پہچان پاکستان ایک سچائی کی روشنی

تحریر: اکرام بکائنوی
ہر قوم کی ترقی میں صحافت کا کردار ہمیشہ بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اخبارات محض خبر رسانی کے ذرائع نہیں ہوتے بلکہ وہ قوم کی اجتماعی سوچ، کردار اور مستقبل کی سمت کا تعین بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اخبارات جو دیانت داری، سچائی اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں، تاریخ میں ایک روشن حوالہ بن جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک درخشاں نام “پہچان پاکستان نیوز پیپر” ہے، جو اپنے قیام سے لے کر آج تک صحافت کی حقیقی روح کی ترجمانی کرتا چلا آ رہا ہے۔ یہ اخبار محض ایک اشاعتی ادارہ نہیں بلکہ قوم کی آواز، امید اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
پہچان پاکستان کی سب سے بڑی خوبی اس کا یہ عزم ہے کہ اس نے کبھی سچائی سے منہ نہیں موڑا۔ ایسے دور میں جب صحافت کو اکثر اوقات تجارتی مفادات، ذاتی ایجنڈوں اور وقتی سیاسی ضرورتوں کے تابع بنا دیا جاتا ہے، وہاں پہچان پاکستان نے خود کو ایک ایسے ادارے کے طور پر منوایا ہے جو خبر کو امانت سمجھتا ہے اور عوام کے اعتماد کو سرمایہ قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے قارئین نہ صرف اسے ایک اخبار سمجھتے ہیں بلکہ اسے ایک مشعلِ راہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ اخبار ہر اس طبقے کی ترجمانی کرتا ہے جس کی آواز ایوانوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ غریب کسان، محنت کش مزدور، تعلیم سے محروم طلبہ، انصاف کے متلاشی شہری اور وہ سب لوگ جنہیں معاشرے میں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، پہچان پاکستان کے صفحات پر اپنی جگہ پاتے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جو اس اخبار کو دوسروں سے ممتاز بناتا ہے۔ اس کے ایڈیٹوریل صفحات سے لے کر فیچر تحریروں تک ہر جگہ عوامی خدمت اور قومی شعور کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
پہچان پاکستان کی کامیابی کے پیچھے ایک باصلاحیت، محنتی اور دیانت دار قیادت ہے۔ یہاں پر ہمیں سب سے پہلے اس شخصیت کا ذکر کرنا چاہیے جنہوں نے اس اخبار کی بنیاد کو مضبوط بنایا اور اسے قوم کی پہچان بنایا، اور وہ ہیں زکیر احمد۔
زکیر احمد نہ صرف ایک باکمال مدیر اور قائد ہیں بلکہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جنہوں نے صحافت کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر اپنایا۔ ان کے اخلاص، دیانت اور وژن نے بہت کچھ سکھایا ان کی قیادت میں اس ادارے نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد محض قوم کی خدمت ہو تو مشکلات اور رکاوٹیں راستہ نہیں روک سکتیں۔
یہ حقیقت ہے کہ زکیر احمد نے صحافت کے میدان میں نئی روایات قائم کی ہیں۔ انہوں نے اپنے قلم اور فکر سے یہ پیغام دیا کہ اخبار وہی ہے جو عوام کی زبان بنے، اور صحافی وہی ہے جو سچائی پر ڈٹ جائے۔ ان کی سرپرستی میں پہچان پاکستان نے نہ صرف خبروں کو شفافیت کے ساتھ پیش کیا بلکہ قوم کو ایک ایسی سمت دکھائی جو ترقی، بیداری اور اتحاد کی ضامن ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، پہچان پاکستان کی ٹیم بھی کسی خراجِ تحسین سے کم کی مستحق نہیں۔ یہ وہ محنتی لکھاری، رپورٹرز، ایڈیٹرز اور کارکنان ہیں جو دن رات اپنی صلاحیتیں اس ادارے کے لیے وقف کرتے ہیں۔ وہ خاموش مجاہد ہیں جو کبھی صفحے کی سرخیوں میں نہیں آتے لیکن ان کی محنت کے بغیر یہ اخبار مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان کی دیانت داری، پیشہ ورانہ لگن اور جذبۂ خدمت ہی وہ ستون ہیں جن پر پہچان پاکستان کی عمارت کھڑی ہے۔ یہ ٹیم ایک خاندان کی طرح ہے جس کا ہر رکن قوم کے لیے خبر، آگاہی اور رہنمائی کا ذریعہ بننے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں چیلنجز کی کمی نہیں، وہاں ایک ذمہ دار صحافت کا کردار اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ پہچان پاکستان نے اپنے وجود کو محض خبروں کے چھاپنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس نے عوامی تربیت، شعور اور بیداری میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ اس نے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا، صحت کے مسائل پر آواز بلند کی، سماجی ناانصافیوں کے خلاف قلم اٹھایا اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اپنی خدمات پیش کیں۔ ایک سچا اخبار وہی ہے جو عوام کے مسائل کو اپنی سرخیوں میں شامل کرے اور ان کے دکھ درد کو اپنی تحریروں میں سمونے کی ہمت رکھے، اور یہ وصف پہچان پاکستان میں بدرجۂ اتم موجود ہے۔
آج کے اس دور میں جب صحافت کو اکثر الزامات کا سامنا رہتا ہے، پہچان پاکستان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ سچائی آج بھی زندہ ہے اور دیانت دار صحافت آج بھی قائم ہے۔ یہ اخبار صحافیوں کے لیے ایک مثال ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور مقصد صرف قوم کی خدمت ہو تو مشکلات کے باوجود اعتماد اور کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
قومیں اپنی تاریخ میں انہی اداروں پر فخر کرتی ہیں جو ان کی سوچ کو مثبت رخ دیں، ان کی شناخت کو نمایاں کریں اور ان کے مسائل کو اجاگر کریں۔ پہچان پاکستان نیوز پیپر نے یہ سب کچھ کر دکھایا ہے۔ یہ اخبار پاکستان کی پہچان بھی ہے اور عوام کے دل کی آواز بھی۔ یہ وہ روشنی ہے جس نے اندھیروں میں امید جگائی، وہ صدا ہے جس نے محروموں کو حوصلہ دیا اور وہ آئینہ ہے جس میں قوم نے اپنی اصل تصویر دیکھی۔
آج ہم یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ زکیر احمد اور ان کی پوری ٹیم نے نہ صرف صحافت کے معیار کو بلند کیا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا نقش چھوڑا ہے جس پر چل کر صحافی اپنے مقصد اور سمت کا تعین کر سکیں گے۔ ان کا خلوص اور ان کی محنت ہی پہچان پاکستان کی اصل پہچان ہے۔
ہم دل کی گہرائیوں سے زکیر احمد اور پہچان پاکستان کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ یہ ادارہ ہمیشہ قائم و دائم رہے، اپنی روشنی پھیلاتا رہے اور صحافت کے اصل تقاضوں کو پورا کرتا رہے۔ اللہ کرے کہ اس کے صفحات پر ہمیشہ سچائی کی خوشبو رہے اور یہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی امید، شعور اور رہنمائی کا ذریعہ بنتا رہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow