زکوٰۃ کی اہمیت

از جبین اختر
اسلام کی بنیادی تعلیمات میں ایمان اور نماز کے بعد زکوٰۃ کا درجہ ہے۔ یہ اسلام کا تیسرا رکن ہے اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔کلمہ،نماز،روزہ،زکوۃ اور حج کلمہ،نماز اور روزہ جسمانی عبادتیں ہیں ـ حج مالی و جسمانی دونوں عبادتوں کا مجموعہ ہے جبکہ زکوٰۃ خالصتاً مالی عبادت ہےـ قرآن مجید کی ترتیب میں نماز کے بعد سب سے بڑھ کر زکوٰۃ کو اہمیت دی گئی ہے ـ نماز اور زکوٰۃ اسلام کی عمارت کے دو اہم ستون ہیں۔ دونوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید میں 70 سے زائد مقامات پر نماز اور زکوٰۃ کا مشترکہ حکم آیا ہے۔ جہاں اقامت و صلٰوۃ کا حکم ہے ساتھ ہی ادائیگی زکوٰۃ کا حکم بھی دیا گیا ہے ـ ان دو ارکان اسلام سے روگردانی یا انحراف کرنے والے کا ایمان ہی مشکوک ہو جاتا ہےـ قرآن کریم کے حوالہ سے کلمہ طیبہ کا اقرار ہی بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے اگر نماز اور زکوٰۃ پر عملاً پابندی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔قرآن نے نماز قائم کرنے والوں اور زکوٰۃ دینے والوں کو صاحب ایمان قرار دیا ہے۔
(سورہ مائدہ ایت نمبر 55)
“تباہی ہے ان مشرکین کے لیے جو زکوۃ نہیں دیتے اور
آ خرت کے منکر ہیں۔”
(حم سجدہ آ یت نمبر 7)
زکوٰۃ کی اہمیت اور فرضیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سابقہ انبیاء کی امتوں پر بھی زکوٰۃ فرض تھی ـ قرآنِ مجید میں جہاں جہاں عبادات کا حکم دیا گیا وہاں وہاں ان کی حکمتیں اور تعریف بھی بیان کی گئی ہےـ اللّٰہ نے مسلمانوں کے لیے روزے کی فرضیت کا حکم دیا تو بتایا کہ تم سے پہلی امتوں پر بھی روزے فرض تھے۔ زمانہ قدیم سے تمام انبیاء کو نماز اور زکوۃ کا حکم لازمی طور پر دیا گیا۔
زکوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ جس مسلمان کے پاس ایک مقررہ مقدار میں مال و دولت ہو وہ ہر سال حساب لگا کر اپنی دولت کا 40 واں حصہ غریبوں،بیواؤں،یتیموں، مسکینوں اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقرر کر رکھا ہےـ
جس رب تعالیٰ نے ہمیں طرح طرح کی نعمتیں دے رکھی ہیں مال دولت بھی اسی کی عطا کردہ ہے۔ اگر اس کے حکم پر کچھ مال اس کی راہ میں دے دیا جائے تو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے مالک کا ہم پر کس قدر احسان ہے اور اس کا فضل وکرم ہے کہ اس کا زکوٰۃ کے بارے میں حکم بالکل آسان اور معمولی سا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شانِ رحیمی دیکھیے کہ وہ اپنی راہ میں جو مال مانگ رہے ہیں اسے قرض حسنہ کا نام دیا گیا ہے ۔گویا جو مال ہم راہ خدا میں خرچ کریں گے وہ ضائع نہیں جائے گا بلکہ اللہ اسے لوٹا دیں گے کیونکہ قرض ہمیشہ واپس کیا جاتا ہے چنانچہ ارشادِ باری تعالٰی ہے :
”نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو قرض حسنہ دو جو کچھ اپنے لیے بھلائی کر کے آ گے بھیجو گے، اللہ کے ہاں محفوظ پاؤ گے۔“یہی بہترین اور بہت بڑا اجر ہوگا۔
(سورہ مزمل ایت نمبر 20)
جب ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے تو پھر بھلا اللّٰہ تعالٰی کو قرض کی کیا ضرورت ہے؟ جب ہم کسی کو قرض دیتے ہیں تو ہمیں فکر ہوتی ہے کہ قرض لینے والا کہیں بھاگ نہ جائے ہمارا پیسہ کہیں ڈوب نہ جائے اور جب ہم اللہ تعالٰی کو قرض دیں گے تو پھر ہمیں اس بات کی فکر نہیں ہوگی ایک بات پر تو ایمان و یقین کو پختہ کر لیں کہ اللہ کو دیا جانے والا قرض ڈوبے گا نہیں۔ ضائع نہیں ہوگا بلکہ محفوظ رہے گا اور یقیناً واپس ملے گا اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ اللہ کو قرض کی کیا ضرورت ہے؟
اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر بہت زیادہ شفیق اور مہربان ہیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو اپنے غریب بندوں کی کس قدر فکر ہے۔یہ قرض اللہ دراصل اپنے غریب فقیر بندوں کے لیے، مفلس بندوں کے لیے،نادار بے کار بندوں کے لیے،معذور مجبور بندوں کے لیے مفلوق و مفلوج بندوں کے لیے یتیموں،بیواؤں کے لیے طلب فرماتے ہیں۔گویا غریبوں کی مدد کرنا اور اپنے مال سے حصہ نکال کر انہیں دینا درحقیقت یہ حصہ اللّٰہ تعالٰی کہ ہاں جمع کروانے کے مترادف ہے جو سارے کا سارا اجر و ثواب کی صورت اللہ تعالی لوٹا دیں گے۔
اللّٰہ پاک کا ارشاد ہے “میری راہ میں دینے سے تمہارا مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے ۔ جو چیز خرچ ہوتی ہے جو چیز صرف ہوتی ہے اس میں کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ اضافہ ہوتا ہے۔ جو چیز کٹتی ہے وہ بڑھتی ہے یہ قانون فطرت ہےـ” اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں صدقہ،زکوٰۃ اور خیرات کی صورت میں مال میں برکت اس طرح لاتا ہے کہ مال پاک اور صاف ہو جاتا ہے۔ (سورہ توبہ آ یت نمبر 35 آ یت نمبر 60 میں فرمایا گیا ہے کہ جو مال جمع کیا جائے اور بڑھایا جائے لیکن اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے وہ ناپاک ہے۔ اپنے مال کو پاک اور صاف کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو یعنی اپنے مال و دولت سے اللہ کا حق نکال کر اس کے مستحق بندوں کو دیا جائے۔جب سونا چاندی جمع کرنے والوں پر دردناک عذاب کی وعید آئی اور اس سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو مسلمان سخت پریشان ہوئے۔
ان کا خیال تھا کہ ایک درہم بھی پاس نہ رکھا جائے اور سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا جائے۔ حضرت عمر دربار رسالت مآب میں حاضر ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تم پر زکوٰۃ اسی لیے فرض کی ہے تاکہ تمہارے باقی اموال پاک صاف ہو جائیں۔ اس بات سے اندازہ لگائیے کہ پانی ایک جگہ کھڑا رہنے سے گندا اور خراب ہو جاتا ہے۔چلتا پانی پاک ہے۔جو پانی کھڑا ہے وہ جمع شدہ ہے جو پانی چل رہا ہے وہ خرچ ہو رہا ہے شریعت میں چلتے پانی سے وضو جائز ہے اور کھڑے پانی سے جائز نہیں جو پانی جتنا زیادہ عرصہ جمع رہے گا اس میں اس قدر زیادہ تعفن اور بدبو پیدا ہوگی۔جو پانی جس قدر زیادہ بہتا اور چلتا رہے گا اس قدر زیادہ پاک و صاف اور شفاف ہوگا۔جس کنوئیں سے مسلسل پانی نکلتا رہے گا وہ کنواں صاف ہوگا اس کا پانی پاک ہوگا۔
لیکن جو کنواں بند رہے گا اس میں گیس جمع ہو جاتی ہے۔ایسے کنوں میں اترنے والے اکثر ہلاک ہو جاتے ہیں۔اور چلتے کنویں میں کسی قسم کی گیس پیدا نہیں ہوتی۔اسلام جس فلاحی ریاست کا تصور پیش کرتا ہے وہ نظام صلوٰۃ اور نظام زکوٰۃ کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا ـ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بار بار اقامت و صلوٰۃ اور ادائیگی زکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے ۔زکوٰۃ کا نظام معاشرے میں توازن پیدا کرتا ہے۔ زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم رکن ہے اور اسے عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ایک مسلمان زکوٰۃ کو حکومت کا ٹیکس نہیں بلکہ عبادت اور فرض سمجھ کر بطور ثواب ادا کرتا ہے ۔ نظام صلوٰۃ وزکوٰۃ ہی ایک خوشحال متوازن اور فلاحی معاشرہ کی ضمانت ہے۔ قرآن مجید میں ایک خاص مقصد کے تحت بار بار نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے۔خدا کی بندگی اور عبادت ہے۔بندے کا خالق اور خلق دونوں سے رابطہ ضروری ہے یہ دو صورتوں میں ممکن ہے یعنی نماز سے اور زکوٰۃ سے
خالق سے رابطہ کا ذریعہ نماز ہے
خلق سے رابطے کا ذریعہ زکوۃ ہے ـ اسلام دیگر مذاہب کی طرح دین اور دنیا میں تفریق نہیں کرتاـ کافر اور مومن میں یہی تو امتیازی فرق ہے کافر کا دین الگ ہے دنیا الگ ہے ـ لیکن مومن کا دین اور دنیا الگ نہیں ہے بلکہ مومن کی دنیا اس کے دین میں سمائی ہوئی ہے۔مومن کی دنیا دین کے تابع ہے۔اسلام کے نظام زکوٰۃ کو استحکام کے لیے اور حاجت مند،ضرورت مند اور درد مند طبقہ کی فلاح کے لیے ادائیگی زکوٰۃ کا اہتمام ضروری ہے۔ اللّٰہ تعالٰی ہمیں اس عبادت میں شوق و ذوق اور توجہ عطا فرمائے۔ آمین!

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow