از قلم : افشاں بنت مشتاق
اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے اس صدی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے۔ اس نے کس قوم کو للکارا ہے؟ وہ قوم جس کے دل سے یادِ کربلا نہ نکلی، جس کی یاد داشت سے شہادتِ حسینؓ نہ نکلی۔ وہ قوم جو آج بھی کربلا میں شہید ہونے والوں کے غم پر ماتم کرتی ہے۔ جو قوم اپنی تاریخ کو سینے سے لگا کر رکھتی ہے وہ قوم نہ تو کسی کے آگے جھکتی ہے نہ بکتی ہے۔
اگر ہم ہم تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں پر نظر ڈالیں تو وہ روحانی اور جسمانی طور پر کمزور نظر آتے ہیں جب کہ ایران کے خلیفہ و اعلیٰ قیادت آیت اللّٰہ خامنہ ای ایک طاقتور حکمران اور بہادر سپہ سالار کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، انہوں نے کوئی سودے بازی نہیں کی۔ محترم و بزرگ قائد نے زندگی کا مقصد کربلا کو زندہ و جاوید رکھنا بنالیا ہے۔
ایران نے یہ ثابت کردیا کہ وہ نسلاً حسینی ہیں۔ یزید کو منہ توڑ جواب دینا جانتے ہیں۔ اسلام کے سچے پیروکار، عقائد پر سختی سے عمل کرنے والےہیں۔ مرد تو مرد عورتیں بھی اپنا تن من دھن اسلام کی بقا پر فنا کرنے والی ہیں۔ یہ وہ مائیں ہیں جو اپنے بچوں کو خود کفن پہنا کر میدان جہاد میں اتارتی ہیں۔ آج دنیا ایک اور کربلا دیکھ رہی ہے۔ آج پھر حسینیت زندہ ہوئی ہے۔ آج پھر یزید کو منہ کی کھانی پڑے گی (ان شاءاللہ)۔ آج پھر خلیفہ وقت نے امت کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ پوری امت مسلمہ کے سر فخر سے بلند کرنے پر آیت اللّٰہ خمینی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ آپ نے مولانا محمد علی جوہر کے شعر کی تفسیر عملاً پیش کردی۔
؎ قتل حسین ؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
Latest Posts
