شبِ وصل: مسرت کا وہ لمحہ جس نے وقت کی رفتار تھام لی۔

از قلم رائے ظہیر حسین کھرل۔
کائنات کے تضادات میں اگر ‘شبِ ہجر’ ایک طویل نوحہ ہے، تو ‘شبِ وصل’ اس کائنات کا سب سے خوبصورت نغمہ ہے۔ یہ وہ ساعت ہے جس کی تمنا میں انسان صدیاں گزار دیتا ہے اور جس کے ایک پل کی خاطر زندگی بھر کی ریاضتیں قربان کی جا سکتی ہیں۔ وصل محض دو وجودوں کا ملنا نہیں، بلکہ دو روحوں کے اس ادھورے پن کا خاتمہ ہے جو ہجر کی تپتی دھوپ میں جھلس رہی تھیں۔ اگر ہجر ایک صحرا ہے، تو وصل اس صحرا کے بیچ وہ نخلستان ہے جہاں پہنچ کر مسافر اپنی تمام تھکن بھول جاتا ہے۔ شبِ وصل کی اصل لذت اس تڑپ میں پنہاں ہے جو اس سے پہلے گزری ہو۔ جس نے ہجر کی کالی راتوں کا کرب نہیں سہا، وہ وصل کے اجالے کی قدر و قیمت سے ناواقف رہتا ہے۔ یہ وہ رات ہے جہاں کائنات کی تمام تر توانائیاں ایک مرکز پر سمٹ آتی ہیں۔ صوفیاء کے نزدیک وصال کی کیفیت ایک ایسی تجلی ہے جو انسانی خودی کو مٹا کر اسے بقا کے سمندر میں غرق کر دیتی ہے۔
جب طویل جدائی کے بعد ملاقات کی گھڑی آتی ہے، تو الفاظ اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ خاموشی سب سے زیادہ فصیح زبان بن جاتی ہے۔ آنکھیں وہ سب کہہ جاتی ہیں جو زبان کہنے سے قاصر رہتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب وقت کا پہیہ، جو ہجر میں رک گیا تھا، اب اتنی تیزی سے چلنے لگتا ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ کاش سورج طلوع ہونا بھول جائے اور یہ رات ازل تک محیط ہو جائے۔ اردو اور فارسی شاعری میں شبِ وصل کو ایک طلسماتی رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ کلاسیکی شعراء نے اسے “عید” سے تشبیہ دی ہے۔ غالب، مومن اور داغ کے ہاں وصل کی رات کے تذکرے نفسیاتی باریکیوں اور شوخیوں سے بھرپور ہیں۔ وصل کی رات میں ایک عجیب سی بے یقینی کی کیفیت بھی شامل ہوتی ہے۔ انسان کو بار بار یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ کوئی خواب ہے اور آنکھ کھلتے ہی پھر وہی تنہائی کا ستم شروع ہو جائے گا۔ یہی وہ “خوفِ سحر” ہے جو وصل کی رات کو ایک انوکھے درد سے آشنا کرتا ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے شبِ وصل انسانی اعصاب کے لیے ایک سکون کا باعث بنتی ہے۔ مہینوں اور سالوں کا ذہنی دباؤ، اداسی اور محرومی ایک دم سے اطمینان میں بدل جاتی ہے۔ یہ رات ایک نئی شروعات کا نام ہے۔ یہ عزمِ نو ہے کہ اب فاصلوں کو دوبارہ حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وصل کی رات میں جو عہد و پیمان کیے جاتے ہیں، وہ انسان کی ہمت کو مہمیز کرتے ہیں۔ اس رات کی روشنی صرف کمرے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ انسان کے پورے وجود کو منور کر دیتی ہے۔ آج کے دور میں، جہاں مادی فاصلے سمٹ گئے ہیں، وہاں “وصلِ قلبی” کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ محض جسمانی قربت وصل نہیں کہلاتی، بلکہ جب تک دو ذہن اور دو سوچیں ایک دوسرے میں ضم نہ ہو جائیں، وصل ادھورا رہتا ہے۔ شبِ وصل دراصل اپنی ذات کی تکمیل کا نام ہے۔
تصوف کی رو سے دیکھیں تو یہ رات اپنی ہستی کو مٹا دینے کی ایک جھلک ہے۔ جیسے قطرہ سمندر میں مل کر اپنی ہستی مٹا دیتا ہے اور خود سمندر بن جاتا ہے، ویسے ہی محب اپنے محبوب کے وجود میں گم ہو کر اپنی انفرادی پہچان سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ شبِ وصل ایک ایسی میٹھی یاد ہے جو انسان کے حافظے میں عمر بھر کے لیے نقش ہو جاتی ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جسے بڑھاپے کی تنہائیوں میں یاد کر کے انسان کے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ اگر زندگی ایک مسلسل جدوجہد ہے، تو وصل کی یہ رات اس جدوجہد کا انعام ہے۔ یہ رات ہمیں سکھاتی ہے کہ اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، اجالے کی ایک کرن تمام تر سیاہی کو مٹانے کے لیے کافی ہے۔ شبِ ہجر اگر صبر کا امتحان تھی، تو شبِ وصل شکر گزاری کی معراج ہے۔ یہ وہ جادوئی لمحہ ہے جہاں زمین اور آسمان ایک ہوتے محسوس ہوتے ہیں اور کائنات کا ہر ذرہ پکار اٹھتا ہے کہ محبت ہی وہ واحد حقیقت ہے جو لافانی ہے۔ اس رات کا ہر لمحہ قیمتی ہے، اسے لفظوں میں سمونا ممکن نہیں، اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ خوشبو ہے جو روح کی گہرائیوں میں بس جاتی ہے اور انسان کو زندگی کی تمام تر تلخیوں کے باوجود مسکرانے کا حوصلہ دیتی ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow