تحریر: آمینہ یونس ،سکردو بلتستان
کیا کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ کسی انسان کا حد سے زیادہ سنجیدہ رویہ بھی ایک بوجھ بن سکتا ہے؟
گھر کا سربراہ ہو یا کوئی قریبی فرد اگر وہ ہر وقت سنجیدگی اوڑھے رکھے تو یہ حساس دلوں کے لیے مشکل کا باعث بن جاتا ہے۔ایسا رویہ جب کسی کولیگ، شریکِ حیات، بہن بھائی یا دوست کی طرف سے ہو تو رشتے رفتہ رفتہ بوجھ بننے لگتے ہیں۔محبت میں نرمی ہنسی مذاق اور بے ساختگی کی گنجائش ختم ہو جائے تو رشتے سسکنے لگتے ہیں۔ہمیں کبھی کبھار خود کو بھی ٹٹولنا چاہیے یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہم اپنی سختی، سنجیدگی یا خاموشی سے کسی کو دُور تو نہیں کر رہے۔سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم مسلسل سنجیدہ رہیں گے تو نہ صرف رشتے ہم سے کٹنے لگیں گے بلکہ ہمارے اندر کا معصوم، زندہ انسان بھی مرنے لگے گا۔تھوڑا سا ہنس لینا، وقتاً فوقتاً دل کی بات کہہ دینا
اور نرمی سے دوسروں کو سن لینا، یہ سب وہ پل ہیں جو رشتوں کے دریا پر محبت کا پل باندھتے ہیں۔
Latest Posts
