تحریر: اللہ رکھا تبسم،میاں چنوں
پاکستان میں موسمیاتی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں بالخصوص پچھلے چند سالوں سے موسم میں بہت زیادہ تغیر آیا ہے جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ جن ممالک میں بارشوں کی شدید قلت ہوتی تھی وہاں اب موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں جہاں گرمیوں کا راج تھا اب وہاں سخت سردی پڑنا شروع ہو گئی ہے۔ موسمیاتی تغیر و تبدل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں بھی اب گرمیوں کا دورانیہ بڑھنے لگا ہے اور سردی صرف دو تین ماہ تک ہی محدود رہ گئی ہے۔ پاکستان میں گرمی کی سب سے بڑی وجہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے درخت لگانے میں کوئی سنجیدہ دل چسپی نہیں لی جا رہی۔ حکومت پاکستان کو اس بارے سوچنا چاہیے۔ بہت سارے اختلافات ہو سکتے ہیں مگر یہ کاوش تحریک انصاف کی حکومت نے کی تھی جس سے ملک کے کئی علاقوں میں ”بلین ٹری“ کے نام سے درخت لگانے کا سلسلہ شروع بھی ہوا تھا مگر باقی منصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی متنازع ہو گیا۔درختوں میں کمی کی وجہ سے پانی کی سطح تیزی سے نیچے ہوتی جا رہی ہے مستقبل قریب میں اس کے بھیانک نتائج سامنے آنے کا اندیشہ ہے۔ من حیث القوم ہم سب کا یہ قومی فریضہ ہے کہ ہم بھی اپنے اپنے حصے کا کام کریں۔ پانی کے استعمال میں اعتدال سے کام لیں۔ پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں، نلکوں کو درست رکھیں جیسا کہ ان کے خراب ہونے کی صورت میں بھی پانی مسلسل ضائع ہوتا رہتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ آبادی کم و بیش بائیس کروڑ کے لگ بھگ ہے جس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کہتے ہیں قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے ہم سب اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کم از کم ایک ایک پودا ضرور لگائیں۔ برسات کا موسم شروع ہو رہا ہے آج کل آموں کی آمد بھی شروع ہو گئی ہے۔ آم کھانے کے بعد اگر ان کی گٹھلیوں کو زمین میں دبا دیا جائے تو بارشوں کے پانی سے یہ جلد اگنا شروع ہو جائیں گے۔ آم کا پودا ایک پھل دار درخت ہونے کے ساتھ ساتھ گھنا اور سایہ دار بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نیم، شیشم اور پیپل کے درخت بھی گھنے ہونے کی وجہ سے ٹھنڈک دیتے ہیں ان کو بھی زیادہ سے زیادہ اگایا جا سکتا ہے۔ جنگلات کی کٹائی کو روکنا ہوگا۔ جنگلات کاٹ کر ان کی جگہ بلند و بالا عمارات بنائی جا رہی ہیں۔ زرعی زمینوں کو تیزی سے رہائشی منصوبوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے اگرچہ ہماری رہائشی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں مگر ہمیں بہترین اور مناسب منصوبہ بندی سے معاملات چلانے ہوں گے ورنہ زراعت کے شعبے میں کمی کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت بڑھتی جائے گی۔ آنے والا وقت خطرناک ہو سکتا ہے پانی کے حصول کے لیے دنیا میں جنگیں لڑی جائیں گی۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پاک بھارت حالیہ جنگ میں بھارت سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کی بھی دھمکی دیتا رہا ہے۔ اس سے پہلے اس نے دریائے راوی اور ستلج کا پانی مسلسل بند کر رکھا ہے صرف سیلاب کے دنوں میں وہ پانی چھوڑتا ہے اس میں بھی اس کی بدنیتی ہوتی ہے تاکہ پاکستان میں لہلہاتی ہوئی فصلوں کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
معزز قارئین کرام! موسمیاتی حالات میں شدت کے پیش نظر ہم سب کو آگے بڑھنا ہو گا اپنے پیارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مزید سر سبز و شاداب بنانا ہوگا زیادہ سے زیادہ پودے لگانا ہوں گے اور پانی کے ضیاع کو روکنا ہوگا ورنہ مستقبل میں بھیانک صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمارے ملک میں بے شمار وسائل موجود ہیں صرف مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی مٹی اللہ تعالیٰ کے فضل سے انتہائی زرخیز ہے صرف آب یاری چاہیے۔ درخت لگانے کے متعلق فرامین نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہیں۔ درخت لگانے والے کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ درخت اگانے کو اللہ کی نعمت کہا گیا ہے۔ الحمدللہ! ہم مسلمان ہیں ہمارے لیے اللہ تعالٰی اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہی کافی ہے۔آئیں آگے بڑھیں اور سنت نبوی پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ اس مملکت خداد پاکستان کو سدا سر سبز و شاداب رکھے اور ہر قسم کی آزمائش سے محفوظ رکھے۔ آمین!
Latest Posts
