عنوان: نظریہ پاکستان سے کھلا تضاد

افشاں ابراہیم
یوم پاکستان سے پہلے پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں ایک مقامی مسجد شہید کو کیا جانا کیا نظریہ پاکستان سے کھلا تضاد نہیں؟
پاکستان کا مطلب کیا؟
”لا لہ لا الله“
79سالوں سے کیا یہ پاکستان کے مطلب کا ہمیں چورن بیچا جارہا ہے؟ (نعوذ باللہ)
اسلامی جمہوریہ پاکستان جو ماؤں بہنوں کی عزتوں کی آباؤ اجداد کی جانوں کی قربانی دے کر ہم نے حاصل کیا تھا جس کے ذرے ذرے میں اس کے شہیدوں کا خون ہے، جس کے نظریہ کی بنیاد ہی دو قومی نظریہ اس لیے کہلاتا ہے کہ ہندو مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ہم ایک اسلامی ریاست اس لیے چاہتے تھے کہ مسلمان آزادی کے ساتھ اپنی اسلامی تعلیمات پر عمل کرسکیں اور دین اسلام کے تمام احکامات کی پیروی کرنے کے لیے کوئی پابندی نہ ہو یہ اسلام کی سربلندی میں ملت اسلامیہ کا اہم ستون ہو اور پوری دنیا کے آگے اسلام شرپسند عناصر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکار سکے کہ مسلمان دنیا کے کسی بھی خطے میں تنہا نہیں ہیں۔ پوری ملت اسلامیہ کی آواز اور للکار ہیں ہم لیکن گذشتہ سالوں میں غزہ کے مسلمانوں پر جو بربریت جاری ہے اور ہم خاموش تماشائی بنے ہیں۔ کشمیر کو اپنی شہہ رگ کہنے والے اپنی شہہ رگ کو کٹنے سے نہیں بچا رہے تو کیا ہم قیام پاکستان کے نظریے کو بھول بیٹھے ہیں؟
ایک طرف ہم ملت اسلامیہ کی آواز بننے کے بجائے کافروں کے ٹٹو بن کر چپ سادھے بیٹھے ہیں اور دوسری طرف اپنے ہی ملک میں دینی انتشار پھیلانے والے کام سرانجام دے رہے ہیں۔
گذشتہ روز اسلام آباد میں ایک مسجد کو راتوں رات شہید کرکے اس کا ملبہ بھی غائب کردیا گیا۔ اس واقعے کو سن کر تو قیام پاکستان سے پہلے کے حالات و واقعات نظروں کے سامنے گھومنے لگے جو ہمارے بزرگوں کی زبانی ہم نے سنے ہیں۔جس ملک کو ہم نے اسلام کے نام پہ حاصل کیا آج اسی ملک میں اس دین کی عبادت گاہیں محفوظ نہیں ہیں۔ ایسے میں کیسے ہم پاکستان کی آزادی کا جشن منا سکتے ہیں۔اس آزاد ملک میں نہ ہماری عبادت گاہیں محفوظ رہی ہیں نہ معصوم لوگوں کی جانیں۔ بے گناہ لوگوں کی زندگیاں تو پہلے ہی یہاں بے قدروقیمت ہوچکی ہیں لیکن مساجد کو شہید کرکے کیوں یہ منافق لوگ جو مسلمانوں کے بہروپ میں کفار کے ساتھی ہیں خدا کے قہر کو آواز دے رہے ہیں اور نظریے پاکستان کو مسخ کررہے ہیں۔
خدارا ہوش کے ناخن لیں اور خدا کے قہر سے ڈریں۔ ابھی بھی وقت ہے آئیں اپنے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے اور معافی کا دروازہ بھی بند ہوجائے۔
حکام بالا سے درخواست ہے ان احکامات پر غور کریں۔ شہید مسجد کو دوبارہ تعمیر کرکے مزید کسی ایسے شرانگیزی پھیلانے والے کام کو روکیں جو دینی اور ملکی احساسات کو مجروح کرنے کا باعث ہیں۔ جس سے ملک کی سالمیت کو خطرہ ہو اور ہمارے دینی احکامات کی بے حرمتی ہو اور لوگوں کے دلوں کی آزاری کر کے ان کو اشتعال دلانے کا باعث بنے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow