از قلم: زینب لغاری
تعلیم وہ خزانہ ہے جسے پا کر انسان شعور کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ انسان اس دنیا میں لا علم بھیجا گیا اور پھر علم کا حصول اس پر فرض قرار پایا۔ اس کا اصل مقصد اللہ کی معرفت حاصل کرنا، اپنی ذات کے پوشیدہ بھیدوں کو جاننا، کائنات میں بکھرے علم کو پہچاننا اور سب سے بڑھ کر اپنے مقصدِ تخلیق و حیات کو سمجھنا ہے۔
مگر پچھلی دو صدیوں کی تاریخ میں، خصوصاً برصغیر کے مسلمانوں پر انگریز کے تسلط نے تعلیمی ڈھانچے کو یکسر بدل دیا۔ جہاں پہلے دینی اور دنیوی علوم ایک ہی چھت تلے پڑھائے اور سکھائے جاتے تھے، وہاں مذہب اور دنیاوی تعلیم کو الگ الگ اداروں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس انقلابی تبدیلی نے مسلمانوں کے فکری و عملی معیار کو شدید نقصان پہنچایا۔ آج اس خطے میں جو زوال ہم دیکھتے ہیں، وہ اسی کا تسلسل ہے۔
آج ہمارے اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں زیادہ تر ڈگری کی دوڑ میں مصروف ہیں، جبکہ ہنر، کردار سازی اور تحقیقی ذہنیت کہیں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں ڈگری یافتہ افراد تو بہت مل جاتے ہیں، مگر باکردار، باصلاحیت، ہنرمند اور علمی شعور رکھنے والے لوگ کم نظر آتے ہیں۔
تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کا حصول نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ڈگری محض ایک کاغذی سند ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ آپ نے فلاں مضامین پڑھے ہیں۔ لیکن یہ کسی کی ضمانت نہیں کہ وہ مضامین حقیقی طور پر سمجھے بھی گئے یا اس میں مہارت بھی حاصل کی گئی؟ افسوس کہ آج ہمارے اداروں میں یہ پروا نہیں کی جاتی کہ طالب علم نے علم کو کس حد تک سمجھا ہے بل کہ زیادہ توجہ صرف نمبروں پر دی جاتی ہے، چاہے وہ نقل کے ذریعے آئیں یا سفارش سے۔ یہ معیار کسی بھی قوم کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔
حکمرانوں اور ماہرینِ تعلیم کو چاہیے کہ وہ تعلیمی معیار کو جدید، متوازن اور عملی زندگی سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مضبوط اقدامات کریں۔ ایک مضبوط تعلیمی نظام وہی ہے جس میں طلبہ کو محض ملازمت کے قابل نہیں بل کہ ایک باکردار، باشعور اور سماج کے لیے فائدہ مند شہری بننے کی تربیت دی جائے۔ تعلیمی ادارے وہ نرسریاں ہیں جہاں سے ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل، جج، پولیس آفیسر، فوجی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین تیار ہو کر نکلتے ہیں اور پھر معاشرے کی سمت متعین کرتے ہیں۔
لہٰذا، جیسا تعلیمی نظام ہوگا ویسا ہی معاشرہ وجود میں آئے گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ علم، اخلاق اور ترقی میں آگے بڑھے تو ہمیں تعلیم کا مقصد صرف ڈگری سے آگے بڑھا کر شعور، کردار اور خدمتِ خلق تک وسیع کرنا ہوگا۔
خلاصہ یہ ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف سند حاصل کرنا نہیں بل کہ ایسے انسان تیار کرنا ہے جو اپنی ذات کی اصلاح کریں، دوسروں کے خیرخواہ ہوں، معاشرے کی بھلائی میں اپنا کردار ادا کریں اور سب سے بڑھ کر اپنے رب کے فرماں بردار ہوں۔ یہی تعلیم کی اصل روح اور کامیابی کا معیار ہے۔
Latest Posts
عالمی برادری کی چین اور امریکا کے صدور کی ملاقات پر گہری توجہچینی صدر کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں استقبالیہ ضیافتچین-افغانستان-پاکستان یوتھ کرکٹ دوستانہ تبادلے کی تقریب کا ہانگ چو میں انعقادچینی صدر اور امریکی صدر ٹرمپ کا ٹیمپل آف ہیون کا دورہچین امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات باہمی فائدے اور جیت جیت پر مبنی ہیں، چینی صدر
