قرآن میں نسوانی عظمت کے نقوش

تحریر: اخلاق احمد ساغر
انسانی تاریخ کے مختلف ادوار کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ عورت کا مقام ہر دور میں یکساں نہیں رہا۔ بعض معاشروں میں اسے عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا گیا جب کہ بعض تہذیبوں میں اسے محض ایک کمزور مخلوق یا معاشرتی بوجھ سمجھا گیا۔ اسلام کی آمد سے قبل عرب معاشرہ بھی ایسے ہی تضادات کا شکار تھا جہاں عورت کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں قرآن مجید کی روشن تعلیمات نے نہ صرف عورت کے مقام کو بلند کیا بلکہ اسے عزت، احترام اور حقوق کا وہ درجہ عطا کیا جو انسانی تاریخ میں ایک انقلابی تبدیلی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن نے عورت کو محض ایک فرد نہیں بلکہ معاشرے کی بنیاد قرار دیا اور اس کی عظمت کے ایسے نقوش ثبت کیے جو قیامت تک انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔
قرآن مجید نے عورت کو مرد کے مقابل کسی کمتر مخلوق کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے انسانی شرف و کرامت میں برابر کا شریک قرار دیا۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت و فضیلت کا معیار جنس نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں طور پر نیکی، عبادت اور اخلاقی ذمہ داریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس تعلیم نے یہ تصور ختم کر دیا کہ عورت محض معاشرتی تابع دار ہے بلکہ اسے ایک باوقار اور بااختیار شخصیت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
اسلامی تعلیمات میں عورت کے مختلف رشتوں کو نہایت احترام کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ماں کی حیثیت سے عورت کو وہ مقام عطا کیا گیا جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ قرآن مجید میں ماں کی مشقتوں اور قربانیوں کا ذکر کر کے اولاد کو اس کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔ اسی طرح بیٹی کو رحمت قرار دیا گیا اور اس کی پرورش کو باعثِ اجر و ثواب بتایا گیا۔ بہن اور بیوی کے رشتے میں بھی عورت کو محبت، احترام اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ قرآن کی یہ تعلیمات دراصل ایک متوازن اور مہذب معاشرے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں جہاں عورت کو عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
قرآن کریم میں بعض عظیم خواتین کے کردار کو خصوصی طور پر بیان کیا گیا ہے جو ایمان، صبر اور استقامت کی روشن مثالیں ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام حضرت مریمؑ کا ہے۔ قرآن نے ان کی پاکیزگی، عبادت گزاری اور اللہ پر کامل اعتماد کو ایک مثالی کردار کے طور پر پیش کیا ہے۔ حضرت مریمؑ کی شخصیت اس بات کی دلیل ہے کہ عورت روحانی بلندیوں تک پہنچنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی طرح حضرت آسیہؑ، جو فرعون جیسے ظالم حکمران کی زوجہ تھیں، قرآن میں ایمان و استقامت کی علامت کے طور پر بیان کی گئی ہیں۔ انھوں نے ظلم و جبر کے ماحول میں بھی حق کا ساتھ نہیں چھوڑا اور اللہ پر ایمان کی روشنی کو اپنے دل میں زندہ رکھا۔ قرآن کا ان کرداروں کو پیش کرنا اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عورت بھی ایمان اور کردار کی بلندیوں میں عظیم مثال بن سکتی ہے۔
اسلام نے عورت کو معاشرتی اور معاشی حقوق بھی عطا کیے جو اس سے پہلے بہت سے معاشروں میں موجود نہیں تھے۔ جاہلیت کے دور میں عورت کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا مگر قرآن نے اسے باقاعدہ وراثت کا حق دیا۔ اسی طرح نکاح کو عورت کی رضا مندی کے ساتھ مشروط کیا گیا تاکہ اس کی شخصیت اور آزادی کا احترام قائم رہے۔ تعلیم کے حصول کو بھی مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں اہمیت دی گئی۔ اس طرح اسلام نے عورت کو علم، عزت اور تحفظ کی وہ بنیاد فراہم کی جو ایک مہذب معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔
قرآنی تعلیمات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ عورت کو معاشرتی استحکام کا مرکز قرار دیتی ہیں۔ ایک صالح اور باکردار عورت نہ صرف ایک بہترین ماں ثابت ہوتی ہے بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر عورت کو اس کے حقیقی مقام اور حقوق کے ساتھ تسلیم کیا جائے تو معاشرے میں محبت، عدل اور توازن کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
جدید دور میں جب عورت کے حقوق کے بارے میں مختلف نظریات اور مباحث سامنے آتے ہیں تو قرآن کی تعلیمات ایک متوازن اور حکیمانہ رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ اگر معاشرے میں قرآن کے اصولوں کو صحیح معنوں میں اپنایا جائے تو عورت کو نہ صرف عزت اور تحفظ حاصل ہو سکتا ہے بلکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لا کر معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسلام عورت کی آزادی کو بے راہ روی نہیں بلکہ وقار، ذمہ داری اور احترام کے دائرے میں دیکھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید نے عورت کے مقام کو محض نظریاتی سطح پر بلند نہیں کیا بلکہ عملی زندگی میں اس کے حقوق اور احترام کو یقینی بنایا۔ قرآن کی تعلیمات ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ ایک مہذب اور متوازن معاشرہ اسی وقت وجود میں آ سکتا ہے جب عورت کو اس کی حقیقی عزت اور مقام دیا جائے۔ یہ تعلیمات دراصل انسانیت کے لیے ایک روشن راستہ ہیں جو عورت کے وقار، احترام اور تحفظ کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔
قرآن میں نسوانی عظمت کے نقوش نہایت واضح اور درخشاں ہیں۔ یہ نقوش ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ عورت معاشرے کی تعمیر و ترقی میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر ہم قرآن کی تعلیمات کو خلوصِ دل سے سمجھیں اور اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کریں تو یقیناً ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جہاں عورت عزت، احترام اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ قرآن کی یہی تعلیمات دراصل انسانیت کے لیے امید، عدل اور توازن کا پیغام ہیں۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow