تحریر: خُبیب مشوانی
انسانی معاشروں میں اختلاف ایک فطری حقیقت ہے لیکن جب یہی اختلاف تعصب، گروہ بندی اور ضد میں ڈھل جائے تو وہ امت کے لیے زہرِ قاتل بن جاتا ہے۔ تاریخِ اسلام پر نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل دین کی بنیادوں پر امت ہمیشہ متفق رہی ہےاور یہی وہ مضبوط رسی ہے جسے تھام کر بکھری ہوئی امت کو جوڑا جا سکتا ہے۔ امام عمرو بن مرہؒ جیسے جلیل القدر آئمہ نے نہ صرف اس نکتہ کی وضاحت کی بلکہ عملی طور پر یہ دکھایا کہ اصل اتحاد کن اصولوں پر قائم ہے۔ یہی وہ فکر ہے جو آج بھی ہمیں فرقہ واریت اور اختلافِ محض میں فرق سکھاتی ہے۔
مسعر بن کدامؒ فرماتے ہیں:
ما أدركتُ من الناس مَن له عقل كعمرو بن مرة
”میں نے لوگوں میں عمرو بن مرہؒ جیسی فہم و بصیرت کسی میں نہیں دیکھی۔“
امام عمرو بن مرہؒ سے ایک دفعہ ایک سائل نے کہا:
إني رجلٌ دخلت في جميع هذه الأهواء، فما أدخل في هوى منها إلاَّ القرآن أدخلني فيه، ولم أخرج من هوى إلاَّ القرآن أخرجني منه، حتى بقيتُ ليس في يدي شيء
”میں وہ شخص ہوں جو ان سارے فرقوں میں داخل ہوا اور جب بھی کسی فرقے میں داخل ہوتا تو بذریعہ قرآن ہوتا اور میں کسی فرقے سے نکلتا تو بذریعہ قرآن ہی نکلتا، یہاں تک کہ اس مقام پر پہنچا ہوں کہ میرے پاس کچھ نہیں بچا ہے۔“
اس پر امام عمرو بن مرہؒ نے اس سائل سے کئی سوالات کیے:
۱۔ أرأيتَ ما اختلفوا فيه، هل اختلفوا في أن الله واحد؟
ذرا بتلائیں کہ وہ کس چیز پر اختلاف کرتے ہیں؟ کیا وہ اللہ کے ایک ہونے پر اختلاف کرتے ہیں؟
۲۔ هل اختلفوا في أنَّ محمداً رسول الله، وأنَّ ما أتى به من الله حقٌّ؟
کیا وہ اس بات پر اختلاف کرتے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور وہ جو کچھ لے کر آئے وہ حق ہے؟
۳۔ هل اختلفوا في القرآن أنه كلام الله؟
کیا وہ اس بات پر اختلاف کرتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے؟
۴۔ هل اختلفوا في دين الله أنه الإسلام؟
کیا وہ اس بات پر اختلاف کرتے ہیں کہ اللہ کا دین اسلام ہے؟
۵۔ هل اختلفوا في القبلة أنّها الكعبة؟
کیا وہ اس بات پر اختلاف کرتے ہیں کہ قبلہ بیت اللہ ہی ہے؟
۶۔ هل اختلفوا في الصلوات أنّها خمس؟
کیا وہ اس بات پر اختلاف کرتے ہیں کہ نمازیں پانچ ہیں؟
۷۔ هل اختلفوا في رمضان أنه شهرهم الذي يصومونه؟
کیا وہ رمضان کے متعلق اختلاف کرتے ہیں کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں روزے رکھے جاتے ہیں؟
۸۔ هل اختلفوا في الحج أنه إلى بيت الله الذي يحجونه؟
کیا وہ بیت اللہ کی طرف حج کے متعلق اختلاف کرتے ہیں کہ ان کو وہیں حج کرنا ہے؟
امام عمرو بن مرہؒ نے اس طرح کئی چیزیں گنوائیں اور سائل کا ان سب پر جواب نفی میں تھا۔
آخر میں امام عمرو بن مرہؒ نے فرمایا:
اس چیز کو تھام لو جس پر اللہ نے سب فرقوں کو جمع کردیا ہے۔
اس حکمت و بصیرت والے مکالمہ سے اندازہ لگائیے کہ اصل بنیادوں پر امت کا کوئی اختلاف نہیں۔ فرقہ واریت دراصل فروعی اور اجتہادی مسائل کو بڑھا چڑھا کر اصل دین کے برابر کر دینے کا نام ہے۔ اگر ہم ان بنیادی سچائیوں کو تھام لیں جن پر سب مسلمان متفق ہیں، تو اختلاف کبھی بھی تفرقہ نہیں بنے گا۔ آج امت کی بقا اسی میں ہے کہ ہم اختلاف کو علمی دائرے تک محدود رکھیں اور اس چیز کو مضبوطی سے تھام لیں جس پر اللہ تعالیٰ نے سب کو جمع کیا ہے۔ یہی اصل اتحاد ہے اور یہی قرآن و سنت کی روح ہے۔
[مسند ابن الجعد، صفحہ نمبر ۲۴، رقم: ٤٨، حكايات شعبة بن الحجاج، صفحہ نمبر ۱۴، رقم: ۱۳، أحسن التقاسيم في معرفة الأقاليم، صفحہ نمبر ۳۶۵-۳۶۶، كتاب الاعتقاد – عقيدة مروية عن الإمام الأعظم أبي حنيفة النعمان، صفحہ نمبر ۲۳۰-۲۳۳، رقم: ۱۳۰]
