از قلم:ثمرین بتول
خاموشی میں گہرائی ہے۔ ایک چپ میں ہزار راز چھپے ہوتے ہیں۔ زیادہ بولنے سے اپنا ہی نقصان ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کو زیادہ بولنے کی عادت ہوجائے تو آپ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ آپ کیا بول رہے ہیں یا پھر اس کا سامنے والے پر کیا اثر ہوگا اس سوچ سے بے نیاز ہو کر اپنا مدعا بیاں کرتے ہیں۔ جب آپ زیادہ بولتے ہیں تو اپنے لفظوں کی اہمیت کھو دیتے ہیں ۔ زیادہ بولنا آپ کو جھوٹ بولنے پر مجبور کرسکتا ہے اور جھوٹ برائیوں کی جڑ ہے۔ خاموشی ایک نعمت ہے جس سے کچھ لوگ ہی مستفید ہوتے ہیں۔ لوگوں کو آپ کی باتوں سے محبت نہیں ہوتی۔ آپ کی گفتگو تب تک دلچسپی سے سنی جاتی ہے جب تک کہ آپ کے راز جانے جارہے ہوں۔ جب سب کچھ عیاں ہوجاتا ہے تو لوگ آپ کی باتوں کو سننے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ پردے میں کشش ہے۔ آپ تب کامیاب ہوتے ہیں جب آپ کا آئندہ قدم ایک راز ہو۔ کیونکہ لوگ تب صرف آپ کے کام کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے اور آپ بہت آگے نکل جائیں گے انہیں خبر ہونے تک۔ لیکن جب آپ کا اگلا قدم لوگوں کو معلوم ہو تو وہ آپ کو ہرانے میں دیر نہیں کریں گے۔ جو شخص جتنا اپنی ذات کو ظاہر کرتا ہے وہ اتنا ہی مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ خاموشی اور رازداری انسان کی شخصیت کو پرکشش بناتی ہے کیونکہ لوگوں میں آپ کو جاننے کا تجسس ہوتا ہے۔ ہر راز کو فاش کرنا اپنی اہمیت کو کھونے کے مترادف ہے۔ جب تک آپ کی ذات ایک راز ہے تب تک آپ کامیاب ہیں جس دن یہ کتاب کھلی ہر شخص کے واسطے ایک بار مطالعہ کے بعد ردی ہیں آپ۔
Latest Posts
