تحریر : نواز علی فاروقی
انسانی شعور کی پیچیدگیوں میں سب سے بڑی گتھی “حقیقت” کے ادراک کی ہے۔ یہ لفظ بظاہر چھوٹا سہی، مگر اپنے اندر معانی کا ایک بحرِ بیکراں رکھتا ہے۔ ہم اپنی روزمرہ حیات میں جن اشیاء کو دیکھتے، سنتے، چھوتے، سونگھتے اور چکھتے ہیں، انہی کو اصل حقیقت سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ فلسفۂ وجود کی گہرائی میں یہ سب محض حواسِ خمسہ کا دھوکہ ہیں۔ حقیقت کا تعیّن صرف ظاہری آنکھ سے نہیں ہوتا بلکہ اس کی دریافت ایک ایسی بینائی چاہتی ہے جو نورِ الٰہی سے منور ہو۔ کائنات کے اسرار و رموز میں جھانکنے کے لیے عقل و خرد ناکافی ہیں جب تک وحی کی روشنی انسان کے دل و دماغ پر نہ پڑے۔ یہی وہ روشنی ہے جو مادی جال سے نکل کر غیب کی دائمی حقیقتوں تک رسائی دیتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کا انسان خود کو اپنے محدود مشاہدے اور ناقص تجربے تک مقید کر بیٹھا ہے۔ یہی سبب ہے کہ مایوسی، ناکامی اور پریشانی نے اسے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ اگر ہم حقیقت کی اس وسیع اور عمیق دنیا سے آشنا ہو جائیں تو شاید کائنات کی معنویت اور ہماری اپنی زندگی کا مفہوم ہمارے سامنے کھل کر آ جائے۔
ہمارے معاشرتی منظرنامے میں حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اکثر نوجوان آئیڈیلزم کی مصنوعی دنیا میں کھو جاتے ہیں۔ ہر دوسرا لڑکا خود کو ادب کا بابا اشفاق اور محبت کا رومیو گردانتا ہے، گویا فکر و فلسفہ کی معراج اس کی ذات پر ختم ہو گئی ہو۔ اسی طرح ہر دوسری لڑکی بانو قدسیہ اور ہیر کے قالب میں اپنے آپ کو ڈھال کر حقیقت کے صحراؤں میں خیالی نخلستان تلاش کرتی پھرتی ہے۔ یہ رجحان محض ادبی ذوق یا جذباتی رنگینیاں نہیں بلکہ ایک ایسے فکری انحراف کی علامت ہے جو انسان کو حقیقت کے اصل مفہوم سے محروم کر دیتا ہے۔ ہم ناولوں، افسانوں اور رومانی داستانوں کی دنیا میں اس قدر مدہوش ہیں کہ اپنی حقیقت سے فرار اختیار کر لیتے ہیں۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم وہ نہیں ہیں جو خود کو سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ کائنات کی وسعتیں اور انسانی وجود کی گہرائیاں محض خواب و خیال کی نہیں بلکہ ٹھوس حقیقت کی طلبگار ہیں۔ جب تک ہم مصنوعی آئیڈیلزم سے باہر نکل کر رئیلٹی کی زمین پر کھڑے نہیں ہوتے، اس وقت تک ہماری دانش محض سراب اور محبت محض نعرہ ہی رہے گی۔
حقیقت دراصل وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصل ہستی کو پہچانتا ہے۔ یہ نہ صرف عقل و ادراک کی محتاج ہے بلکہ روحانی بصیرت اور وحی کی رہنمائی بھی اس کے لوازم میں شامل ہیں۔ قرآنِ مجید بارہا یہ اعلان کرتا ہے کہ انسان کی بصارت اس وقت تک ناقص ہے جب تک وہ ایمان کی روشنی سے منور نہ ہو۔ مادی حواس ہمیں ایک سطحی دنیا دکھاتے ہیں، لیکن حقیقت کی جڑیں غیب کی دنیا میں پیوست ہیں۔ تسلیم و رضا کا مفہوم دراصل حقیقت کو قبول کرنا ہے۔ جو شخص تسلیم کے مقام تک پہنچ جاتا ہے، وہ شک و شبہ کے طوفانوں سے نکل کر یقین کے ساحل پر آ لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکابرینِ امت نے تسلیم کو سب سے بڑی نعمت کہا ہے۔ مگر ہماری قوم نے حقیقت کو جاننے کے بجائے خودساختہ تصوراتی کرداروں میں اپنے آپ کو الجھا لیا ہے۔ ہم نے حقیقت کی بجائے نمائشی شناختوں کو اپنایا، اپنی اصل ہستی کو پسِ پشت ڈال دیا اور غیر حقیقی خوابوں کو حقیقت کا قائم مقام بنا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دلوں میں سکون نہیں، دماغوں میں طمانیت نہیں اور معاشرے میں یکجہتی ناپید ہے۔
اگر ہم حقیقت کو اس کے اصل تناظر میں پہچان لیں تو زندگی کی ساری الجھنیں آسان ہو جائیں۔ یہ دنیا محض دکھاوا نہیں بلکہ امتحان گاہ ہے، جہاں ہر عمل کا حساب ہونا ہے۔ جب انسان تسلیم کے جذبے کے ساتھ حقیقت کو قبول کرتا ہے تو اس کی مایوسیاں امیدوں میں بدل جاتی ہیں، اداسیاں خوشیوں میں ڈھل جاتی ہیں اور ناکامیاں کامیابی کے زینے ثابت ہوتی ہیں۔ حقیقت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم وہ نہیں جو ہم نے خود کو سمجھ لیا ہے بلکہ ہم وہ ہیں جو اللہ نے ہمیں بنایا ہے۔ اگر قوم کے افراد حقیقت کے اصل مفہوم کو سمجھ لیں تو یقیناً ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں انقلاب آ سکتا ہے۔ مگر یہ تبھی ممکن ہے جب ہم آئیڈیلزم کی مصنوعی دنیا سے نکل کر اپنے وجود کی اصل حقیقت کا سامنا کرنے کو تیار ہوں۔ دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری آنکھوں سے غفلت کے پردے ہٹا دے اور ہمیں حقیقت کے آئینے میں اپنی اصل پہچان دکھا دے۔ یہی وہ لمحہ ہو گا جب ہم حقیقی خوشی، سکون اور کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں گے۔
