اسلامی اقدار پر حملے، اور امت کی بے حسی

از قلم: ارم ثناء
آج ہم اس دور میں زندہ ہیں جس میں ایمان صرف باتوں میں رہ گیا ہے۔ایسے دور میں آج ہم سانس لے رہے ہیں جس میں بیٹی کی زبردستی شادی کر دی جاتی ہے، پسند کی شادی کرنے پر اس کو قتل کردیا جاتا ہے۔ہم اس دور میں زندہ ہیں جس میں بیٹے کو منہ پھٹ بنایا جاتا ہے، جس میں بیٹوں کو عورت کی عزت کرنا نہیں سکھائی جاتی بل کہ عورت کو صرف نوکرانی کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ آج اس دور میں زندہ ہیں جس میں نوجوان نسل اپنی خواہشات کے پیچھے اندھا دھند بھاگ رہی ہے جس میں نہ ہی بیٹی کو ماں باپ کی عزت کا خیال ہے اور نہ اپنی عصمت کا۔ جس دور میں بیٹا اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کسی کا بھی قتل کر دیتا ہے۔ غیر مسلم روز ایک نئے فتنے کو معاشرے میں لے کر آتے ہیں، ہماری نسل اندھا دھند ان کی تقلید کر رہی ہے، دشمن اسلام نے ہماری بیٹیوں کو بے حیا بنا دیا ہے۔غیر مسلموں نے ہماری بیٹیوں کو غیر محرموں کے آگے ناچنے پہ لگا دیا ہے، کافروں نے ہمارے بیٹوں کو عورتوں کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔انھوں نے ڈراموں، فحش ناولوں کے ذریعہ یہ نوجوان نسل کے ذہن میں بٹھا دیا ہے کہ عورت صرف وقتی راحت کا ذریعہ ہے حالاں کہ وہ ایک باعزت، باشعور اور مکمل شخصیت کی حامل ہے، جو احترام اور وقار کی مستحق ہے۔
مشرکوں نے لڑکوں کو جہاد سے ہٹانے کےلیے ان کے جذبات کو استعمال کیا، انہوں نے ایسا مواد پھیلایا معاشرے میں کہ اب نوجوان نسل کو پیار صرف غیر صنف میں نظر آتا ہے، اِن کو محبت، وفا، احساس، قدر یہ سب ان کو غیر محرم کی باتوں میں نظر آتا ہے۔ نوجوان نسل کو اس پیار کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا۔ افسوس اس بات پر نہیں ہے کہ انہوں نے فتنے پھیلائے ہیں، افسوس اس بات پر ہے کہ نوجوان نسل ان کی اندھا دھند تقلید کرتی ہے۔افسوس اس بات پر ہے کہ عورت نے اپنا مقام کھو دیا ہے، جہاں وہ عزت کے ساتھ کسی کی محرم بنتی تھی وہاں اب محبت کے نام پر محض دل کی تسکین کا ذریعہ بنتی ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ لڑکیوں نے اپنا آپ غیر محرموں کے سامنے پیش کردیا ہے۔ دکھ اس بات پر ہے کہ ان کے ماں باپ کو غیرت نہیں آتی ان کے ناچنے پر، ہاں پسند کی شادی کرنے پر غیرت ضرور آتی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ کہاں وہ وقت تھا جب ہماری قوم کے محافظ بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت کرتے تھے اور کہاں آج وہی ان کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ کہاں غیر مسلم عورت بھی خود کو ہمارے پاس محفوظ سمجھتی تھی اور آج کہاں خود مسلم بیٹیاں بھی غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ افسوس اس بات پر ہے کہ ہم نے اسلام کی تعلیمات کو چھوڑ کر دشمن اسلام کی پیروی شروع کردی ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ اس قوم کے محافظ، محافظوں کی ماؤں نے اپنا مقصد چھوڑ کر دنیا کے سامنے ناچنا شروع کر دیا ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ اس قوم کے بیٹوں نے تلوار کی بجائے موبائل کو ہاتھوں میں پکڑ لیا ہے ، افسوس اس بات پر ہے کہ آنے والی نسل کی تربیت قرآن کی بجائے ڈراموں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ بے حیائی کے اس طوفان پر ہم خاموش ہیں۔ افسوس اس بات ہے ہم اس طوفان پر بند باندھنے کے بجائے خود اس طوفان کو ہوا دے رہے ہیں۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow