شاہد نسیم چوہدری ٹارگٹ
دریا کی بے رحم موجیں، سنگ دل حکومت ایک گھر کا ماتم۔پہاڑوں میں بہتا ہوا دریائے سوات اپنی خوب صورتی، ٹھنڈی ہواؤں، اور نیلگوں پانی کی وجہ سے پاکستان کے مقبول ترین تفریحی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں ملک بھر سے لوگ سیر کے لیے اس طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ بچوں کی خوشیاں، بڑوں کے قہقہے اور قدرتی حسن کے جلوے سب کچھ خواب جیسا لگتا ہے لیکن خواب اگر خوف میں بدل جائے، اگر کوئی حسین دن قیامت میں ڈھل جائے تو؟
بچوں کے قہقہے گونج رہے تھے، والدین کی مسکراہٹوں میں سکون کا سایہ تھا، دریا سوات کے کنارے ایک خوش حال خاندان سیر و تفریح کے لیے آیا تھا۔پندرہ افراد پر مشتمل یہ قافلہ کسی سیر و تفریحی فلم کا منظر پیش کر رہا تھا۔ بچوں نے جوتے اتار کر پانی میں پاؤں ڈالا، بڑے بچوں نے سیلفیاں بنانا شروع کر دیں، ماؤں نے خوراکی بیگ کھول کر چپس، کولڈ ڈرنک، اور بریانی کے پیکٹ نکالنے شروع کیے۔ شاید اس وقت کسی کو بھی یہ احساس نہیں تھا کہ موت، موت نہیں لگتی، یہ تو کبھی کبھار دریا کی کسی بے خبر موج پر بھی سوار آ جاتی ہے۔
یہ خاندان دریا میں موجود چھوٹے سے ٹیلے پر چلا گیا،دریا میں اس جگہ کوئی خاص پانی نہیں تھا، لیکن دریائے سوات کی لہریں اُس دن کچھ تیز ہوتی گئیں، مگر خطرے کی کوئی سرخ جھنڈی نہیں تھی۔ کسی نے نہ روکا، نہ ٹوکا، نہ کسی نے خبردار کیا۔ دریا کی یہ خاموشی، اس کی پرانی چالاکی تھی۔ وہ مسکراہٹوں کو دیکھتا رہا، بچوں کی ہنسی کو سنتا رہا اور پھر اچانک وہ لمحہ آیا۔ جس لمحے نے پورے خاندان کی ہنسی ہمیشہ کے لیے چھین لی۔یک دم سے دریا کا پانی اُبل پڑا اوپر پہاڑوں سے آنے والا طوفانی ریلہ کچھ ہی لمحوں میں کنارے پر کھڑے لوگوں کو لپیٹ میں لے گیا۔ پہلے چیخیں آئیں، پھر بھاگ دوڑ، پھر ہاتھوں کی بے بس لہریں، پھر بچوں کی کانپتی چیخیں، اور آخر میں صرف پانی۔۔۔ اور سکوت۔ یہ خاندان ٹیلے پر ہی کھڑا رہا، پانی کی بپھری موجیں دریا میں بڑھتی رہیں،یہاں تک کہ ٹیلے پر بھی پانی چڑھ گیا۔بدقسمت خاندان کے 15 افراد،مدد کے لئے پکارتے حسرت کی تصویر بنے رہے،کہتے ہیں بچہ ڈر جائے تو ماں کی گود میں چھپ جاتا ہے۔ وہ گود جس میں وہ خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ وہ گود جو دنیا کی ہر مصیبت سے اسے بچا لیتی ہے۔ لیکن اُس دن وہ مائیں خود بےبس تھیں۔ ایک ماں نے اپنے دو بچوں کو بازوؤں میں سمیٹا، مگر پانی کی قوت بازو سے زیادہ تھی۔ وہ چیخی، فریاد کی، شاید اُس نے اللہ کے حضور سجدہ بھی کیا ہو، مگر پانی نے سجدہ قبول نہ کیا۔ اور ایک ایک کر کے اُس کے بچے اس کی بانہوں سے چھوٹ کر لہروں میں گم ہوتے چلے گئے۔
باپ۔۔۔وہ جو زندگی کی ہر لڑائی اپنے بچوں کے لیے لڑتا ہے۔ وہ جو اپنی نیند، اپنے خواب، اپنے آرام کو اولاد پر قربان کر دیتا ہے۔ اُس دن وہ بھی کچھ نہ کر سکا۔ وہ بس ہاتھ پھیلائے، آنکھوں میں آنسو لیے، ایک ایک کو ڈوبتا دیکھتا رہا۔ شاید اُس نے بھی دل میں دُعا کی ہو: ”یا رب! مجھے لے لے، میرے بچوں کو بچا لے۔“ مگر دریا کی منطق، قدرت کا قانون کچھ اور تھا۔
پندرہ افراد،ایک ہی خاندان کے ایک ایک کر کے ڈوب گئے۔نہ وہ آخری الوداعی بوسہ جس سے ماں بچے کی پیشانی کو چوم کر اسے سفرِ آخرت پر روانہ کرتی ہے۔ ذرا سوچیے! وہ آخری لمحہ کیسا ہو گا جب ماں نے بچے کی آنکھوں میں دیکھا ہو گا؟ کیا اُمید کی کوئی کرن وہاں چمکی ہو گی؟ کیا بچہ پکارا ہو گا: ”امی بچا لو!“
کیا باپ چیخا ہو گا: ”بیٹا! ہاتھ پکڑ لو!“ اور جب ہاتھ چھوٹا ہو گا تو کیا دل بھی ٹوٹا ہو گا؟
