پاکستان کا کٹھن امتحان اور تزویراتی انتخاب

تحریر: محمد اسد ارشد
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے جس کی چنگاریاں اب محض لبنانی سرحدوں یا غزہ کی گلیوں تک محدود نہیں رہیں بل کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم کی صورت میں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ اس بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں پاکستان کی پوزیشن انتہائی حساس ہے۔ اسلام آباد کو ایک ایسے کٹھن تزویراتی مخمصے کا سامنا ہے، جہاں ایک جانب برادر اسلامی ملک اور ہمسایہ ایران ہے تو دوسری جانب سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور امریکہ کے ساتھ پیچیدہ معاشی و عسکری تعلقات کا توازن برقرار رکھنا ہے۔
تزویراتی توازن کا مسئلہ فروری دو ہزار چھبیس میں ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں اور ان کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت نے مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس سنگین صورت حال نے پاکستان کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنا مزید مشکل بنا دیا ہے اگرچہ پاکستان نے اصولی طور پر ان حملوں کی شدید مذمت کی ہےبلیکن خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال نے پاکستان کو اپنے دفاعی وعدوں کی یاد دہانی بھی کرائی ہے۔ سترہ ستمبر دو ہزار پچیس کو سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والا اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ پاکستان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں ریاض کے شانہ بشانہ کھڑا ہو۔
داخلی سلامتی اور سرحدی خطرات پاکستان کے لیے خطرات محض مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں بل کہ اس کے براہِ راست اثرات ملکی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ نو سو کلومیٹر طویل سرحد اور بلوچستان میں پنپنے والی علیحدگی پسند تحریکیں اس جنگ کے اثرات کو پاکستان منتقل کرنے کا سبب بن سکتی ہیں اگر ایران میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کا سب سے پہلا اور براہِ راست نشانہ پاکستان کی مغربی سرحد ہوگی۔ دوسری جانب افغانستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور مشرقی سرحد پر بھارت کے جارحانہ عزائم پاکستان کو ایک ایسے حصار میں جکڑ رہے ہیں جسے دفاعی ماہرین خدانخواستہ ویسل اسٹیٹ بنانے کی سازش قرار دے رہے ہیں۔
معیشت پر منڈلاتے بادل
علاوہ ازیں پاکستانی معیشت، جو پہلے ہی انتہائی دباؤ کا شکار ہے، اس عالمی بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں ممکنہ ہوشربا اضافہ اور آبنائے ہرمز میں سپلائی لائن کی ممکنہ بندش سے ملکی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ توانائی کا شدید بحران اور ترسیلاتِ زر میں کمی پاکستان کے لیے وہ معاشی ایٹم بم ثابت ہو سکتے ہیں جن کا مقابلہ کرنا کسی بھی حکومت کے لیے تقریباً ناممکن ہوگا۔
حرفِ آخر اس نازک موڑ پر پاکستان کی موجودہ قیادت اور پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس جنگ میں کسی ایک فریق کا آلہ کار بننا تزویراتی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ پاکستان کو خطے میں ایک جنگ جو کے بجائے سہولت کار کا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی ایٹمی صلاحیت، فوجی وقار اور سفارتی اثر و رسوخ کو کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔
وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ پاکستان سب سے پہلے پاکستان کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی سرحدوں کی حفاظت یقینی بنائے اور مشرقِ وسطیٰ کے اس الاؤ میں کودنے کے بجائے اپنے داخلی استحکام پر توجہ مرکوز کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بڑے ہاتھی لڑتے ہیں تو پاؤں تلے گھاس ہی روندی جاتی ہے۔ پاکستان اس وقت اسی میدان میں کھڑا ہے جہاں ایک معمولی سی تزویراتی غلطی دہائیوں کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow