از قلم:ڈاکٹر راحت نوید
میرا دل چاہتا ہے کہ میں بہت بڑا سا محل بناؤں۔ جس میں مخملیں پردے نرم وگداز دیوان نیچے خوبصورت قالین شفاف فوارے ہر سو سبزہ رنگین تتلیاں چہکتی ہوئیں، مہکتے ہوئے انواع واقسام کے پھول باہر گیراج میں لگزری کار اور بہت ساری خواہشوں کے انبار پھرفرمائشی پروگرام کی تعمیل لازم ہے۔ یہ دنیا اور اس کی چکا چوند کر دینے والی رنگینیاں انسان کو ایسا گھما کر رکھ دیتی ہیں کہ انسان اپنی ذات کے ساتھ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اس کا مقصد حیات کیا ہے؟ اور ہمارے ہر عمل کی جواب دہی بھی ہونی ہے۔ اس بستر پر کل کسی اور نے سونا ہے۔میرا گھر صرف میرا ہی نہیں رہے گا بلکہ یہ کسی اور کا ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ میرے پیارے رشتےبھی مجھے بھول جائیں گے۔ حیرت ہے ہماری عمر چاہے کچھ بھی ہو ہم بڑےلمبے منصوبے بنا کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے اپنوں کو دفن کر کے بھول جاتے ہیں کہ ہم نے بھی رخصت ہونا ہے۔ اچانک کسی بھی لمحے ہمیں بھی اس سفر پر روانہ ہونا پڑے گا۔ دنیا کے سفر کے لیے چاہے وہ دو دن کا ہی کیوں نہ ہو۔ہم دوا،جوتے، میک اپ، جیولری، موسم کے مطابق لباس اور کھانے کی چیزیں وغیرہ ساتھ رکھتے ہیں۔ اس سفر کے وقت کا پتہ نہ ہونے کے باوجود ہم لمبی تان کر خواب غفلت میں مگن ہیں کہ مجھے تو ابھی جینا ہی جینا ہے۔واقعہ سوات مینگورہ کی مثال ہمارے سامنے ہے نہ جانے کتنی محبتوں کے ساتھ پیارے رشتوں کو تیار کر کے قہقہوں کی گونج میں تفریح کر نے پہنچے تھے۔ ابھی ان کی آنکھوں میں معصوم سپنے سجے تھے۔ لاڈ نخرے امید اور کامیابی کے زینے چڑھنے کی تمنا بیٹیوں کے اچھے نصیب کی خواہش لئے سب کچھ ہی اک لمحے میں ختم۔سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں۔ اپنے ہر لمحے کو ایسے سمجھیں کہ اگر اس وقت رب نے بلا لیا تو میرے پاس زاد راہ کیا ہے؟ غور کریں؟ اس سے پہلے کے بلاوا آ جائے۔
Latest Posts
