آج کے دور کے بچے اور استاد کی عزت

از قلم: سعدیہ افضل
انسانی معاشرے کی بنیاد علم اور تربیت پر رکھی جاتی ہے، اور ان دونوں کا اصل سرچشمہ استاد کی ذات ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں تیز رفتار تبدیلی آئی ہے اور اس تبدیلی نے تعلیم اور تعلیمی ماحول کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب استاد کو روحانی والد کہا جاتا تھا۔ شاگرد ان کے سامنے ادب سے کھڑے ہوتے اور ان کے ہر لفظ کو مشعلِ راہ سمجھتے تھے۔ استاد کی عزت معاشرے کے ہر فرد کے دل میں زندہ تھی۔
افسوس کہ آج کے دور میں یہ کیفیت باقی نہیں رہی۔ آج کے بچے استاد کے احترام میں کمی دکھاتے ہیں۔ کمرہ جماعت میں استاد کی بات کو سنجیدگی سے سننے کے بجائے اس پر بحث کرتے ہیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ نے بچوں کے ذہنوں میں یہ خیال بٹھا دیا ہے کہ وہ سب کچھ خود سیکھ سکتے ہیں حالاں کہ علم کا اصل ذائقہ اور کردار سازی استاد کے بغیر ممکن نہیں۔
اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ والدین کا رویہ بھی ہے۔ اگر والدین استاد کو محض ایک ملازم سمجھیں اور ان کے وقار کو گھٹائیں تو بچے بھی وہی رویہ اختیار کریں گے۔ دوسری طرف تعلیمی ادارے بھی استاد کو وہ مقام اور سہولت نہیں دیتے جو انہیں ملنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ استاد اور شاگرد کے درمیان عزت اور اعتماد کا رشتہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ استاد کی عزت دراصل علم کی عزت ہے۔ جب استاد کی قدر نہ کی جائے تو علم کی روشنی مدھم ہو جاتی ہے۔ آج کے بچوں پر لازم ہے کہ وہ استاد کی عزت کریں، ان کی رہنمائی کو خلوص سے قبول کریں اور سیکھے گئے علم کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
استاد کی قدر اور شاگرد کا مودب ہونا ہی کامیاب معاشرے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اگر ہم نے استاد کو ان کا اصل مقام دیا تو ہماری آنے والی نسلیں نہ صرف بہتر تعلیم پائیں گی بل کہ بہتر انسان بھی بن سکیں گی۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow