از قلم: سیدہ رومیصہ گیلانی
عائشہ صرف اٹھارہ برس کی تھی جب اس کے ہاتھوں پر مہندی سجا دی گئی۔ اس عمر میں جہاں لڑکیاں کالج کے خواب دیکھتی ہیں، نئی کتابوں کی خوشبو محسوس کرتی ہیں اور اپنی پسند کی زندگی کے بارے میں سوچتی ہیں، وہاں عائشہ کو ایک ایسے گھر کی دہلیز پر کھڑا کر دیا گیا جہاں اس کی پہلی پہچان “بیوی” اور دوسری “ماں” بننا تھی۔ اس کی شادی ایک تیس سالہ مرد سے کر دی گئی۔ گھر والوں نے اسے نصیحت کی کہ یہی زندگی کا اصل مقصد ہے، یہی عورت کی کامیابی ہے کہ وہ جلد ماں بن جائے اور اپنے شوہر کا گھر آباد کرے۔
شادی کے چند مہینوں بعد ہی عائشہ سے سوال شروع ہو گئے۔”کوئی خوشخبری کب سنا رہی ہو؟اب تو ہمیں پوتا چاہیے۔”
کسی نے یہ نہ پوچھا کہ عائشہ ابھی خود بچی ہے یا نہیں۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ اس کے خواب کیا تھے۔ اسے کیا پسند تھا۔ وہ پڑھنا چاہتی تھی یا نہیں۔ اس کے دل میں کون سی خواہشیں ابھی زندہ تھیں۔ اس کی زندگی کی رفتار اتنی تیز کر دی گئی کہ وہ خود کو سمجھنے سے پہلے ہی دوسروں کی امیدوں کا بوجھ اٹھانے لگی۔پہلا بچہ بیٹی ہوئی۔ گھر میں مبارک باد تو دی گئی مگر چہروں پر وہ چمک نہ تھی جس کی عائشہ منتظر تھی۔ اس کی ساس نے بچی کو گود میں لیتے ہوئے صرف اتنا کہا،”کوئی بات نہیں، اگلی بار بیٹا ہو جائے گا۔”
یہ جملہ عائشہ کی زندگی کا مستقل سایہ بن گیا۔پھر دوسرا حمل، پھر آپریشن، پھر ایک اور بیٹی۔
پھر تیسرا۔
پھر چوتھا۔
ہر بار عائشہ کا جسم مزید کمزور ہوتا گیا مگر لوگوں کی امیدیں کمزور نہ ہوئیں۔ ہر سی سیکشن کے بعد اس کے پیٹ پر ایک نیا زخم لگ جاتا۔ ٹانکوں کا درد ختم ہونے سے پہلے اگلے بچے کی باتیں شروع ہو جاتیں۔ اسے آرام نہیں دیا گیا، صرف ذمہ داریاں دی گئیں۔ اس کے ہاتھوں میں کبھی کتاب اچھی لگتی تھی مگر اب وہی ہاتھ رات بھر بچوں کو سلانے میں مصروف رہتے تھے۔وہ صرف ستائیس برس کی تھی مگر اس کی آنکھوں کے نیچے تھکن برسوں پرانی لگتی تھی۔پانچویں حمل کے وقت ڈاکٹر نے واضح الفاظ میں کہا تھا،اب مزید حمل عائشہ کی جان لے سکتا ہے۔ اس کے جسم پر پہلے ہی بہت دباؤ ہےلیکن گھر والوں کے لیے ڈاکٹر کی بات سے زیادہ اہم بیٹے کی خواہش تھی۔ عائشہ کو ڈر لگتا تھا۔ راتوں کو وہ چھت کو دیکھتے ہوئے سوچتی کہ کیا واقعی ایک عورت کی قیمت صرف بیٹا پیدا کرنے سے طے ہوتی ہے؟ کیا چار بیٹیاں کسی نعمت سے کم نہ تھیں؟ وہ اپنی بچیوں کے چہروں کو دیکھتی تو اس کا دل بھر آتا۔ وہ ننھی جانیں جو ماں کے گلے لگ کر سوتی تھیں، دنیا انہیں بوجھ کہتی تھی۔پانچواں سی سیکشن عائشہ کی زندگی کا سب سے خطرناک مرحلہ ثابت ہوا۔ آپریشن تھیٹر کی سفید روشنیوں کے نیچے ڈاکٹرز کی آوازیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔ اس کے جسم کے اندر جگہ جگہ پرانے آپریشنز کے نشان تھے۔ بچہ دانی کمزور ہو چکی تھی۔ شدید خون شروع ہو گیا۔ ایک لمحے کے لیے ڈاکٹرز کو لگا شاید عائشہ بچ نہ سکے۔اسے تھرومبوسس ہو گئی۔ جسم میں خون کے لوتھڑے بننے لگے۔ کئی دن وہ اسپتال کے بستر پر پڑی زندگی اور موت کے درمیان جھولتی رہی۔ پانچویں بار بھی بیٹی پیدا ہوئی۔جب نرس نے نومولود بچی کو اس کے پاس لا کر رکھا تو عائشہ نے کمزور ہاتھوں سے اسے سینے سے لگا لیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ شاید درد کے، شاید محبت کے، شاید اس خوف کے کہ اس بچی کو بھی ایک دن اسی معاشرے میں جینا ہوگا جہاں عورت کو ہمیشہ کسی امتحان میں کھڑا رکھا جاتا ہےمگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔عائشہ کے شوہر نے آہستہ آہستہ اس سے دور ہونا شروع کر دیا۔ اب اس کے لہجے میں پہلے جیسی نرمی نہیں رہی تھی۔ ایک دن عائشہ نے اسے اپنے دوست سے کہتے سنا،کیا فائدہ؟ پانچ بیٹیاں ہیں، ایک بیٹا بھی نہ دے سکی۔ شاید دوسری شادی کرنی پڑے۔یہ الفاظ عائشہ کے دل میں کسی خنجر کی طرح اتر گئے۔وہ حیران تھی۔ جس عورت نے اپنی جوانی قربان کر دی، پانچ بار موت کے دروازے تک گئی، اپنے جسم پر مستقل زخم سہے، اپنی نیند، صحت، خوبصورتی اور خواب سب قربان کر دیے، آج اسی عورت کو ناکام قرار دیا جا رہا تھا صرف اس لیے کہ اس نے بیٹا پیدا نہیں کیاحالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ بچے کی جنس کا تعین عورت نہیں بل کہ مرد کے کروموسومز کرتے ہیں۔ مگر ہمارے معاشرے میں علم سے زیادہ الزام مضبوط ہوتا ہے۔ مرد اپنی خواہشات کی ناکامی بھی عورت کے حصے میں ڈال دیتا ہے۔عائشہ کبھی کبھی آئینے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھتی تھی۔ اس کے چہرے پر عمر سے پہلے تھکن آ چکی تھی۔ پیٹ پر آپریشنز کے نشان تھے۔ ہاتھوں میں مسلسل محنت کی سختی تھی۔ وہ سوچتی تھی،”کیا میں نے واقعی زندگی جی ہے؟”اٹھارہ سال کی عمر میں وہ دلہن بنی۔ ستائیس سال کی عمر میں وہ پانچ بچوں کی ماں، مستقل مریضہ اور ایک ایسے رشتے کی مسافر بن چکی تھی جہاں محبت سے زیادہ بیٹے کی خواہش زندہ تھی۔یہ صرف عائشہ کی کہانی نہیں۔ ہمارے معاشرے میں ہزاروں لڑکیاں ہیں جنہیں کم عمری میں شادی کے بعد ماں بننے کی مشین سمجھ لیا جاتا ہے۔ ان کی تعلیم روک دی جاتی ہے، ان کے خواب دفن کر دیے جاتے ہیں اور پھر ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بغیر شکایت سب برداشت کریں۔ اگر بیٹا نہ ہو تو الزام عورت پر، اگر جسم کمزور ہو جائے تو قصور عورت کا، اگر شوہر دوسری شادی کرے تو بھی خاموشی عورت کے حصے میں آتی ہے۔معاشرہ عورت سے قربانی ہی تو مانگتا ہے مگر اسے انسان ماننے میں دیر لگا دیتا ہے۔ایک لمحے کے لیے سوچئے، اگر عائشہ کو تعلیم مکمل کرنے دی جاتی، اگر اسے وقت دیا جاتا، اگر اس کی صحت کو اہم سمجھا جاتا، اگر اس کے شوہر نے بیٹیوں کو رحمت سمجھا ہوتا، تو شاید آج اس کی زندگی مختلف ہوتی۔ شاید وہ صرف زندہ نہ ہوتی بلکہ واقعی زندگی جی رہی ہوتی۔بیٹیاں ناکامی نہیں ہوتیں۔ ناکامی وہ سوچ ہے جو عورت کی پوری زندگی کو صرف “بیٹا پیدا کرنے” تک محدود کر دیتی ہے۔ ایک عورت کوئی مشین نہیں جس سے مرضی کے مطابق نتائج حاصل کیے جائیں۔ وہ بھی احساس رکھتی ہے، خواب رکھتی ہے، درد محسوس کرتی ہے۔
عائشہ کی کہانی ایک سوال چھوڑ جاتی ہے۔آخر ایک عورت کب اپنی زندگی خود جینے کا حق حاصل کرے گی؟
Latest Posts
