از قلم :ذیشان افضل
اگست کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک عددی مقام نہیں رکھتا ہے بل کہ یہ احساس، شعور اور قربانی کی علامت ہے۔ ہر سال جب یہ مہینہ آتا ہے تو دل میں ایک عجیب سی لہر دوڑتی ہے۔ سبز ہلالی پرچم ہر طرف لہراتا نظر آتا ہے۔دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔قومی نغمے فضا میں گونجتے ہیں۔اسکولوں میں تقاریر، کوئز اور ملی نغموں کی گونج سنائی دیتی ہے۔
کیا ہم نےکبھی ایک لمحہ کے لیے بھی سوچا کہ کہیں یہ جشن محض ایک رسم تو نہیں بن گیا؟
اگست ہمیں یاد دلاتا ہے ان عظیم لوگوں کی جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنے لہو سے تاریخ لکھی تھی۔ ان کے خوابوں میں ایک ایسا ملک تھا جہاں مسلمان اپنے دین، تہذیب، زبان اور شناخت کے مطابق زندگی گزار سکیں گے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا لیکن آج جب ہم اپنے اطراف دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اس آزادی کی قدر کھو دی ہے۔ ہم نے آزادی کو صرف ایک چھٹی کا دن بنا دیا ہے۔ ہم نے قومی پرچم کو صرف گاڑیوں کی زینت بنا دیا ہے اور حب الوطنی کو صرف سوشل میڈیا کی پوسٹس تک محدود کر دیا ہے۔کیا ہم نے کبھی سوچا یہ مہینہ ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟
اگست کا مہینہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم رک کر خود سے سوال کریں:
کیا ہم اپنے وطن سے حقیقت میں اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی ہماری باتوں میں نظر آتی ہے؟
کیا ہم اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں؟
کیا ہم وہ پاکستان بنا رہے ہیں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور قائد اعظم نے جدوجہد سے حاصل کیا؟
اگست کا مہینہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ صرف آزادی حاصل کر لینا کافی نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کو برقرار رکھنا اور اس کے مقاصد کو پورا کرنا اصل امتحان ہوتا ہے۔ قربانی صرف میدان جنگ میں جان دینا نہیں ہے بل کہ اپنے کردار، رویے اور عمل سے اپنی سرزمین کا حق ادا کرنا بھی ایک مسلسل قربانی ہے۔ہم میں سے ہر ایک پر ذمہ داری ہے۔ ایک طالب علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ علم حاصل کرےاور اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرے۔ ایک استاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کو محض نصاب نہیں، بلکہ سچائی، دیانت داری اور حب الوطنی کا درس دے۔ ایک تاجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایمان داری سے کاروبار کرے، ملاوٹ سے بچے اور اپنے حصے کا ٹیکس ادا کرے۔ ایک عام شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کا احترام کرے، صفائی کا خیال رکھے اور اختلاف کے باوجود اپنے وطن سے محبت کا دامن نہ چھوڑے۔آزادی کا اصل مفہوم یہی ہے کہ ہم آزاد ہو کر اپنی اجتماعی اور انفرادی ذمہ داریوں کو خوش دلی سے نبھائیں۔ ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ ہمیں اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف جھنڈے لہرانا نہیں سکھانا بل کہ یہ بھی سکھانا ہے کہ اس جھنڈے کی قیمت کیا ہے۔ ہمیں یہ سکھانا ہے کہ وطن کی محبت نعرے لگانے میں نہیں کردار میں جھلکتی ہے۔ اگر ہم نے آج بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو وہ خواب جو لاکھوں قربانیوں کے بعد شرمندہ تعبیر ہوا تھا وہ کہیں ماضی کی دھند میں کھو نہ جائے۔آزادی صرف نعمت نہیں بلکہ ایک امانت ہے اور امانت کا حق ادا کرنا ہر قوم کی اصل پہچان ہوتا ہے۔
Latest Posts
عالمی برادری کی چین اور امریکا کے صدور کی ملاقات پر گہری توجہچینی صدر کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں استقبالیہ ضیافتچین-افغانستان-پاکستان یوتھ کرکٹ دوستانہ تبادلے کی تقریب کا ہانگ چو میں انعقادچینی صدر اور امریکی صدر ٹرمپ کا ٹیمپل آف ہیون کا دورہچین امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات باہمی فائدے اور جیت جیت پر مبنی ہیں، چینی صدر
