تحریر: عائشہ شکیل
کہنے کو ہمارا معاشرہ حساسیت سے بھرپور ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر فرد دوسرے سے اختلاف رکھتا ہے۔ دور جدید میں ہماری نسلوں کو معاشرتی ترقی تو نصیب ہو چکی ہے مگر رشتے دن بہ دن نازک تر ہوتے جا رہے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور کیا ہے؟
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ لوگ عزتِ نفس کے مفہوم سے نکل کر انا کی بھول بھلیوں میں گم ہو چکے ہیں۔ وہ خودداری جو کبھی مردانگی کی علامت ہوا کرتی تھی، اب قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ معاشرہ تو باہمی تعلقات سے پروان چڑھتا ہے مگر یہاں آپس کی کشیدگی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ دل و دماغ خود داری کی آواز سننے سے قاصر ہیں۔ ہر فرد ”میں“ کے خول میں بند احساسِ برتری کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ہر نیا دن کسی نہ کسی المناک واقعے کی خبر لاتا ہے۔ کبھی معمولی جھگڑوں پر قتلِ عام تو کبھی غیرت کے نام پر روند دی جانے والی معصوم بیٹیاں کیا واقعی یہ غیرت ہے؟ یا محض غصہ حاکمیت اور خود کو منوانے کی وہ ضد ہے جو انسان کو حیوانیت کی سطح تک لے آتی ہے؟ انصاف کا حال کٹی پتنگ کی مانند ہے جو نہ جانے کس کے ہاتھ لگے اور کب کہیں غائب ہو جائے۔
نوجوان نسل اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہو چکی ہے۔ والدین کی عزت اب گویا چوراہے پر ننگے سر کھڑی ہے، اور کوئی اس پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ ہر شخص اپنے عمل کا الزام دوسروں کے سر پر ڈال دیتا ہے۔ میری زندگی ہے، جیسے چاہوں گزاروں گا۔ یہ نعرہ عام ہے لیکن یہ سوچ سماج کو انفرادی دائروں میں تقسیم کر رہی ہے۔ ہم ترقی کے جس راستے پر چل نکلے ہیں، وہ تہذیب سے کوسوں دور ہے۔عزتِ نفس کی رَٹ لگاتے لگاتے ہم آدابِ معاشرت بھی بھول بیٹھے ہیں۔ ہر فرد معاشرے کا ایک جزو ہے اور جیسے نیوٹن کے قانون کے مطابق ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے ویسے ہی ایک فرد کی برائی بھی پورے سماج پر اثر انداز ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ہمیں اعلیٰ اخلاق و آداب سکھائے ہیں مگر ہم اتنے آزاد خیال ہو چکے ہیں کہ دنیا ہماری ہتھیلی پر سجی ہے اور ہم اپنے اردگرد کے رشتوں کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ کی دوستیاں و رشتہ داریاں کیا واقعی تاعمر نبھ سکتی ہیں؟ ایک بٹن دبانے پر بننے اور ٹوٹنے والے رشتے کیا کبھی پائیدار ہو سکتے ہیں؟
آج دولت کے پیچھے اندھی دوڑ میں عورت اپنی عزت اور وقار تک داؤ پر لگا رہی ہے۔ ہم مغرب کی نقالی میں فخر محسوس کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ زبان، لباس یا ثقافت اپنانے سے ترقی نہیں آتی ترقی کردار سے آتی ہے۔علامہ اقبال نے مغرب و مشرق کے فرق کو یوں بیان کیا تھا:
ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ، ضمیرِ مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ
ہم نے مشرق کی روحانی و اخلاقی اقدار کو چھوڑ کر مغرب کی ظاہری چمک اختیار کر لی ہے اور نتیجہ ہمارے سامنے ہےایک خالی منتشر اور بکھرتا ہوا معاشرہ۔
Latest Posts