ایسے حادثات ہمیں بے بس، ناتواں اور خالی ہاتھ کر دیتے ہیں۔ انسان کو اپنی کم مائیگی کا احساس دلاتے ہیں۔ دنیا کی سیر کو نکلنے والے لوگ کیسے موت کی وادی میں اتر جاتے ہیں، اس کا اندازہ اُن لوگوں سے پوچھیں جنہوں نے دریا کے کنارے لاشیں تلاش کرتے ہوئے لہریں ٹٹولیں، یا اُن ماں باپ سے جو کپڑوں کے نشان سے اپنے بچوں کی شناخت کرتے ہیں۔یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں، یہ انسانیت کا نوحہ ہے۔ایک ایسا منظرنامہ جو ہر سننے والے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔جہاں خوشیوں کے قافلے پل بھر میں جنازوں کے جلوس بن جاتے ہیں۔ جہاں سیلفیوں کے کیمرے، لاشوں کی ویڈیوز بنانے لگتے ہیں۔ہمیں سوچنا ہو گا کہ کیا ہماری انتظامیہ کو خبر نہیں تھی کہ دریا کا پانی بڑھنے والا ہے؟ کیا سیر و تفریح کے مقامات پر خطرے کی وارننگ دینا حکومت کا فرض نہیں؟ کیا مقامی لوگوں نے خبردار کیا؟ اگر ہاں، تو سیر کرنے والے اس طرف کیوں گئے؟ اگر نہیں، تو کس کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ہم نے ان حادثات سے کچھ سیکھا؟
ہم بحیثیت معاشرہ کب سمجھیں گے کہ دریا، پہاڑ، برفانی راستے، یہ سب خوب صورت ضرور ہوتے ہیں، مگر ان کی فطرت میں خطرہ چھپا ہوتا ہے۔ ہم کب اپنے بچوں کو سیر کے ساتھ ساتھ احتیاط سکھائیں گے؟ کب ہم اُن تفریحی لمحات میں سنجیدگی شامل کریں گے جن کا اختتام آج اس خاندان کی طرح قیامت پر ہوا؟
ایک لمحے کے لیے رکیں، اور اپنی آنکھیں بند کر کے اُس ماں کی جگہ خود کو رکھیں۔جس کی آنکھوں کے سامنے اُس کا بچہ ہاتھ پھیلائے مدد مانگتا رہا، مگر وہ کچھ نہ کر سکی۔ ذرا اُس باپ کی حالت محسوس کریں، جس کے سہارے کی ڈوریاں ایک ایک کر کے ہاتھ سے نکلتی چلی گئیں۔ کیا یہ تصور ہی کافی نہیں کہ روح کانپ جائے؟ تو سوچیں اُس خاندان پر کیا گزری ہو گی؟
ایک سوال رہ جاتا ہے: کیا بچ جانے والے کبھی دوبارہ جی پائیں گے؟ کیا وہ ماں، جو دو بیٹوں کو کھو چکی ہے، زندگی کی طرف واپس لوٹ پائے گی؟ کیا وہ باپ، جو پندرہ افراد کا سربراہ تھا اور اب اکیلا رہ گیا، اپنی آنکھوں کی نیند واپس لا پائے گا؟ کیا بہن، جو اپنے بھائی کو آوازیں دیتی رہی، وہ آوازیں کبھی خاموش ہوں گی؟ شاید نہیں۔
دریا کی موجیں اپنی زبان نہیں رکھتیں، مگر وہ ہر سال سینکڑوں کہانیاں اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہیں۔ آج یہ کہانی ایک خاندان کی ہے، کل شاید کسی اور کی ہو۔ اس سے پہلے کہ کوئی اور ماں، کوئی اور باپ، کسی اور بچے کو کھوئے۔ ہمیں جاگنا ہو گا، بولنا ہو گا، حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کرنا ہو گا کیونکہ حادثے تو بےخبری سے جنم لیتے ہیں اور اس بےخبری کی قیمت۔زندگی ہوتی ہے۔ڈسکہ کے خاندان پر جو قیامت ٹوٹی ہے،اسے بیان کرتے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے، دل انتہائی رنجیدہ ہے۔آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا:
”خدا ہر کسی کو اُس لمحے سے بچائے، جب اپنوں کو بچاتے بچاتے اپنے ہی ہاتھ خالی رہ جائیں۔“
سوات میں پیش آنے والا یہ سانحہ کوئی اچانک آفت نہیں تھی، بلکہ مسلسل حکومتی غفلت، بے حسی، اور مجرمانہ لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔اگر ہزاروں میل دور بیٹھے لوگ سوشل میڈیا پر یہ سارا واقعہ لمحہ بہ لمحہ دیکھتے رہے، تو کیوں نہ چند میل کے فاصلے پر کے پی کے گورنمنٹ کو خبر نہ ہوئی۔پی ٹی آئی نے بارہ سال اس صوبے پر حکمرانی کی، لیکن نہ کوئی حفاظتی نظام دیا، نہ کوئی وارننگ سسٹم، نہ ریسکیو کا مستحکم انفراسٹرکچر۔ وزیر اعلی علی امین گنڈا پور اور ان کی ٹیم صرف خواب خرگوش میں مصروف رہے جبکہ دریا میں پورا خاندان ایک ایک کر کے مرتا رہا، اور انتظامیہ سوشل میڈیا پر تماشہ دیکھتی رہی۔وہ زندگیاں جو بچائی جا سکتی تھیں، وہ سب آپ کی ناکامی کا ماتم بن گئیں۔وہ لاشیں جو وقت پر نکالی جا سکتی تھیں۔ آپ کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔خیبرپختونخوا حکومت کے ہاتھ اب صرف معذرتیں نہیں، خون سے رنگے ہوئے ہاتھ ہیں ان کے۔ اس غفلت کا حساب عوام لیں گے اور ضرور لیں گے۔
Latest Posts
