا نظریہ ہے کوئی شخص اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک وہ مصائب سے نہ گزرے، اس کی ذات پر دباؤ نہ ہو۔ اسے الجھنوں نے نہ گھیرا ہو۔ مثبت سوچ رکھنے والے تنقید سے اپنی شخصیت کو نکھار لیتے ہیں جبکہ منفی سوچ والے دوسرے کو اس مقصد میں کامیاب کر دیتے ہیں۔ اور ہمیشہ کے لیے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تنقید میرے نزدیک ہماری چھپی صلاحیتوں کو جگاتی ہے شرط یہ کہ ہماری ذات میں تسلسل ہو منزل تک پہنچنے کی لگن ہو۔ تنقید کامیابی تک پہنچنے کا ذریعہ ہے کیونکہ یہ ہمارے جذبے کو ابھارتی ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو ثابت کرنے کا موقع دیتی ہے۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow