از: تنزیلۃالرحمٰن
ہر انسان زندگی میں اچھا بننا چاہتا ہے مگر وہ تبدیل دوسروں کو کرنا چاہتا ہے۔ معاشرے کو ٹھیک کرنے کی دھن میں ہے مگر خود کو ٹھیک نہیں کرتا۔ ہم دنیا کو اسی رنگ سے دیکھتے ہیں جس رنگ کاچشمہ ہم نے لگا رکھا ہوتا ہے سیاہ یا سفید۔
حالانکہ ان رنگوں کے درمیان اور بھی بہت سارے رنگ موجود ہیں۔ تو چیزوں کو صحیح زاویہ سے دیکھنے کے لیے ہمیں خود اپنے آپ کو اور اپنے زاویہ نظر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہم خود میں تبدیلی لا کر آگے بڑھ سکتے ہیں ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔
” اندر سے باہر کی طرف” ایک نقطہ نظر ہے جس سے مراد اپنے آپ سے شروع کرنا ۔ یعنی کہ اپنے اندر سے تبدیلی کا آغاز کرنا۔ جس میں ہمارا زاویہ نظر ، سوچ ، نیت اور کردار کی تبدیلی شامل ہے ۔
تو اگر ہم کسی سطح پر تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو آغاز اپنی ذات سے کریں گے۔ اپنی چھوٹی سوچ ،اپنے انداز،افکار اورنظریات کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم چھوٹا سوچتے ہیں ، ہماری فکر صرف گھر بار اور اپنی ضروریات تک مفقود ہے تو ہمیں کچھ بڑا سوچنے کی ضرورت ہے۔ بڑی سوچ ہوگی تب ہی تو بڑا کام کر پائیں گے۔
ایک کہاوت ہے:
” ایک سوچ بوؤاور ایک عمل کاٹو ، ایک عمل بوؤاور ایک عادت کاٹو ، ایک عادت بوؤ اورایک کردارکاٹو ، کردار بوؤاور قسمت کاٹو ”
تو ہم نے بھی اپنی سوچ سے کام کرناہے اور ایک کردار تک جانا ہے۔ معاشرتی ، معاشی ، سماجی سطح پر تبدیلی لانے سے پہلے خود اپنی ذات سے شروع کرناہے۔ کیونکہ ہم افراد مل کر معاشرہ بناتے ہیں اور اگر ہر فرد اپنی اصلاح شروع کرے تو ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔
کیونکہ:
“ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ “
بعض اوقات ایک سوال یہ بھی ہمارے ذہنوں میں آتا ہے کہ ہمیں تبدیلی کی ضرورت کیوں ہے؟ تو وجہ یہ ہےکہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر شے تبدیل ہورہی ہے اور تبدیلی فطرت کا خاصہ ہے۔ جو تبدیلی ہم لانا چاہتے ہیں وہ قانون فطرت کے موافق ہو تو وہ ہمارے لیے اور ملک وقوم کے لیے سود مند ثابت ہوگی۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ( مفہوم):
“اللّٰہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک تبدیل نہیں کرتے جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل لے”۔
تبدیلی دراصل ایک ناگزیر عمل ہے ۔ جو وقت کے ساتھ اپنے آپ کو چلنا سکھا دے تو ایک نہ ایک دن منزل پر پہنچ ہی جاتاہے ۔
حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے :
” ہدایت اللّٰہ تعالیٰ کا بہترین خزانہ ہے” ۔
ہمیں اللّٰہ تبارک و تعالیٰ سے ہر وقت ہدایت مانگتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ ایک ہدایت یافتہ انسان ہی دوسروں کی اصلاح کا سبب بن سکتا ہے۔
خلاصہ یہ ہوا کہ اگر ہم کسی مقام پر پہنچنا چاہتے ہیں ،معاشرے میں ، ملک وقوم کی ترقی میں راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں تو خود کو بہتر بنانا ہوگا اور تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے کرنا ہو گا۔
جان ایف کینڈی کہتا ہے :
” تبدیلی قانون حیات ہے اور جو لوگ ماضی اور حال کو دیکھتے رہتے ہیں وہ یقیناً مسقبل سے محروم رہتے ہیں۔”
معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی زندگی کا حصہ اور ناگزیر عمل ہے۔ دنیا میں ہر شے تبدیل ہو رہی ہے۔ اگر دوام ہے تو وہ صرف تغیر کو ہے۔
“سکوں محال ہے قدرت کے کارخانہ میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں”
حضرت عبداللہ بن عباس( رض)
سے کسی نے پوچھا :
آپ بہترین قوم کیسےبنے ؟
تو آپ رضی اللہ عنھم نے جواب دیا: (مفہوم)
” ہم میں ایک رسول آئے ہم نے ان کی اتباع کی، ان سے محبت کی ، انہوں نے ہم سے محبت کی اور ہمارا شمار دنیا کی بہترین اقوام میں ہونے لگا ” ۔
ہمیں بھی اپنے آپ کو بہتر بنانے کے لیے کامل اتباع رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کرنی ہوگی جس کے بغیر ہماری زندگی ادھوری ہے۔ اور خود کو اپنی خرافات والی زندگی سے نکال کر سنتوں بھری زندگی سے پیراستہ کرنا ہوگا۔
ہمیں خودکو بدلنا ہوگا۔ اور یہ تبدیلی جذبات کی بنا پر نہیں بلکہ فطرت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ جو ہمارے لیے اور ملک وقوم کے لیے ثمر آور ثابت ہو۔ آمین یارب العالمین!
Latest Posts
