شبِ معراج قربِ الٰہی کی رات

شبِ معراج — قربِ الٰہی کی رات
ازقلم: محمد اسامہ

شبِ معراج اسلامی تاریخ کی وہ عظیم اور بابرکت رات ہے جو ایمان والوں کے دلوں کو روشنی، یقین اور قربِ الٰہی کی خوشبو عطا کرتی ہے۔ یہ وہ رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کو وہ مقام عطا فرمایا جو نہ کسی بشر کو ملا اور نہ کسی فرشتے کو۔ یہ رات صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے عبادت، اطاعت اور قربِ رب کا عظیم پیغام ہے۔

قرآنِ کریم میں اس رات کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل (سورۃ الاسراء) میں یوں آیا ہے:

﴿سُبْحٰنَ الَّذِي أَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى﴾
(الاسراء: 1)
ترجمہ:
پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی۔

یہ آیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معراج کا سفر اللہ تعالیٰ کی خاص قدرت اور عظمت کا مظہر تھا۔ اسی رات رسول اللہ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی، جنت و دوزخ کے مناظر دکھائے گئے، اور سب سے بڑھ کر نماز کا تحفہ عطا کیا گیا، جو مومن کی معراج ہے۔

شبِ معراج کی سب سے بڑی فضیلت یہی ہے کہ اس رات پانچ وقت کی نماز فرض ہوئی۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ نماز بندے کو اللہ کے قریب کرنے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“نماز مومن کی معراج ہے”
(طبرانی)

یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم واقعی اللہ کے قرب کے خواہاں ہیں تو ہمیں نماز کو اپنی زندگی کا مرکز بنانا ہوگا۔

شبِ معراج کی رات عبادت، نوافل، تلاوتِ قرآن، درود شریف اور دعا کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ اگرچہ کسی مخصوص نفل کی قطعی تعداد حدیث میں ثابت نہیں، مگر علما فرماتے ہیں کہ اس رات میں جتنی عبادت کی جائے، وہ باعثِ اجر و ثواب ہے۔ یہ رات گناہوں کی معافی، دلوں کی پاکیزگی اور روحانی سکون کی رات ہے۔

احادیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بندہ سجدے میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے.“
(صحیح مسلم)

اسی لیے شبِ معراج میں سجدے، آنسو اور عاجزی کے ساتھ اللہ کے سامنے جھک جانا سب سے بڑی عبادت ہے۔ اس رات کی دعا رد نہیں کی جاتی، کیونکہ یہ قرب کی رات ہے۔

شبِ معراج کے دن روزہ رکھنے کی بھی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ روزہ فرض نہیں، مگر نفل روزہ رکھنا باعثِ ثواب ہے۔ حدیث میں آیا ہے: ”جس نے اللہ کی رضا کے لیے ایک دن کا نفل روزہ رکھا، اللہ اسے جہنم سے دور فرما دیتا ہے۔“
(ترمذی)

روزہ انسان کو صبر، تقویٰ اور نفس کی پاکیزگی سکھاتا ہے، اور شبِ معراج کے پیغام کو دل میں بسانے کا بہترین ذریعہ ہے۔

یہ رات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ مشکلات، آزمائشیں اور دکھ اللہ کی ناراضی نہیں بلکہ بعض اوقات قرب کی تمہید ہوتے ہیں۔ معراج سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے طائف کا درد، شعبِ ابی طالب کی بھوک اور اپنوں کی جدائی دیکھی، پھر اللہ نے معراج کے ذریعے تسلی دی۔

یہ پیغام ہر مومن کے لیے ہے کہ صبر کے بعد قرب ہے، اور آزمائش کے بعد آسانی۔

شبِ معراج کی رات ہمیں چاہیے کہ نماز کی پابندی کا عہد کریں. گناہوں سے سچی توبہ کریں والدین، رشتہ داروں اور امتِ مسلمہ کے لیے دعا کریں. درود شریف کی کثرت کریں اگلے دن نفل روزہ رکھ کر اس رات کی برکت کو مکمل کریں

آخر میں یہی دعا ہے کہ: اے اللہ! ہمیں شبِ معراج کی برکتیں نصیب فرما، ہمیں نماز کا ذوق عطا فرما، ہمارے گناہوں کو معاف فرما، اور ہمیں اپنے قرب کا وہ سکون عطا کر جو دنیا کی کسی چیز میں نہیں۔

آمین یا رب العالمین 🤍

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow