تحریر : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد
رشتے احساس کی گہری جھیل جیسے ہوتے ہیں، جس میں اخلاق کے موتی اور محبت کے چشمے پائے جاتے ہیں۔ ان کی گہرائی، چاشنی، کشش اور لطافت زندگی کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر جڑی ہوتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے انھیں جتنی زیادہ قربت ملتی ہے یہ اتنی ہی تیزی سے بڑھتے اور پھلتے ہیں۔
جہاں ان کی ٹھنڈک اور تازگی سکون قلب کا باعث بنتی ہے۔ خدا تعالی نے روز اول سے ہی خاندان کی بنیاد رکھ کر اس مقصد کو پورا کیا ہے تاکہ ہمارے تعلقات و روابط کے دروازے اور کھڑکیاں کھلی رہیں اور انسانوں کا آپس میں میل جول بڑھتا ر ہے اور اس سے بڑھ کر ایک دوسرے کی شناخت اور جذبات کی آبیاری ہوتی رہے۔ بلاشبہ اس حقیقت کو طلوع ہوتے انھیں جڑنے اور سنبھلنے میں نہ جانے وقت کی کتنی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔
لیکن جب فطرت میں انا، بگاڑ، بغاوت اور دوسروں کو دکھ دینے کے کانٹوں کے انبار اگ آئیں تو معاملہ بگڑ جاتا ہے۔
جہاں دوسروں کے جذبات مجروح ہو کر زندگی میں تلخیوں کا زہر بھر دیتے ہیں اور ان رشتوں کا تقدس پامال کرنے کے لیے بغاوت کا ایک کانٹا ہی کافی ہوتا ہے، جس کی سوجن اور درد کئی سال رہتی ہے۔ یہ فطری آگاہی کا خوبصورت بندھن ہے جس میں ہم سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ہر رشتے میں الگ موتی ہے جو اپنی شناخت اور قدر و قیمت میں منفرد درجہ رکھتا ہے۔
یوں کہہ لیجیے یہ اتحاد و یگانگت کا خوبصورت گلدستہ ہوتا ہے جہاں ہر پھول کی اپنی خوشبو اور مزاج ہوتا ہے جو دوسروں کو اپنی خوشبو کے باعث ترو و تازگی کا احساس فراہم کرتا ہے۔بلاشبہ قربتیں محبت کی چادر بچھاتی ہیں، جہاں ایک دوسرے کے جذبات کا تبادلہ خیال ہوتا ہے اور احساسات کی کلیوں سے دوسروں کے دل میں محبت کا گلشن آباد ہوتا ہے جو ہمارے دلوں سے نفرت اور کدورت کو ختم کرتا ہے۔بدعتوں اور نحوستوں کے جال کاٹتا ہے۔ ایسے کڑے اور مشکل وقت میں صرف محبت کا چراغ جلانا پڑتا ہے۔ جس کی بدولت حقوق کا تحفظ بھی ملتا ہے اور ارادوں کو تکمیل بھی۔ اس حقیقت کو کوئی مانے یا نہ مانے ظرف اپنا اپنا کسی سے گلہ بھی کیا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اس بات کا اطلاق استعداد قبولیت اور جذبات کی آبیاری پر ہوتا ہے۔
اگر عصر حاضر میں رشتوں کے تقدس کا جائزہ لیا جائے۔ وقت اس کی الٹی تصویر دکھاتا ہے اور جب ہماری ترجیحات ہی بدل جائیں تو وہاں عزت کا وہ معیار نہیں رہتا جو پہلے ہوتا ہے۔ جب فطرت میں بدعتوں کی دیواریں بنا لی جائیں، دلوں میں شکوک و شبہات جنم لے لیں، گردن میں انا کا سریا اٹک جائے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ٹھان لی جائے، دولت سے مقابلہ کیا جائے، ہٹ دھرمی پر اترا جائے۔ تو وہاں یہ موتی ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں اور بکھری چیز کی کوئی بھی قدر و قیمت نہیں ہوتی اور پڑی ہوئی چیز کو کوئی بھی اپنے پاؤں تلے روند سکتا ہے۔
آج وقت نے ہمارے درمیان دراڑیں ڈال دی ہیں۔ ہمیں ہر جگہ جہاں بھی دیکھیں بکھراؤ اور تناو نظر آتا ہے۔ سب نے اپنی اپنی مرضی کے موسم آباد کر رکھے ہیں۔ جس کے دل میں جو بات آتی ہے وہ اسی بات پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کا سفر شروع کر دیتا ہے۔ ہمارے درمیان سے باہمی اتحاد و یگانگت ختم ہو چکا ہے۔ ہم نے اپنی ذات کو اصولوں کی مقناطیسیت سے جکڑ لیا ہے اور محبت کے اس پیمانے کو توڑ دیا ہے جہاں انسانیت پروان چڑھتی اور اس توقع کا تقدس بحال ہوتا ہے۔ایسا لگتا ہے ہم بے سمت سفر کے عادی ہو چکے ہیں۔ نہ ہماری کوئی منزل اور نہ ہی کوئی راستہ ہے۔ بلکہ ہم نے اپنے ذہن کی پردہ سکرین پر خیالات کی ایسی خطرناک اور مہلک شعاوں کا عکس ڈال لیا ہے جس نے اپنے مضر اثرات کے باعث ہمیں سوچنے سمجھنے سے عاری بنا دیا ہے اور دوسری بات آزادی کے نشے نے ہمیں اس قدر بے یارو مددگار کر دیا ہے جہاں نہ ہمیں اپنی خبر اور نہ دوسروں کی۔ہمیں ایک ایسے ماحول میں داخل ہو رہے ہیں جہاں کرب اور دکھ کا دھواں ہی دھواں اٹھتا ہے۔ نہ ہم دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہم سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی ہم من کی باتوں کا پرچار کر سکتے ہیں۔ آئیں کچھ رشتوں کی آبیاری پر بات کرتے ہیں۔ یہ کیسے وجود میں آتے ہیں؟ اور انھیں قائم و دائم رکھنے کے لیے کون سے کارفرما عناصر کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچاتے ہیں۔ بلاشبہ اس بات میں کوئی تضاد نہیں ہے اور نہ کوئی اس بات سے بدظن ہو سکتا ہے کہ گھر محبت سے آباد ہوتے ہیں اور جب محبت ٹھنڈی پڑ جائے تو بے دینی بڑھ جاتی ہے جس سے خاندانی شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ افراد خانہ تنہا تنہا ہو کر بکھر جاتے ہیں۔ ان کی قوت اور اختیار ختم ہو جاتا ہے۔ میل ملاپ کو حسد کا کیڑا کھا جاتا ہے۔ سوچ کو دیمک لگ جاتی ہے۔ اتحاد و یگانگت کی دیواریں گر جاتی ہیں۔ دلوں میں گندگی اور ذہن میں نفرت کا زہر بھر جاتا ہے۔ ہم ہمیشہ دوسروں کو قصور وار ٹھہراتے ہیں اور خود کو راست بازوں کی صف میں کھڑا کر لیتے ہیں۔
! یاد رکھیں
اگر ان رشتوں کو نئے سرے سے تعمیر کرنا مقصود ہو تو پھر ایک نئی ترکیب، محنت، جتن، ساز و سامان اور وقت کی خاصی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کو ہمیشہ اپنی جبلت میں لچک کے آثار و افکار رکھنے چاہیے تاکہ اسے دوبارہ جھڑنے میں دقت پیش نہ آئے۔ اس ضمن میں
بے شک دراڑیں تو ختم نہیں ہوتیں لیکن ہمارے دل و دماغ میں پچھتاوے اور پریشانیاں ضرورت باقی رہ جاتی ہیں۔ جہاں زندگی میں والدین کی عزت نفس کا خیال رکھنا ضروری ہے وہاں دیگر رشتے بھی اپنی افادیت کی ستائش میں بے معانی نہیں ہوتے۔ میرے مطابق جو چیز رشتوں کو مستحکم رکھنے میں بنیاد فراہم کرتی ہے وہ احساس کی پرچھائیاں ہیں جہاں دوسروں کو اطمینان اور تسلی ملتی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اجنبی رشتوں کا پہاڑا پڑنے کی بجائے اپنی سوچ پر ایسے زاویے کو بنا لیں جہاں آپ کے جذبات کی پرکار آسانی سے گھوم سکے۔ لیکن ایک بات ہمیں اس بات کا شعور ضرور دیتی ہے کہ ہم آہنگی کے بغیر جڑے ہوئے رشتے زندگی بھر سزا دیتے ہیں۔ نہ ان کا قرض ختم ہوتا ہے اور نہ انا کی دیواریں ٹوٹتی ہیں۔ افسوس کے ساتھ نہ ان میں محبت کی بھاپ ہوتی ہے اور نہ روشنی کا دروازہ۔ جہاں یہ دونوں چیزیں موجود نہ ہو وہاں زندگی ویران بنجر زمین جیسی ہوتی ہے۔ پھر اس زمین میں فرسودہ خیالات کے اونٹ کٹارے ہی اگ سکتے ہیں۔ جو دوسروں کے لئے چبھن اور درد کا باعث بنتے ہیں۔اگر خدا نے آپ کو رشتوں کے بندھن میں جوڑا ہے۔ تو انہیں بحال رکھنے کے لیے تقدس کا پیمائشی آلہ اپنے پاس ضرور رکھیں۔
Latest Posts
عالمی برادری کی چین اور امریکا کے صدور کی ملاقات پر گہری توجہچینی صدر کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں استقبالیہ ضیافتچین-افغانستان-پاکستان یوتھ کرکٹ دوستانہ تبادلے کی تقریب کا ہانگ چو میں انعقادچینی صدر اور امریکی صدر ٹرمپ کا ٹیمپل آف ہیون کا دورہچین امریکہ اقتصادی و تجارتی تعلقات باہمی فائدے اور جیت جیت پر مبنی ہیں، چینی صدر
