جب روحانیت ڈھونگ بن جائے:فطرت، وقار اور مذہب کی گم شدہ حقیقت

عبدالجبار سلہری ، جویا شریف
کسی نے چودہ برس سے اپنا ہاتھ نیچے نہیں کیا۔ کسی نے بتیس سال سے غسل تک نہیں کیا۔ کسی کے سر کے بال پاؤں تک جا پہنچے ہیں۔ کوئی مکمل برہنہ رہتا ہے اور لباس کے بجائے اپنے جسم پر راکھ مَلے پھرتا ہے۔ کوئی بے شمار مالائیں گلے میں ڈالے ہوئے ہے۔ کسی نے چہرے پر طرح طرح کے رنگ مل کر اپنے آپ کو بھوت کی شکل دے رکھی ہے۔ کوئی کانٹوں پر لیٹتا اور بیٹھتا ہے، مگر دعویٰ یہ ہے کہ کانٹے اسے چبھتے نہیں۔ کسی نے اپنے سر پر گیہوں اور چنے کی فصل اگا رکھی ہے۔ کوئی بیس بیس کلو وزنی چابیاں ہر وقت گلے میں لٹکائے پھرتا ہے۔ کوئی اپنے والدین کا چہرہ دیکھنے اور ان سے ملنے تک سے گریزاں ہے۔ کسی نے اپنی رضا و رغبت سے خود کو نامرد بنا لیا ہے۔ کسی نے انسانی کھوپڑیوں کی مالا بنا کر گلے میں ڈال رکھی ہے۔ کوئی شیشے کے ٹکڑے چبا چبا کر نگل جاتا ہے۔
آخر یہ تماشا کیا ہے؟ یہ کیسا مذہب ہے؟ کیسا ڈھونگ، کیسا کرتب اور کیسا پاکھنڈ؟
انسان جب فطرت سے دور ہو جاتا ہے، تو پھر اس کی عقل عجیب و غریب راستوں پر بھٹکنے لگتی ہے۔ وہ سادگی کو چھوڑ کر تصنع اختیار کرتا ہے، حقیقت سے منہ موڑ کر کرتب بازی کو روحانیت سمجھنے لگتا ہے، اور پھر عبادت کے نام پر ایسے ایسے اعمال ایجاد کرتا ہے جنہیں دیکھ کر عقلِ سلیم بھی شرما جائے۔ اللہ رب العزت نے انسان کو نہایت حسین، متوازن اور باوقار بنایا تھا۔قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا فرمایا۔“
(سورۃ التین، آیت: 4)
یہ آیت صرف انسان کی جسمانی ساخت کی خوب صورتی بیان نہیں کرتی بل کہ اس کی فطرت، مزاج، عقل اور اعتدال کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ انسان کو اس لیے پیدا نہیں کیا گیا تھا کہ وہ خود کو اذیتوں، عجیب حرکات اور مصنوعی ریاضتوں کے سپرد کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے عزت بخشی، وقار عطا کیا، شعور دیا، اور ایک متوازن ضابطۂ حیات بھی عطا فرمایا؛ مگر افسوس! انسان کو نہ اللہ کا بنایا ہوا انسان پسند آیا، نہ اس کا عطا کردہ نظامِ زندگی۔ وہ اپنی خواہشات کے مطابق مذہب بھی گھڑنا چاہتا ہے اور اپنی پسند کے مطابق عبادت بھی۔
برادرانِ وطن کا ایک بڑا میلہ سہیون شریف میں سجا ہوا ہے۔ وہاں طرح طرح کے کرتب، عجیب و غریب حرکتیں اور مذہب کے نام پر حیرت انگیز تماشے دکھائے جا رہے ہیں۔ ایک سے ایک بابا، جوگی، سادھو اور مجذوب وہاں موجود ہیں۔ ہر شخص اپنی الگ پہچان بنانے اور دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے نئی سے نئی حرکت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔کوئی جسم پر زنجیریں لپیٹے ہوئے ہے، کوئی آگ کے قریب بیٹھ کر خود کو ”روحانی طاقت“ کا حامل ثابت کر رہا ہے، کوئی برسوں کی غلاظت اور بدبو کو ترکِ دنیا کا عنوان دے رہا ہے، اور کوئی انسانیت سے دور ہو کر اسے عبادت کا درجہ دے رہا ہے۔ اگر کوئی صاحبِ عقل و شعور مذہب کے نام پر ہونے والی ان حرکات کو دیکھے، تو وہ مذہب ہی سے بدظن ہونے لگے۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آیا واقعی مذہب انسان کو یہی تعلیم دیتا ہے؟ کیا خدا تک پہنچنے کا راستہ یہی ہے کہ انسان اپنی فطرت مسخ کر لے؟ اپنے جسم کو عذاب میں مبتلا کرے؟ اپنی شکل و صورت کو بگاڑ دے؟ یا پھر انسانی وقار کو روند ڈالے؟
