*قائد کا پاکستان اور اقلیتوں کے حقوق*
تحقیق و تحریر :ـ *ڈاکٹر محمد شکیل بھنڈر

باباۓ قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا ایک سو پچاسواں یوم پیدائش نہایت عقیدت سے منایا جا رہا ہے، آپ 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوۓ ۔ آپ کے والد کا نام جناح پونجا اور والدہ کا نام مٹھی بائی تھا۔ آپ کے والد کراچی کے تاجر تھے آپ نے اپنی تعلیم سندھ مدرستہ الاسلام اور کرسچن مشن سکول سے حاصل کی ، اس کے بعد اعلی تعلیم کے لیے انگلستان چلے جاتے ہیں جہاں لندن میں لنکنز آن میں 1893ء میں داخلہ لیتے ہیں ۔ آپ 19 سال کی عمر میں 1895ء میں بیرسٹری کی ڈگری حاصل کر کے واپس ہندوستان آتے ہیں تو آپ ہندوستانیوں میں سے کم ترین عمر کے بیرسٹر قرار پاتے ہیں۔
یہ اللہ پاک کا ہندوستان کے رہنے والوں پر احسان ہوتا ہے کہ 1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد اور انگریز سامراج کی غلامی میں آنے کے 20 سال کے اندر مفکر پاکستان اور بانی پاکستان پیدا ہوتے ہیں ۔ قائد اعظم محمد علی جناح اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہندوستان کی سیاست میں حصہ لیتے ہیں اور آپ آل انڈیا کانگریس میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں اور اپنی سیاست کے ابتدائی دور میں ہندوؤ مسلم اتحاد کے حق میں تھے، اسی دوران ڈھاکہ میں مسلم رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوا جہاں نواب سلیم اللہ خان کی قیادت میں 30 دسمبر 1906ء کو مسلم لیگ کا قیام عمل آیا جو محکوم مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر سامنے آتی ہے ۔
1913ء کے اجلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح نے شرکت کی اور ہندوستان کے سیاسی امور پر کئی سوالات اٹھائے اور اسی اجلاس میں آپ نے باقاعدہ مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا ، اس کے بعد قیام پاکستان تک اسی پلیٹ فارم سے آزادی کی جد وجہد کرتے رہے، 1928ء میں جب سائمن کمیشن ہندوستان آیا تو ہندوستان کی دونوں بڑی جماعتوں نے اس کمیشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ ” محمد علی جناح نے سائمن کمیشن کی تقرری پر کڑی تنقید کرتے ہوئے فرمایا ‘ میرے لیے تو ایسے سفید فام کمیشن کا تصور ہی شاق ہے جو ہندوستان کے آئندہ آئین اور 35 کروڑ ہندوستانیوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے مقرر ہو اور اس میں ایک بھی ہندوستانی شامل نہ ہو ‘ ایک اور بیان میں جناح نے کہا کہ جلیاں والہ باغ میں انگریزوں نے ہمارے ظاہری اجسام کو نیست و نابود کیا تھا جبکہ سائمن کمیشن کی تقرری سے ہماری روحوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی ہے ۔”
1931ء میں لندن میں ہونے والی دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہندوستان سے لندن پہنچے۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے دوسری گول میز کانفرنس میں ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندگی کی ۔ قائد اعظم ہندؤ مسلم میں اتحاد میں ناکامی پر سیاست سے کنارہ کش ہو کر لندن منتقل ہو گئے تھے ۔ گول میز کانفرنس کے اختتام پر علامہ اقبال نے قائد اعظم محمد علی جناح کو واپس ہندوستان آ کر مسلمانوں کی قیادت اور آزادی کی حتمی جد وجہد کے لیے آمادہ کر لیا ۔ غالباً اسی موقع پر اقبال نے فرمایا ۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
23 مارچ 1940ء کو لاہور میں مسلم لیگ کا ایک کھلا اجلاس منعقد ہوا جس کے شرکاء کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر صدارت اس اجلاس میں بنگال کے وزیر اعلیٰ شیر بنگال مولوی فضل الحق نے اپنی قرار داد پیش کی ۔ جسے اب قرار داد پاکستان کہا جاتا ہے اس کا متن یہ ہے۔ ” قرار پایا کہ غور و خوض کے بعد اس اجلاس کی متفقہ رائے یہ ہے کہ ملک میں آئینی منصوبہ قابل عمل اور مسلمانوں کے لیے قابل قبول ہو گا جو مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں کے مطابق تیار کیا جاۓ گا یعنی یہ جغرافیائی اعتبار سے ملحق و متصل اکائیوں کی خطوں کی صورت میں مناسب علاقائی ردوبدل کے بعد اس طرح حد بندی کی جائے کہ وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں جیسا کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی منطقوں میں ہیں ۔ آزاد مملکتوں کی شکل اختیار کر لیں اور ان کی مختلف اکائیاں خود مختار اور حاکمیت کی حامل ہوں۔ ”
آخر کار 14 اگست 1947ء کو قیام پاکستان کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ۔ آئین ساز اسمبلی کا اجلاس 10 اگست سے کراچی میں جاری تھا اسی دوران 14 اگست 1947ء کو اس اجلاس میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے خصوصی شرکت کی تاکہ انتقال اقتدار کی باضابطہ کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ واسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن جب گورنر جنرل ہاؤس کراچی پہنچے تو قائد اعظم محمد علی جناح نے ان کا استقبال کیا اور سندھ اسمبلی کی عمارت میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس سے 14 اگست 1947ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے خطاب کیا ۔ ” یہ اتفاق کی بات ہے کہ آج میں آپ لوگوں سے آپ کے وائسرائے کی حیثیت سے مخاطب ہوں ۔ کل حکومت پاکستان کی باگ ڈور آپ کے ہاتھوں میں ہو گی اور میں کل سے آئینی طور پر آپ کے ہمسایہ ملک ہندوستان کا سربراہ ہوں گا۔ دولت مشترکہ میں کل دو خود مختار مملکتیں اپنا نام شامل کر لیں گئیں ۔ یہ دونوں کوئی نوزائیدہ قومیں نہیں ہیں بلکہ یہ اپنی تاریخ اور تہذیب پے بجا طور پر فخر کر سکتی ہیں ۔ یہ اقوام ہیں کہ جن کے شاعر ، فلسفی ، بہادر جنگجو ، سائنس دان دنیا میں شہرت اور قدر و منزلت کے حامل ہیں ۔ پاکستان کا معرض وجود میں آنا تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ “
*اقلیتوں کے حقوق اور فرمودات قائد*
قیام پاکستان کے وقت مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بہت بڑی تعداد میں ہندوؤ ، عیسائی ، سکھ اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد تھے ۔ قیام پاکستان کے وقت اقلیتوں میں سب سے بڑی تعداد ہندوؤں کی تھی ، دوسرے نمبر پر عیسائی اور تیسرے نمبر پر سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے شہری تھے۔ جس طرح مسلمانوں کی بڑی تعداد نے ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی اسی طرح ہندوؤ بھی بڑی تعداد میں پاکستان سے ہندوستان چلے گئے ، 1951ء کی مردم شُماری کے مطابق عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد سب سے بڑی اقلیت تھے جو اب بھی سب سے بڑی اقلیت ہیں ۔
قائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان میں آباد اقلیتوں کے حقوق کا بہت خیال تھا۔ قیام پاکستان سے ایک ماہ قبل آپ نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ۔ ” پاکستان میں اقلیتوں کی پوری پوری حفاظت کی جائے گی ۔ خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتی ہوں ۔ ان کا مذہب ، عقیدہ اور ایمان پاکستان میں بالکل سلامت اور محفوظ رہے گا ۔ ان کی عبادات کی آزادی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جاۓ گی ۔ ان کے مذہب ، عقیدے ، جان و مال اور ان کی ثقافت کی مناسب حفاظت ہوگی۔ وہ بلا لحاظ رنگ و نسل ہر اعتبار سے پاکستان کے شہری ہوں گے ۔”
پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں افتتاحی تقریر کرتے ہوئے اقلیتوں کے بارے میں قائد اعظم نے فرمایا ۔ ” آپ آزاد ہیں ۔ آپ عبادت کے لیے اپنے مندروں میں جانے میں آزاد ہیں ۔ آپ اپنی مسجدوں میں جانے میں آزاد ہیں ۔ آپ مملکت پاکستان میں اپنے عقیدے کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے میں آزاد ہیں ۔ آپ کسی بھی مذہب ، فرقے یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں ، امور مملکت کو اس سے کوئی سروکار نہیں ۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم اس زمانے میں آغاز کر رہے ہیں جب دو فرقوں کے درمیان کسی قسم کا فرق روا نہیں رکھا جاتا۔ جب ایک فرقے کو دوسرے فرقے پر رنگ یا نسل کی وجہ سے ترجیح نہیں دی جاتی ۔ ہم اس بنیادی اصول سے کام شروع کر رہے ہیں کہ ہم سب ایک ہی مملکت کے شہری ہیں اور برابر کے شہری ہیں ۔ “
*قائد اعظم کے اقلیتیوں کے حقوق کے بارے میں اہم نکات*
*مذہبی آزادی*
ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہو گی اور ریاست کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہ ہو گا۔
*مساوی شہری حقوق*
اقلیتوں کو مکمل شہری حقوق حاصل ہوں گے اور انہیں ریاست میں برابری کی بنیاد پر حصہ دیا جاۓ گا ۔
*باقاعدہ نمائندگی*
ریاست کے قانون ساز اداروں میں اقلیتوں کو موثر نمائیندگی دی جائے گی تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔
*چودہ نکات میں شمولیت*
قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے چودہ نکات میں اقلیتوں کے لیے جُداگانہ انتخاب اور ان کی ثقافت و زبان کے تحفظ کی ضمانت کا مطالبہ کیا تھا۔
*11 اگست کے خطاب میں پیغام*
قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے خطاب میں فرمایا ” پاکستان میں ہر ایک کو چاہیے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے ۔”
قائد اعظم محمد علی جناح کے اقلیتیوں کے بارے میں فرمودات کی روشنی میں اور آئین پاکستان میں انسانی بنیادی حقوق کو سامنے رکھتے ہوئے ریاست پاکستان میں ناصرف اقلیتوں کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جاتا بلکہ مکمل تحفظ بھی دیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یوم قائد اور مسیحی برادری کا مذہبی تہوار ایک ہی دن ہوتا ہے اس سلسلے میں ملک کے دوسرے حصوں کی طرح وفاقی سطح حسب روایت اس سال بھی اسلام آباد پولیس نے ناصرف گرجا گھروں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا ہے تاکہ ہمارے مسیحی بھائی اپنی عبادت گاہوں میں مکمل آزادی کے ساتھ عبادت کر سکیں بلکہ ان کے لیے تفریحی مقامات کی سیکورٹی کا بھی مکمل انتظام کیا ہے، اس کے ساتھ مسیحی برادری کی خوشیوں میں شامل ہونے کے لیے ان کو اپنے دفاتر میں مدعو کر کے کیک بھی پیش کیے گئے ہیں ، اس کے علاؤہ اسلام آباد پولیس سے تعلق رکھنے والے مسیحی افسران کو کیک کے ساتھ تحائف میں پیش کیے ہیں ، کیونکہ محقق کا تعلق بھی اسلام آباد پولیس سے ہے تو ہم نے اپنے پندرہویں بیج اور دوسرے مسیحی بھائیوں کو ان کے مذہبی تہوار پر مبارک باد پیش کرنے کے علاؤہ تحائف بھی پیش کیے ہیں ۔ ملک خداداد ہم سب کا ہے اس کی ترقی، خوشحالی اور اس کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ ہمارا پیارا وطن ، اقبال کا خواب اور قائد کی تعبیر دنیا میں بلند مقام حاصل کر سکے ۔ ان شاءاللہ
