از قلم: حفصہ زنیر
وہ فجر کی نماز کے بعد چہل قدمی کرتا اداسی کے عالم میں دریا کی طرف نکل گیا تھا۔صبح کی تازہ ہوا میں اسے ایک سکون اور لطافت محسوس ہور ہی تھی۔ دریا کنارے ایک مٹی کے ٹیلے پر اسے ایک ملنگ بابا بیٹھا نظر آیا وہ اس کی دوسری جانب بیٹھ گیا۔
ملنگ سے اس نے اس کی طرف دیکھے بغیر سوال کیا کہ ”آہ زیادہ خطرناک ہوتی ہے یا بددعا؟“
ملنگ بابا نے سوال سنتے ہی دھیرے سے سر اٹھایا، آنکھوں میں ایک گہری روشنی تھی۔ اس نے ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر دریا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ: ”یہ سوال تمہارے دل کے دکھ سے نکلا ہے، یا کسی دماغی تدبیر سے؟“
وہ شخص حیرت میں پڑ گیا،مگر سنبھل کر بولا: ”یہ سوال اس لیے کیا کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ انسان کے الفاظ یا اس کے دل کا درد، کس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔“
ملنگ بابا ہلکے سے مسکرایا اور زمین سے ایک مٹی کا ذرہ اٹھا کر ہوا میں اچھالتے ہوئے بولا:
”آہ دل سے نکلتی ہے اور سیدھی عرش تک جاتی ہے۔ یہ خاموش ہوتی ہے، مگر اثر میں طوفان جیسی۔ آہ کا تعلق انسان کی بے بسی سے ہے، اور بے بس کی فریاد کبھی رد نہیں ہوتی۔“
پھر وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا، جیسے الفاظ تلاش کر رہا ہو۔ اس نے مڑ کر اسے دیکھا اور کہا: ”بددعا زبان سے نکلتی ہے، اور اکثر جذبات کے غصے یا دکھ سے بھری ہوتی ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر بددعا قبول ہو۔ بددعا دینے والے کا دل اگر بغض اور کینے سے بھرپور ہو تو اس کا اثر کمزور پڑ جاتا ہے۔“
وہ شخص دم بخود سن رہا تھا۔ ملنگ نے دریا کی لہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:”یہ لہریں دیکھ رہے ہو؟ آہ ان لہروں کی طرح ہوتی ہے، اپنی منزل کی طرف بڑھتی رہتی ہے، بغیر کسی رکاوٹ کے چاہے راستہ کتنا ہی کٹھن ہو۔ اور بددعا؟ وہ پتھر کی طرح ہے، جسے پھینکنے کے بعد بھنور پیدا ہوتا ہے، مگر وہ دیرپا نہیں ہوتا۔“
یہ کہہ کر ملنگ بابا چپ ہوگیا۔ وہ شخص حیرانی اور سکون کے عجیب امتزاج کے ساتھ اس کی باتوں کے معنی سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔ دریا کا بہاؤ اپنی روانی کے ساتھ جاری تھا، جیسے قدرت بھی اس گفتگو کی گواہی دے رہی ہے۔
Latest Posts