حقیقت یہ ہے کہ جب مذہب علم سے خالی ہو جائے، تو وہ جلد ہی رسموں، کہانیوں، توہمات اور ڈھونگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پھر عقل کی جگہ اندھی عقیدت لے لیتی ہے، اور دلیل کے بجائے کرتب بازی کو تقدس کا لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ! ہم مسلمان ہیں، اور ہمارا دین اسلام ہے۔ اسلام وہ دین ہے جو انسان کو فطرت کے قریب لاتا ہے، نہ کہ فطرت سے دور۔اسلام انسان کو وقار دیتا ہے، ذلت نہیں۔ صفائی دیتا ہے، گندگی نہیں۔ حیا دیتا ہے، بے حیائی نہیں۔ اعتدال دیتا ہے، انتہا پسندی نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”پاکیزگی نصف ایمان ہے۔“
( صحیح مسلم، جلد: 1، صفحہ: 140، حدیث نمبر: 223)
سوچیے! ایک طرف وہ لوگ ہیں جو برسوں نہانے کو ”روحانیت“ سمجھتے ہیں، اور دوسری طرف اسلام ہے جو صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔اسلام نے انسان کو لباس پہننے، ستر ڈھانپنے اور حیا اختیار کرنے کا حکم دیا۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”اے اولادِ آدم! ہم نے تمہارے لیے ایسا لباس اتارا جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپاتا ہے اور موجبِ زینت بھی ہے۔“
— سورۃ الأعراف، آیت: 26
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔“
( صحیح البخاری، جلد: 1، صفحہ: 16، حدیث نمبر: 9)
اسلام نے انسان کو دنیا چھوڑنے، خود کو اذیت دینے یا جسمانی تکالیف میں مبتلا کرنے کا حکم نہیں دیا بل کہ اسلام نے رہبانیت کی نفی کی۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ چند صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عبادت میں شدت اختیار کرنے کا ارادہ کیا۔ کسی نے کہا: میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا۔ کسی نے کہا: میں ساری رات نماز پڑھوں گا۔ کسی نے کہا: میں عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں، مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں۔“
( صحیح البخاری، جلد: 7، صفحہ: 2، حدیث نمبر: 5063)
اسلام نے انسان کو اس کی طاقت اور استطاعت کے مطابق مکلف بنایا۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
”اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا۔“
( سورۃ البقرۃ، آیت: 286)
یہی وجہ ہے کہ اسلام میں وہ تمام اعمال ناپسندیدہ قرار دیے گئے جو انسانی فطرت کو توڑ دیں، جسمانی نقصان کا سبب بنیں، یا انسان کو معاشرے سے کاٹ دیں۔اسلام معاشرے میں رہنے، والدین کے حقوق ادا کرنے، خاندان بنانے اور نسلِ انسانی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا درس دیتا ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا:
”محبت کرنے والی اور زیادہ اولاد جننے والی عورتوں سے نکاح کرو، کیونکہ میں تمہاری کثرت پر دوسری امتوں کے مقابلے میں فخر کروں گا۔“
( سنن أبي داود، جلد: 2، صفحہ: 220، حدیث نمبر: 2050)
اسلام اپنے ماننے والوں کو زندگی سے بھاگنے کا نہیں، بل کہ زندگی کو اللہ کی اطاعت کے ساتھ گزارنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام میں عبادت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی شکل بگاڑ لے، جسم کو اذیت دے، یا خود کو معاشرے کے لیے عجوبہ بنا لے۔
بدقسمتی سے جب جہالت مذہب کا لباس پہن لیتی ہے، تو پھر ایسے ہی تماشے جنم لیتے ہیں۔ لوگ اصل عبادت چھوڑ کر ظاہری کرتبوں کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیں۔ کسی کے نزدیک لمبے بال ولایت کی نشانی بن جاتے ہیں، کسی کے نزدیک گندگی تقدس کہلاتی ہے، اور کسی کے نزدیک خود کو اذیت دینا قربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے حالاں کہ نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی اعتدال، نظافت، وقار اور حسنِ اخلاق کا نمونہ تھی۔ آپ ﷺ خوشبو استعمال فرماتے، بال سنوارتے، لباس صاف رکھتے، مسواک فرماتے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی نظافت کی تعلیم دیتے تھے۔
شمائل الترمذي میں نبی کریم ﷺ کے مبارک اخلاق، لباس، طرزِ نشست و برخاست اور پاکیزگی کے متعدد ابواب موجود ہیں، جو اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اسلام انسان کو مہذب، پاکیزہ اور متوازن بنانا چاہتا ہے، نہ کہ عجیب الخلقت اور معاشرے کے لیے تماشا۔ تاہم اس تمام منظرنامے کا دوسرا رخ بھی نہایت اہم ہے۔ صرف دوسروں پر تنقید کر دینا کافی نہیں۔ہمیں اپنے اندر بھی احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آج لوگ باطل رسوم، خود ساختہ عقائد اور بے بنیاد توہمات میں مبتلا ہیں، تو اس میں کہیں نہ کہیں ہماری غفلت بھی شامل ہے۔ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم ان بھٹکے ہوئے انسانوں تک دینِ حق کا پیغام پہنچاتے، انہیں اسلام کی پاکیزہ تعلیمات سے روشناس کراتے، اور ان کے سامنے اسلام کے اس روشن، معتدل اور فطری چہرے کو پیش کرتے جو دلوں کو مسخر کر لیتا ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلائیے۔“(سورۃ النحل، آیت: 125)
دعوت کا مطلب صرف مناظرے جیتنا نہیں ہوتا بل کہ دل جیتنا بھی ہوتا ہے۔ اسلام تلوار سے پہلے کردار سے پھیلا۔ مسلمان تاجروں کے اخلاق، صوفیائے حق کی دعوت، اور اہلِ علم کی حکمت نے لوگوں کے دل بدلے۔اگر آج بھی ہم اخلاص، علم، حلم اور حسنِ اخلاق کے ساتھ میدان میں اتریں، تو بہت سے بھٹکے ہوئے انسان حق کو قبول کر سکتے ہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ پہلے ہم خود اسلام کو صحیح معنوں میں سمجھیں اور اس پر عمل کریں کیوں کہ صرف زبان سے اسلام کی برتری بیان کرنا کافی نہیں، بلکہ کردار سے اسلام کی تصویر بننا ضروری ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج بہت سے مسلمان خود بھی دین کے اصل مزاج سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ کہیں شخصیت پرستی ہے، کہیں فرقہ واریت، کہیں رسموں کا غلبہ، کہیں جہالت کا راج، اور کہیں دین کو صرف ظاہری نعروں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر دوسرے لوگ اسلام کو سمجھنے میں غلطی کریں، تو ہمیں صرف ان پر نہیں، خود اپنے طرزِ عمل پر بھی غور کرنا چاہیے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسلام کو اس کی اصل صورت میں دنیا کے سامنے پیش کریں؛ ایسا اسلام جو علم و حکمت کا دین ہے، صفائی و طہارت کا دین ہے، عقل و فطرت کا دین ہے، رحمت و انسانیت کا دین ہے، اور ایسا دین ہے جو انسان کو تماشہ نہیں، انسان بناتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ جب مذہب انسان کو انسانیت، وقار، صفائی، حیا، اعتدال اور خیر خواہی سے دور لے جائے، تو پھر وہ دین کم اور ڈھونگ زیادہ محسوس ہونے لگتا ہے۔الحمدللہ!اسلام ان تمام مصنوعی پردوں سے پاک، روشن اور فطری دین ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow