از قلم: اغنیٰ زہرا
“وقت مرہم ہوتا ہے، ٹیسیں پھر بھی رہ جاتی ہیں۔” ایک حقیقت ہے جو زندگی کے مختلف تجربات سے جڑی ہوئی ہے۔ وقت کے گزر جانے سے ہمیں جذباتی یا جسمانی طور پر ہونے والے درد اور تکلیفوں میں کمی محسوس ہو سکتی ہے، لیکن وہ زخم اور یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں۔ چاہے وہ کسی عزیز کی جدائی ہو، یا زندگی میں کسی اور طرح کی تکلیف، وقت کا گزرنا ان تکالیف کو مٹاتا نہیں بلکہ ان کا اثر کم کر دیتا ہے۔ اکثر ہم سوچتے ہیں کہ وقت سب کچھ ٹھیک کر دے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ درد اور یادیں ہمیشہ ہمارے دل میں ایک نشان کی طرح رہ جاتی ہیں۔ میری زندگی میں ویسے تو بہت سارے واقعات ہوئے جس نے میری شخصیت پر اثر ڈالا ہے۔ ان میں سے آج میں ایک کو قلم بند کر رہی ہوں۔ جب سے میں نے اس جہان فانی میں آنکھ کھولی تو اپنے معاشرے میں بس یہی دیکھا ہے کہ بیٹی کا جو مقام ہے وہ اسے نہیں ملتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بیٹی کو رحمت کی بجائے زحمت سمجھا جاتا ہے۔ وہ واقعہ جب ایک باپ نے اپنی ہی بیٹی کو زندہ دفن کر دیا۔ انسانیت چیختی رہ گئی لیکن اس ظالم باپ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ ہر وہ واقعہ جہاں بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ہر واقعہ پچھلے واقعے سے الگ، دردناک اور نیا محسوس ہوتا ہے۔
یہ سب دیکھ کر دل میں ایک سوال اٹھتا ہے: آخر کب تک؟ کب تک! بیٹی کو حقیر سمجھا جائے گا؟ کب تک اس کے خواب کچلے جائیں گے؟ کب تک وہ قربانی کا بکرا بنتی رہے گی؟ بیٹی تو ایک گھر کی رونق ہوتی ہے، اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی ادھورا ہے۔ اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ جن معاشروں نے بیٹیوں کو عزت دی، وہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے۔ میری زندگی میں اس طرح کے ہر واقعہ نے گہرا اثر چھوڑا ہے۔ بیٹی بوجھ نہیں ہوتی ہے، نہیں ہوتی ہے یہ بس اب باتوں تک ہی محدود ہے۔ حقیقت میں تو بیٹی کی کوئی عزت نہیں ہے۔ بیٹیاں اگر بوجھ نہیں ہوتیں تو پھر کیوں ان کی پیدائش پر سوگ کا سا سماں چھا جاتا ہے؟ کیوں انہیں کم تر سمجھا جاتا ہے؟ کیوں ان کے خوابوں کو مار دیا جاتا ہے؟ کیوں ان کی پسند اور ناپسند کو اہمیت نہیں دی جاتی؟
ہماری سوچ بدلے بغیر کچھ نہیں بدلے گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بیٹی کو واقعی وہ مقام ملے جو اسے دینا چاہیے، تو ہمیں صرف باتوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا، اپنے الفاظ کو اعمال میں ڈھالنا ہوگا، اور ہر بیٹی کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ بوجھ نہیں، روشنی ہے، طاقت ہے، زندگی ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو وہ اعتماد دینا ہوگا کہ وہ معاشرے میں ایک باوقار مقام حاصل کر سکیں، اپنی شناخت بنا سکیں، اور ایک مضبوط مستقبل کی تعمیر کر سکیں۔ کیونکہ جب ایک بیٹی مضبوط ہوگی، تب ہی ایک خاندان، ایک معاشرہ، اور ایک قوم مضبوط ہوگی۔
Latest Posts
