سجدہ اور سکون

آمینہ یونس ،سکردو بلتستان
سجدہ اور آنسو اللہ کے دو ایسے انعام ہیں جن کا شکر ادا کرنا ممکن ہی نہیں۔ انسان کی زندگی میں دکھ، تکلیف، زخم اور طرح طرح کی آزمائشیں آتی ہیں۔ کچھ آزمائشیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں انسان کسی سے کہہ نہیں سکتا، اور اگر دل میں رکھے تو وہ گھٹن اتنی بڑھ جاتی ہے کہ دماغ کی رگیں ٹوٹنے لگتی ہیں یا پاگل ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
ایسے میں دو چیزیں ہیں جو انسان کو اس اندرونی آگ سے نجات دلا سکتی ہیں؛ سجدہ اور آنسو۔
جب تکلیف حد سے بڑھ جائے، جب راستے مسدود محسوس ہوں؛ تو انسان اس در پر جا گرتا ہے جہاں سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ عام حالات میں سجدہ کرنے میں شیطان سو طرح کی رکاوٹیں اور بہانے پیدا کرتا ہے؛ مگر جب درد شدت اختیار کر لے تو انسان کے پاس اس در کے سوا کوئی اور مسیحا نہیں ہوتا۔ بے قرار ہو کر وہ سجدے میں گر پڑتا ہے، آنسو بہاتا ہے، تڑپ تڑپ کر فریاد کرتا ہے، اور تب اللہ اُسے ایسے تھام لیتا ہے؛ جیسے کوئی ماں اپنے روتے بچے کو بانہوں میں لے کر تسلی دیتی ہے۔
اس لمحے روح کو سرور ملنے لگتا ہے، دل آہستہ آہستہ سکون پانے لگتا ہے؛ جیسے تپتے صحرا سے کوئی اچانک گھنی چھاؤں میں آ جائے، جیسے بے آب مچھلی کو سمندر مل جائے، جیسے میلوں کے سفر کے بعد کوئی اپنی منزل تک پہنچ جائے۔
واقعی عظیم رب بہت مہربان ہے۔ تبھی تو اس نے ہمیں سجدے اور آنسو کی نعمت سے سرفراز کیا ہے۔

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow