از قلم: بریرہ اشتیاق
ترجمہ:”جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہی آخرت کے منکر ہیں۔“
(سورۃ اعراف (7) آیت 45)
اللّٰہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے والے،رکاوٹ ڈالنے والے کون لوگ ہیں؟
یہ کافر،آخرت کے منکر ،نبیوں اور کتابوں کے منکر لوگ۔قرآن تو انہی لوگوں کو اللّٰہ کی راہ سے روکنے کا ذریعہ بتاتا ہے لیکن آج مسلمان ہاں مسلمان اللّٰہ اور رسول،قرآن اور آخرت کو ماننے کے باوجود اللّہ کی راہ سے روکنے والے بن گئے ہیں۔ قرآن نے تو ایسے لوگوں کو منکر کہا ہے لیکن آج کا مسلمان بھی اس وعید میں شامل ہے۔پچھلی اُمتوں کے کافروں اور منکروں کا طرزِ عمل کیا تھا؟کہ جب کوئی نبی کی بات سننے کے لئے،اللّٰہ پر ایمان لانے کے لیے چلتا تو یہ کافر اُسے روک دیتے۔ کبھی جبراً ہاتھ کے ذریعے کبھی زبان کے وار سے۔جو ماتحت ہوتے انہیں مار پیٹ کے پابندیاں لگا کر روک دیتے اور جو ماتحت نہ ہوتے انہیں الفاظ کے ذریعے دل خراب کر کے واپس کر دیتے۔
آج ہمارا معاشرہ ان منکروں کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔کوئی دین کی راہ پر چلنے کی کوشش کرے تو اس کے سربراہ اس کے لیے فرعون بن جاتے ہیں۔اُسکے خاندان والے،اُسکے دوست مشرکینِ مکہ بن کر اُس پے طنز کرتے اور ہنستے ہیں۔مسلمان تو وہ تھے جو ایک حدیث سننے کے لیے مہینوں سفر کیا کرتے۔جو اپنی اولادوں کو دین کے نام پر وقف کر دیتے لیکن آج کا مسلمان دین کو عام کیا کرے،دین پر عمل کیا کے اُلٹا دین سے روکنے کا سبب بن رہا ہے۔آج اگر دینی تعلیم کا نام لیا جائے،دین سیکھنے یا سیکھانے کی کوشش کی جائے،شرعی پردہ کرنا چاہے تو ماتحت لوگوں پر جبراً پابندیاں لگا کر روک دیا جاتا ہے اور اگر کوئی اس راہ پر نکل پڑے تو ہر موڑ پر اُسے ایسے طنز و طعنہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ بددل ہو کر واپس لوٹ جاتا ہے۔
خدارا حق کا ساتھ دینے والے بنیں۔اگر ایسے الفاظ نہی کہ سکتے کہ کسی کی حو صلہ افزائی ہو تو ایسے الفاظ بھی نہ کہیں کہ کسی کی دل شکنی ہو اور وہ دین کی راہ چھوڑ دے۔دین سے دور کرنے کا سبب نہ بنیں ۔خود کو اس وعید میں شامل نہ کریں۔دینی ادارے ہوں یا محفلیں،کتابیں ہوں یا بیانات،کوئی دین سکھانے والا ہو یا دین کے نعرے بلند کرنے والا،کوئی سڑکوں پر نکل کر دین کے لیے آواز اٹھا رہا ہے یا کوئی دین سیکھا نے کے لیے انٹر نیٹ کا سہارا لے رہا ہے،چاہے کوئی کسی بھی طریقے سے دین کی افزائش کر رہا ہے اُسکا ساتھ دیں۔اس دور میں اگر کوئی دین کے لیے دوڑ دھوپ کر رہا ہے تو وہ قابلِ تعریف ہے نہ کہ قابلِ اعتراض۔اگر آپکا ایک جملہ کسی کو دین سے دور کرنے کا سبب بن گیا تو خود کو منکروں کی صف میں شامل کر کے اس وعید کا حق دار سمجھ لیجیے۔
Latest Posts
