نصیر احمد بھلی ( سیالکوٹ)
ہم اپنے بچوں کی تعلیمی میدان میں حاصل کی گئی کامیابی تو بڑے ذوق و شوق اور فخر سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر پیش کرتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے پھرتے ہیں لیکن اگر وہی بچے تعلیمی میدان میں کوئی نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکیں یا خدا نخواستہ فیل ہو جائیں تو ہم منہ چھپاتے پھرتے ہیں کہ کوئی ہم سے ہمارے بچوں کے بارے پوچھ نہ لے اور ہم کیا بتائیں گے کہ ہمارا بچہ یا بچی فیل ہو گئے ہیں۔معزز قارئین محترم!
کیا اس رسم و رواج کو ختم نہیں ہونا چاہیے؟ ٹھیک ہے بچہ یا بچی کسی بھی وجہ سے تعلیمی میدان میں ناکام ہو گئے، کامیاب نہیں ہو سکے تو کیا والدین پہلے کلاس لگائیں گے، ڈانٹ ڈپٹ سے بڑھتے ہوئے گالم گلوچ کریں گے،ماریں پیٹیں گے؟ پھر چار بندوں میں ذلیل کریں گے؟ پھر ہر چھوٹی چھوٹی بات پے ہر وقت طنعہ دیتے اور طنز کرتے رہیں گے؟
اسی دنیا میں جی ہاں اسی دنیا میں بہت سے لوگ تعلیمی میدان میں ناکام ہونے کے باجود بھی زندگی کے میدان میں کامیاب رہے اور انھوں نے اپنا آپ منوایا بلکہ اپنا لوہا منوایا۔
بچہ اگر تعلیمی میدان میں ناکام ہو گیا ہے یا بار بار ناکام ہو رہا ہے تو اس کی وجوہات کو تلاش کریں اور ان باتوں کا سدباب کریں۔ بچے میں کوئی دماغی جسمانی کمزوی ہےاسے دور کرنے میں اس کی مدد کریں۔اس کے معاون بنیں،اس کی بری دوستی یاریاں ہیں تو ان کو چھڑوائیں۔کسی بری لت میں پڑ گیا ہے تو اسے ختم کریں۔
سب سے اہم بات یہ کہ بچے کے ناکام ہونے میں والدین اپنی کمی کوتاہی کو بھی دیکھیں کہ ان سے کب کہاں پہ کیا کمی کوتاہی ہوئی جس کی وجہ سے بچہ ہاتھ سے نکل گیا یا تعلیمی میدان میں ناکام ہو گیا۔ اس کی ناکامی کو قبول کریں اور اسے بھی ناکامی قبول کرنا سکھائیں اسے کہیں کہ اپنی اس ناکامی کو کامیابی بناؤ۔ کوئی بھی کامیاب انسان پہلی مرتبہ میں کامیاب انسان نہیں بن جاتا۔ وہ بے شمار ناکامیوں سے گزرتے ہوئے ناکامیوں کو سیڑھی بناتے ہوئے کامیابی کی منازل طے کرتا ہے،اس لیے دل مت چھوٹا کرو۔دل مت ہارو، اگلی بار تم کامیاب ہوجاؤ گے۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں پھر سے محنت کرو اور کامیاب ہو کے دکھاؤ۔اگر بچے کا پڑھائی سے دل اچاٹ ہو گیا ہو تو اس سے اس کا شوق پوچھیں کہ وہ کیا بننا اور کیا کرنا یا سیکھنا چاہتا ہے پھر اس میں اس کی رہنمائی کریں اس کے شوق والے کام کو سیکھنے میں اس کی مدد کریں۔
ہمارےہاں تعلیمی امتحانات کا طالب علم پہ اتنا اور اس قدر دباؤ ہوتا ہےکہ کئی بچے امتحانات کے خوف کی وجہ سے بیمار ہو جاتے ہیں۔کچھ ناکامی کے ڈر سے اور والدین کی ڈانٹ ڈپٹ کے ڈر سے اپنے ساتھ کچھ کر لیتے ہیں۔گھر سے بھاگ جاتے ہیں۔کہیں چھپ جاتے ہیں یا خود کشی کر کے اپنی زندگی کا ہی خاتمہ کر لیتے ہیں۔بھارت اور پاکستان میں ایسے بہت سے کیسز سامنے آئے کہ بچوں نے امتحانات میں فیل ہونے اور والدین کے برا بھلا کہنے کے ڈر سے خود کشی تک کر لی۔ ایک بار کی ناکامی پہ اسے قبول کرنا سیکھیں اور اپنے بچے کو بھی ناکامی سے کیسے گزرنا ہے اور ناکامی کا کیسے سامنا کرنا ہے اور کیسے اس کو کامیابی میں بدلنا ہے اس بارے میں راہ نمائی کریں اور اگر وہ تعلیمی اور زندگی کے میدان میں بار بار ناکام ہو رہا ہے تو اسے بتائیں کہ بیٹا تم اشرف المخلوقات میں سے ہو اور یہ دنیا بنائی ہی تمہارے لیے گئی ہے۔ٹھیک ہے تم ناکام ہو رہے ہو پر ہمیشہ ناکام رہو گے ایسا نہیں ہو سکتا۔ تم کامیاب ہو گے بس ہمت، لگن اور نئے جذبے سے پھر سے اٹھ کھڑے ہو اور مجھے تم پہ یقین ہے کہ تم کامیاب ہو جاؤ گے، تم یہ کام کر لو گے، یہ امتحان پاس کر لو گے۔ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ہماری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔
ہم والدین کو اپنے بچوں پہ یقین کرنا چاہیے اور انہیں یقین دلانا چاہیے کہ ہمیں تم پہ یقین ہے تم ایک دن جیتو گے۔تم ایک دن کامیاب ہو کے رہو گے۔ والدین کا اس طرح سے اپنی اولاد پہ یقین کرنا اولاد کو بہت زیادہ حوصلہ دیتا ہے اور وہ کچھ نہ کرنے کی حالت میں ہو کے بھی بہت کچھ کر جاتے ہیں کیوں کہ انہیں والدین کے تعاون ہوتی ہے۔والدین کی دعائیں ان کے ساتھ ہوتی ہیں۔میں اپنے طالب علموں سے اکثر کہتا ہوں کہ اگر والدین اپنی اولاد کو نہیں جانیں، سمجھیں اور پہچانیں گے تو پھر کون ان کو سمجھے گا؟
میری تمام والدین سے گزارش ہے کہ اپنی اولاد کو جینا سکھائیں اور ناکامیوں کو ہرانا اور ان سے لڑنا سکھائیں اور دیکھنا ایک دن وہ جی جائیں گےایک دن کامیاب ہو جائیں گے۔ان شاءاللہ کیوں کہ ہمارے بچے ہی ہمارا اور ہمارے وطن عزیز کا مستقبل ہیں اور ہم والدین کا فرض ہے کہ ہم اپنا اور اپنے وطن پاکستان کا مستقبل اپنی محنت کوشش اور لگن سے تاب ناک بنائیں۔
Latest Posts
عالمی برادری کی چین اور امریکا کے صدور کی ملاقات پر گہری توجہچینی صدر کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں استقبالیہ ضیافتچین-افغانستان-پاکستان یوتھ کرکٹ دوستانہ تبادلے کی تقریب کا ہانگ چو میں انعقادچینی صدر اور امریکی صدر ٹرمپ کا ٹیمپل آف ہیون کا دورہچین امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات باہمی فائدے اور جیت جیت پر مبنی ہیں، چینی صدر
