
ذوالفقار ہمدم اعوان
اس صبح گاؤں کی فضا میں عجیب سی خاموشی تھی۔ سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا مگر کھیتوں پر ایک غیر مانوس دھند پھیلی ہوئی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے رات اپنے ادھورے خواب زمین پر چھوڑ گئی ہو۔ عبدالرحمن اپنے کھیت کے کنارے کھڑا مٹی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں مٹھی بھر خاک تھی جسے وہ آہستہ آہستہ انگلیوں سے پھسلنے دے رہا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا۔”زمین کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔” مگر آج زمین خاموش تھی۔
گاؤں کے دوسرے کسان بھی آہستہ آہستہ جمع ہونے لگے۔ دور کچی سڑک پر دھول کا بادل اٹھ رہا تھا۔ کسی نے کہا۔ “لگتا ہے شہر سے بڑے لوگ آ رہے ہیں۔” کچھ دیر بعد سیاہ گاڑیوں کا قافلہ گاؤں میں داخل ہوا۔ گاڑیوں کے آگے پیچھے وردی والے سپاہی تھے اور درمیان میں ایک چمکتی ہوئی گاڑی جس میں بیٹھا آدمی پورے ملک میں اپنی تقریروں کے لیے مشہور تھا۔ وہ آدمی گاڑی سے اترا تو اس کے ساتھ کیمرے، مائیکروفون اور نوٹ بکیں بھی اتر آئیں۔ اس نے گاؤں والوں کو دیکھا اور بلند آواز میں کہا۔”یہ زمین ترقی کا مرکز بنے گی۔ یہاں کارخانے بنیں گے، سڑکیں بنیں گی، شہر بنے گا۔ تم لوگ خوش قسمت ہو۔” گاؤں والے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔ عبدالرحمن نے آہستہ سے کہا: “اور ہمارے کھیت؟” آدمی نے مسکرا کر جواب دیا۔ “قوم کے مفاد میں کچھ قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔”
اس کے بعد تقریر شروع ہوگئی۔ الفاظ فضا میں اڑنے لگے جیسے کاغذ کے پرندے۔ “ترقی، ترقی، ترقی” مگر زمین کے اندر کہیں بیج خاموش پڑے تھے۔ اسی گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کا نام حمزہ تھا۔ حمزہ کی عمر صرف نو سال تھی۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی گہرائی تھی جیسے وہ اپنی عمر سے زیادہ دنیا دیکھ چکا ہو۔ اس کی ماں اکثر کہتی۔ “بیٹا، انسان کی سب سے بڑی دولت اس کا دل ہوتا ہے۔” مگر حمزہ کا دل اکثر بھوک سے دھڑکتا تھا۔ اس دن جب شہر کے لوگ چلے گئے تو گاؤں میں ایک اور خاموشی اتر آئی۔ اگلے ہفتے بلڈوزر آئے۔ کھیتوں کی ہری لہریں مٹی کے بادلوں میں بدلنے لگیں۔ عبدالرحمن روز کھیت کے کنارے کھڑا رہتا۔ وہ دیکھتا کہ جس زمین پر اس کے باپ اور دادا نے فصلیں اگائی تھیں وہ آہستہ آہستہ پتھر اور کنکریٹ میں بدل رہی ہے۔
ایک شام حمزہ اس کے پاس آیا۔ “چاچا، بیج کہاں جائیں گے؟” عبدالرحمن نے جواب دینے سے پہلے مٹی کو دیکھا۔ “بیج کہیں نہیں جاتے بیٹا۔ وہ انتظار کرتے ہیں۔” مہینے گزر گئے۔ کارخانے بن گئے، دیواریں اٹھ گئیں، سڑکیں چمکنے لگیں مگر گاؤں کے لوگ پہلے سے زیادہ غریب ہوگئے۔ کھیت ختم ہو گئے تو کام بھی ختم ہو گیا۔ ایک دن عدالت میں کیس لگا۔ گاؤں والوں نے زمین واپس مانگی۔ وکیلوں نے لمبی لمبی دلیلیں دیں۔ جج نے موٹی فائلوں کے صفحے پلٹے۔ سچ کہیں نیچے دب گیا۔ عبدالرحمن عدالت سے باہر نکلا تو اس کی آنکھوں میں عجیب سا سکون تھا۔ حمزہ نے پوچھا: “ہم ہار گئے؟” عبدالرحمن مسکرایا۔ “زمین کبھی نہیں ہارتی۔”
اسی رات ایک عجیب واقعہ ہوا۔ بارش شروع ہوگئی۔ پہلے ہلکی، پھر تیز۔ کارخانے کی دیواروں کے نیچے سے پانی بہنے لگا۔ مٹی نرم ہونے لگی۔ کہیں سے ایک ننھا سا سبز پتا زمین کو چیر کر باہر نکلا۔ پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ کچھ دنوں میں پوری زمین پر چھوٹے چھوٹے پودے اگ آئے۔ لوگ حیران تھے کہ یہ بیج کہاں سے آئے؟ عبدالرحمن خاموش کھڑا دیکھ رہا تھا۔ حمزہ نے خوشی سے کہا۔ “چاچا! زمین پھر ہری ہو رہی ہے!” عبدالرحمن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے آہستہ سے کہا۔ “بیٹا، زمین کو صرف ایک چیز یاد رہتی ہے۔ زندگی۔”
سال گزر گئے۔ وہ کارخانہ بند ہوگیا۔ دیواریں ٹوٹ گئیں۔ مگر زمین نے اپنی یاد نہیں چھوڑی۔ اب وہاں ایک نیا گاؤں آباد ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس گاؤں کے کھیتوں میں عجیب برکت ہے اور جب بھی شام ہوتی ہے تو ایک بوڑھا کسان بچوں کو ایک کہانی سناتا ہے: “طاقت شور مچا سکتی ہے، مگر روٹی ہمیشہ خاموشی میں اگتی ہے۔” اور بچے حیرت سے زمین کو دیکھتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ مٹی کے اندر واقعی کوئی راز چھپا ہے۔
ایک دن وہ بوڑھا کسان نہیں اٹھا۔ گاؤں والوں نے اسے اسی زمین میں دفن کر دیا جسے وہ زندگی بھر دیکھتا رہا تھا۔ حمزہ اب بڑا ہو چکا تھا۔ وہ قبر کے پاس کھڑا تھا۔ ہوا ہلکی ہلکی چل رہی تھی۔ کھیتوں میں گندم کی بالیاں لہرا رہی تھیں۔ حمزہ نے آہستہ سے کہا: “چاچا، آپ ٹھیک کہتے تھے۔ زمین کبھی نہیں ہارتی۔” اور اس کی آنکھوں سے آنسو مٹی میں گر گئے۔ کچھ مہینے بعد اسی جگہ ایک نیا پودا اگ آیا۔ جیسے زمین نے ایک اور وعدہ کر لیا ہو کہ جب تک بھوک باقی ہے، تب تک بیج بھی باقی رہیں گے۔
