پروفیسراخلاق احمد ساغر
کردار:
1. موسیٰ الخوارزمی: الجبرا اور ریاضی کا ماہر، مسلمان سائنس دان
2. البیرونی : فلسفہ، فلکیات اور جغرافیہ کا ماہر، مسلمان محقق
(منظر: بغداد کی ایک علمی محفل، جہاں دونوں عظیم سائنس دان گفتگو کر رہے ہیں)
البیرونی: السلام علیکم، اے جلیل القدر ریاضی دان! میں نے آپ کی کتاب ”الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ“ کا مطالعہ کیا۔ آپ نے الجبرا میں جو بنیاد رکھی، وہ واقعی حیرت انگیز ہے۔
موسیٰ الخوارزمی: وعلیکم السلام، اے عظیم فلسفی اور فلکیات دان! میں آپ کی ”تحقیق ما للهند من مقولة مقبولة في العقل أو مرذولة“ کا معترف ہوں۔ آپ نے ہندوستانی علوم کو جس باریکی سے سمجھا، وہ واقعی غیرمعمولی ہے۔
البیرونی: آپ نے ریاضی کے ذریعہ الجبرا کو ایک مستقل علم کی حیثیت دی مگر کیا آپ کو نہیں لگتا کہ حساب کے بغیر فلکیات اور جغرافیہ بھی نامکمل ہیں؟ میں اپنے مشاہدات میں حساب کا خوب استعمال کرتا ہوں۔
موسیٰ الخوارزمی: بے شک! میرا بھی ماننا ہے کہ ریاضی تمام سائنسی علوم کی بنیاد ہے۔ میں نے ہندوستانی اعداد اور اعشاری نظام کو متعارف کروایا تاکہ حساب کو آسان بنایا جا سکے۔ آپ نے فلکیات میں ریاضی کو کیسے استعمال کیا؟
البیرونی: میں نے زمین کی پیمائش کے لیے ایک نیا طریقہ وضع کیا، جس میں ریاضی اور جیومیٹری کا بھرپور استعمال کیا۔ میں نے نصف النہار (Meridian Arc) کے ذریعے زمین کے قطر کا اندازہ لگایا، جو بعد میں حیرت انگیز طور پر جدید سائنسی تحقیقات سے مماثل نکلا۔
موسیٰ الخوارزمی: یہ واقعی حیران کن ہے! میں نے بھی اپنے فلکیاتی جدولوں میں ستاروں اور سیاروں کے مقام کی پیمائش کے لیے مثلثات (Trigonometry) کا استعمال کیا تھا۔
البیرونی: جی ہاں اور آپ کے کام کی بدولت ہی بعد کے سائنس دانوں نے مزید ترقی کی مگر مجھے ایک سوال درپیش ہے: کیا آپ کے خیال میں علم کا تعلق صرف ایک قوم یا تہذیب سے ہے؟ میں نے تو ہندوستان کے علوم کو بھی سیکھا اور یونانی فلسفے کا بھی مطالعہ کیا۔
موسیٰ الخوارزمی: نہیں، علم کسی ایک قوم یا سرزمین تک محدود نہیں ہوتا۔ ہم مسلمان علماء نے یونانی، مصری اور ہندی علوم کو حاصل کر کے ان میں اضافے کیے اور یہی علمی ترقی کا اصول ہے۔
البیرونی: آپ کی بات بالکل درست ہے! میں نے بھی مختلف تہذیبوں کے علوم کو سمجھنے اور ان میں بہتری لانے کی کوشش کی۔ علم ایک دریا کی مانند ہے، جو جہاں سے بھی گزرے، اپنی وسعت اور گہرائی بڑھاتا جاتا ہے۔
موسیٰ الخوارزمی: بالکل! اور اسی تسلسل کو آگے بڑھانے کے لیے ہمیں تحقیق جاری رکھنی چاہیے تاکہ آئندہ نسلیں بھی اس علمی روشنی سے مستفید ہو سکیں۔
(دونوں سائنس دان مسکراتے ہیں اور علم کی روشنی پھیلانے کے عزم کے ساتھ اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہیں۔)
Latest Posts
انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ سندھفی لٹر قیمت میں 100 روپے اضافہ؟ حکومت کی جانب سے جلد عوام پر نیا پٹرول بم گرانے کی اطلاعاتسکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج کی نقل و حمل ناکام بنادی، 8 دہشت گرد ہلاکپنجاب حکومت کی صوبہ بھر میں گوبر پر بھی ٹیکس لگانے کی تیاریوزیرِ اعظم شہباز شریف کا شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کو خراج تحسین
