بے حسی،حادثات پرتماشائی کیوں؟

ملک ثاقب شاد تنولی
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں انسانوں کی موجودگی تو ہے مگر انسانیت کا وجود کمزور پڑتا جا رہا ہے۔سڑک پر اگر کوئی حادثہ ہو جائے، کوئی زخمی تڑپتا ہوا مدد کا منتظر ہو، تو لوگ فوراً مدد کے لیے دوڑنے کے بجائے تماشائی بن جاتے ہیں۔ کچھ لوگ محض دیکھتے ہیں، کچھ ویڈیوز بناتے ہیں، اور کچھ بحث کرتے ہیں کہ قصور کس کا تھا — لیکن متاثرہ شخص کی مدد کو شاید ہی کوئی آگے بڑھے۔ یہ بے حسی ایک وقتی رویہ نہیں بل کہ ایک اجتماعی بیماری بنتی جا رہی ہے، جو ہمارے معاشرتی اور اخلاقی نظام میں گہرے نقائص کی عکاسی کرتی ہے۔
اس رویے کے پیچھے کئی اسباب ہیں، جنہیں سمجھنا بہت ضروری ہے تاکہ ہم اس سماجی برائی کا حل تلاش کر سکیں۔ سب سے پہلے، اکثر افراد کو یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر ہم نے کسی زخمی کو اسپتال پہنچایا، تو پولیس یا عدالت کے چکر میں نہ پھنس جائیں۔ قانونی پیچیدگیوں اور انتظامی دشواریوں کا یہ خوف واقعی کسی حد تک جواز رکھتا ہے، مگر یہ سوچ کہ اس خوف کی وجہ سے انسانیت کی مدد چھوڑ دی جائے، انتہائی افسوس ناک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قوانین ایسے ہوں جو مدد کرنے والے کو تحفظ دیں تاکہ لوگ بلا خوف اپنے فرض کو ادا کر سکیں۔دوسرا بڑا سبب سوشل میڈیا کا عروج ہے، جہاں ہر چیز کو “ریکارڈ” کرنا یا منظر عام پر لانا اہم ہو گیا ہے۔ حادثات یا ہنگامی صورتحال کے دوران لوگ ویڈیوز بناتے ہیں، تصاویر کھینچتے ہیں اور انہیں فوراً شیئر کر دیتے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کلچر ہمارے ہمدردی کے جذبے کو کمزور کر رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ مدد کرنے کے بجائے تماشائی بن کر صرف مناظر کو شیئر کریں، جس سے متاثرین کی پرائیویسی اور عزت نفس بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہ بات ہر فرد کو سمجھنی ہوگی کہ حقیقی انسانیت کا مطلب ہے بلا کسی مفاد کے دوسروں کی مدد کرنا، نہ کہ صرف دکھاوے کے لیے عمل کرنا۔.ہماری تربیت میں بھی ایک بڑا خلا ہے۔ ہمیں بچپن سے سکھایا جانا چاہیے کہ کسی اجنبی کی مدد کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔ بدقسمتی سے، آج کے دور میں ہم اپنی مصروفیت، خوف یا لاپرواہی کی وجہ سے دوسروں کی مدد سے گریز کرتے ہیں۔ معاشرتی رویے بھی بعض اوقات افراد کو مدد سے روک دیتے ہیں، جیسے یہ دوسروں کا مسئلہ ہے، کسی اور کو بلاؤ، یا یہ سب کسی کی چالاکی ہے، کی سوچ۔ ایسے خیالات ہمارے معاشرے کو ایک دوسرے سے دور کر رہے ہیں اور خودغرضی کو فروغ دے رہے ہیں۔بے حسی کی یہ صورتحال صرف انسانیت کی ناکامی نہیں بل کہ ایک اخلاقی انحطاط ہے۔ یہ ان بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے جن پر ہمارا معاشرہ قائم ہے۔ انسانیت کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ مشکل وقت میں ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں نہ کہ نظارے کا حصہ۔ حادثات کے موقع پر مدد کرنا نہ صرف ایک اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ یہ ہماری مذہبی تعلیمات کا بھی حصہ ہے۔ اسلام میں انسان کی جان کی حفاظت کو بہت بلند مقام حاصل ہے اور کسی کی جان بچانا سب سے بڑی نیکی قرار پایا ہے..اس مسئلے کا حل صرف قانون سازی یا میڈیا کی اصلاح نہیں بل کہ ہمارے سماجی اور اخلاقی شعور میں تبدیلی ہے۔ ہمیں اپنی عادات بدلنی ہوں گی اور دوسروں کی مدد کو اپنا فریضہ سمجھنا ہوگا۔ اسکولوں اور گھروں میں اخلاقی تربیت کو ترجیح دینی ہوگی تاکہ بچے چھوٹے سے ہی دوسروں کے درد کو محسوس کرنا سیکھیں۔عوامی سطح پر بھی مختلف مہمات اور ورکشاپس کے ذریعے شعور اجاگر کیا جا سکتا ہے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ حادثات پر تماشائی بننے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، بل کہ حقیقی انسانیت تبھی زندہ رہتی ہے جب ہم مشکلات میں ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔قانونی ادارے مدد کرنے والوں کو تحفظ دیں اور ایسے قوانین بنائیں جو مدد کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں نہ کہ خوف زدہ کریں۔آخر میں، یہ کالم ایک سوال چھوڑتا ہے جو ہر فرد سے خود سے پوچھا جانا چاہیے اگر آپ خود سڑک پر زخمی پڑے ہوں، کیا آپ چاہیں گے کہ کوئی آپ کی مدد کرے یا صرف ویڈیو بنائے؟
جواب یقیناً مدد کرنا ہوگا۔ ہمیں اسی سوچ کو اپنے دلوں میں جگہ دینی ہوگی تاکہ ہم نہ صرف ایک بہتر انسان بن سکیں بل کہ ایک بہتر معاشرہ بھی تشکیل دے سکیں۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow