عدم برداشت

کالم نگار : بلال سعید
عدم برداشت… یہ وہ خنجر ہے جو روزانہ ہمارے رشتوں کے حلق پر چلتا ہے۔ بھائی بھائی کی بات نہیں سن پاتا، دوست معمولی اختلاف پر دشمن بن جاتے ہیں۔ معاشرہ ایسے انسانوں کا قبرستان ہے جنہیں مارنے والا کوئی دوسرا نہیں بلکہ دوسروں کے تلخ لہجے اور تنگ ظرفی کا زہر ہے۔
یہی عدم برداشت ہے جو گھروں میں چیختی خاموشیاں پیدا کرتا ہے۔ بچہ اپنی خواہش دباکر کتاب بند کر دیتا ہے، بیٹی اپنی سانس روک کر آنکھیں جھکا لیتی ہے، عورت اپنے خوابوں کو کفن پہنا دیتی ہے۔ لوگ کانپتے ہیں، ڈرتے ہیں، مگر زبان کھولنے کی ہمت نہیں کرتے۔ کیونکہ یہاں ہر بات پر خنجر نکالنے والے بیٹھے ہیں۔
یہاں برداشت کی قبر پر بڑے بڑے مذہبی، سیاسی اور سماجی خطبے پڑھے جاتے ہیں۔ ہر شخص دوسرے کو صبر کی تلقین کرتا ہے، لیکن اپنے ہی کان برداشت نہیں کر پاتے۔ مسجد کے دروازے پر ذرا سی دھکم پیل پر مکے چل پڑتے ہیں، عدالتوں میں انصاف کی دہائیاں گولیوں سے دبا دی جاتی ہیں، اور گھروں کے دسترخوان پر نوالے تلخیوں کے ساتھ نگلے جاتے ہیں۔
عدم برداشت نے ہمیں جیتے جی مردہ بنا دیا ہے۔ زبان ذرا اونچی ہوئی تو قتل، نظریہ ذرا الگ نکلا تو واجب القتل، محبت ذرا مختلف ہوئی تو بے غیرتی کا فتویٰ۔ یہاں اختلاف رائے جرم ہے، سوال گناہ ہے، اور خاموشی ہی زندہ رہنے کا واحد ہنر ہے۔ یہی عدم برداشت انسان کو اندر ہی اندر سڑاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے وجود سے ہی نفرت کرنے لگتا ہے۔
سچ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔ ذرا سا اختلاف چنگاری ہے اور ذرا سا سوال دھماکہ۔ اور ہم سب ایسے مردہ زندہ ہیں جو ہر وقت ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ برداشت ختم ہو چکی ہے، اور جہاں برداشت مر جائے وہاں رشتے، محبتیں اور انسانیت سب سڑ کر تعفن بن جاتی ہیں۔
یہ ہے ہمارے معاشرے کا اصل المیہ اب گھروں کی چار دیواری میں بھی سانس لینا مشکل ہے۔ ذرا سی بات پر لہجے خنجر بن جاتے ہیں، چھوٹے چھوٹے سوال آگ کے گولے بن جاتے ہیں۔ بیوی زبان کھولے تو شوہر کے ماتھے کی رگیں پھٹنے لگتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں برسوں کی ناراضگیوں کے تابوت میں دفن ہو جاتی ہیں۔ یہ گھروں کی اینٹوں پر جمی ہوئی سفاکی ہے—جہاں سکون مر چکا ہے اور انا کا بھوت ناچ رہا ہے۔
گلی کوچوں میں تو تماشہ اور بھی بھیانک ہے۔ حالیہ دنوں میں لاہور رائیونڈ کی سڑک پر کیلے بیچنے والا، جس کے ہاتھ میں چھلکے ہونے چاہییں تھے، اس نے جنجر تھام لیے۔ صرف دس روپے کی اڑچن پر اس نے دو بھائیوں کو لہو میں نہلا دیا۔ یہ ہے شہر کا انصاف، یہ ہے عدم برداشت کا جنازہ—جہاں انا دس روپے سے بڑی اور دو زندگیاں زمین کے ایک چھینٹے سے بھی سستی ہو جاتی ہیں۔ ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا، صرف لمحے بھر کی جھوٹی بڑائی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
مذہب بھی اب سکون کا مرہم نہیں، ذرا سا اختلاف ہو جائے تو مسجد کے منبر سے جہنم کے ٹکٹ بانٹے جاتے ہیں۔ ایک فرقہ دوسرے کو کافر کہنے میں دیر نہیں کرتا، اور سوال پوچھنے والا گستاخ ٹھہرتا ہے۔ ایمان اب برداشت سے ماپا نہیں جاتا، نفرت کے پیمانوں سے تولہ جاتا ہے۔ یہ وہ مذہب ہے جسے لوگ اپنی نفسیاتی خارش کو کھرچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور پھر خون بہا کر کہتے ہیں: “ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں۔”
اور یہ جو دوستیاں ہیں، یہ بھی اب کھوکھلے خول کے سوا کچھ نہیں۔ کسی کا لہجہ کسی کو برداشت نہیں، مذاق زہر بن گیا ہے۔ لوگ ہنسنے سے پہلے سو بار سوچتے ہیں کہ کہیں اگلا بھڑک نہ اٹھے۔ تنقید اب نشتر نہیں، گولی بن چکی ہے۔ برداشت کا جنازہ کندھوں پر ہے اور ہر کندھا دکھا رہا ہے کہ اصل میں ہم سب انا کے غلام ہیں۔
جہاں برداشت کی ضرورت ہے وہاں لوگ انا کی تلوار لہرا دیتے ہیں۔ جھوٹے روب جھاڑتے ہیں، اکڑتے ہیں جیسے دنیا کے بادشاہ ہوں، حالانکہ ان کی حقیقت یہ ہے کہ ٹکے کے بھی نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خالی برتن کی طرح ہیں—شور مچاتے ہیں مگر اندر سے کھوکھلے ہیں۔ ان کا نہ کوئی ہنر ہے نہ کوئی وژن، بس دکھاوا ہے، سفاکی ہے اور برداشت کی قبر پر کھڑا تماشا ہے۔
تلخ لہجے کو روک لو تو زندگی بچ سکتی ہے — مگر تمہارا غرور ایسا زہر بن چکا ہے کہ وہ ایک پل کی خاموشی برداشتی نہیں۔ تم فوراً غصے میں آدمی کو قاتل بنا دیتے ہو، رشتوں کو قبر بناتے ہو اور اپنی بزدلی کو بہادری کہہ کر سینے پر چسپاں کر لیتے ہو۔ یہ خاموشی نہیں، یہ تزویراتی قتل ہے — اور تم خود اس کا جلاد بن کر مسکراتے ہو۔
آئینہ توڑ دو اپنے اندر؛ جو چہرہ سامنے آئے وہ شاید تمہارا نہیں، بلکہ تمہاری انا کا خون چوسا ہوا بھوت ہوگا۔ ایک لفظ کا وار کتنے گھر اجاڑ دیتا ہے، تم نے دیکھا ہی نہیں؛ تم نے تو ہمیشہ اسی کمرے میں رہ کر یہ لڑائیاں جیتنے کی مشق کی ہے، جہاں ہنسی کی جگہ سہمے ہوئے فسانے رہ گئے ہیں۔ تمہاری طاقت اگر اتنی ہی ہے جتنی تم دعوی کرتے ہو تو ایک بار زبان کو زنجیر پہ لگا کے دکھا — دیکھو کتنے جنازے رک جائیں گے۔
صبر وہ تلوار ہے جو تمہارے ہاتھ میں جتنی خطرناک دکھتی ہے، اتنی ہی رحمت بھی ہے۔ صبر میں اک قوت ہے جو خون بہنے سے پہلے پل کو روک دے، انتقام کے قدم کو مفلوج کر دے اور رشتہ کو قبرستان سے نکال کر سانس دلائے۔ مگر تمہاری انا کہتی ہے: “زور دکھا، ماتھا ٹیکوا!” — اور اسی ماتھے پر ایک دن وہی خاک سجی لاش لکھا ہوگا: “یہاں ایک نفس دفن ہے — جو خود کو زندہ خیال کرتا تھا۔”
تو پھر فیصلہ کرو: یا غرور کی تلوار سے اپنے پیروں تلے زمین کھودتے رہو، یا ایک بار زبان کو تھام کر انسان بن کر رہو۔ ایک لمحے کی خاموشی کبھی کسی کی کمزوری نہیں ہوتی — یہ وہ وار ہے جو تمہاری بچی ہوئی انسانیت کو بچا لیتا ہے۔ اب انتخاب تمہارا ہے: خون کے چراغ جلانے ہیں یا رشتوں کی روشنی بحال رکھنی ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow