مصور پاکستان علامہ محمد اقبال

ندیم یعقوب گوہر
برصغیر کی تاریخ میں بیسویں صدی کا چوتھا عشرہ ایک ایسے فکری اور سیاسی انقلاب کا گواہ ہے جس نے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ اس انقلاب کے پیچھے دو ایسی شخصیتیں کارفرما تھیں جن میں سے ایک نے خواب دیکھا اور دوسرے نے اس خواب کو تعبیر بخشی۔ ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کے درمیان پیدا ہونے والی فکری ہم آہنگی محض دو لیڈروں کا ملاپ نہیں تھا بلکہ یہ ایک درماندہ قوم کی تقدیر بدلنے کا نقطہ آغاز تھا۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری اور فلسفے کے ذریعے جس “دو قومی نظریے” کی بنیاد رکھی، قائداعظم نے اپنی بے مثال سیاسی بصیرت سے اسے ایک آزاد ریاست کی حقیقت میں ڈھال دیا۔
تحریکِ پاکستان میں علامہ اقبال کا کردار ایک ایسے دیدہ ور کا تھا جو آنے والے وقت کے طوفانوں کو بھانپ چکا تھا۔ جب 1930 میں انہوں نے الہ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شمال مغربی ہندوستان میں ایک خود مختار مسلم ریاست کا تصور پیش کیا، تو بہت سے لوگ اسے ایک شاعر کا تخیل قرار دے رہے تھے۔ لیکن اقبال جانتے تھے کہ برصغیر کے مخصوص حالات میں مسلمانوں کے معاشی، سیاسی اور مذہبی حقوق کا تحفظ ایک علیحدہ وطن کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے اپنی نظم “طلوعِ اسلام” میں جس بیداری کا ذکر کیا تھا، وہ دراصل اس منزل کی طرف پہلا قدم تھا:
*دلیلِ صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی*
*افق سے آفتاب ابھرا، گیا دورِ گراں خوابی*
اقبال کی سب سے بڑی خدمت یہ تھی کہ انہوں نے قائداعظم کی شخصیت میں وہ جوہر پہچان لیا تھا جو کسی اور کی نظر میں نہ آ سکا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب قائداعظم ہندوستانی سیاست سے مایوس ہو کر لندن چلے گئے تھے، لیکن یہ اقبال کے وہ خطوط تھے جنہوں نے جناح کو دوبارہ میدانِ عمل میں آنے پر آمادہ کیا۔ اقبال نے اپنے خطوط کے ذریعے جناح کو باور کرایا کہ “آپ ہی وہ واحد رہنما ہیں جو اس طوفان میں قوم کی کشتی پار لگا سکتے ہیں”۔ قائداعظم نے بعد میں اعتراف کیا کہ اقبال ان کے لیے ایک دوست، رہنما اور فلسفی تھے اور ان کے خیالات نے جناح کو ان ہی نتائج پر پہنچایا جن پر اقبال پہلے سے قائم تھے۔
اقبال کی شاعری نے تحریکِ پاکستان کو وہ ایندھن فراہم کیا جس نے ہر مسلمان کے دل میں آزادی کی شمع روشن کر دی۔ جب وہ کہتے ہیں:
*اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر*
*خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ*
تو وہ دراصل اس جغرافیائی قومیت کے بت کو توڑ رہے ہوتے ہیں جس کے تحت کانگریس مسلمانوں کو ہندو اکثریت میں ضم کرنا چاہتی تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کو بتایا کہ ان کی قومیت کا رنگ و نسل سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ایک کلمے کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہی وہ فکر تھی جس نے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔
تحریک کے دوران جب نوجوانوں میں مایوسی پھیلتی، تو اقبال کے اشعار ان میں نئی روح پھونک دیتے۔ انہوں نے مسلمان نوجوان کو “شاہین” قرار دے کر اسے غلامی کی زنجیریں توڑنے کا حوصلہ دیا۔ ان کا یہ شعر ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ بن گیا:
*یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم*
*جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں*
یہ تین اصول “یقین، عمل اور محبت” ہی تھے جنہیں قائداعظم نے بعد میں “اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط” کی صورت میں قوم کو عطا کیا۔
مصور پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال کا تصورِ پاکستان صرف سیاسی آزادی تک محدود نہ تھا بلکہ وہ ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جہاں اسلام کے سماجی اور معاشی انصاف کے نظام کو عملی طور پر نافذ کیا جا سکے۔ انہوں نے قائداعظم کو لکھے گئے خطوط میں اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کی غربت کا علاج صرف ایک اسلامی ریاست ہی میں ممکن ہے۔ ان کی وفات 21 اپریل 1938 میں ہو گئی، لیکن ان کی فکر نے 1940 کی قراردادِ پاکستان کی بنیاد رکھی۔ قائداعظم نے اقبال کی وفات پر کہا تھا کہ “میرے لیے اقبال ایک مضبوط ستون تھے”۔
آج جب ہم آزاد فضاؤں میں سانس لیتے ہیں، تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ آزادی اس فکری رفاقت کا ثمر ہے جو اقبال اور جناح کے درمیان قائم ہوئی۔ اقبال نے اپنے کلام “بانگِ درا” اور “بالِ جبریل” کے ذریعے قوم کے شعور کی آبیاری کی اور قائداعظم نے اس شعور کو طاقت بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ان دونوں عظیم رہنماؤں کی جدوجہد اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب فکرِ صادق اور عزمِ مصمم مل جائیں، تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ اقبال کی شاعری آج بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ منزل کے حصول کے لیے صرف خواب دیکھنا کافی نہیں بلکہ شاہین جیسی تڑپ اور قائد جیسا کردار بھی ضروری ہے۔

About daily pehchane

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow