بیجنگ (یو این پی) چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماو نینگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں جاپان کی جانب سے جارحانہ ہتھیاروں کی تعیناتی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جاپان کی جانب سے “دفاع” کی آڑ میں جارحانہ ہتھیاروں کی تعیناتی “صرف دفاع” کے دائرہ کار سے کہیں آگے نکل چکی ہے، جو قاہرہ اعلامیہ، پوٹسڈیم اعلامیہ، اور جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی دستاویزسمیت بین الاقوامی قانون کی حیثیت رکھنے والی دستاویزات کے قواعد، نیز جاپانی آئین اور موجودہ ملکی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ صورتحال ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ جاپان کی انتہائی دائیں بازو کی قوتیں اپنی سیکورٹی پالیسی کو جارحانہ اور توسیع پسندانہ سمت کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ جاپان کی “نئی قسم کی عسکریت پسندی” خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، جس پر عالمی برادری کو انتہائی چوکس رہنا چاہیے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ چین جاپان پر زور دیتا ہے کہ وہ عسکری جارحیت کی اپنی تاریخ کا گہرائی سے جائزہ لے اور ملٹری اور سکیورٹی کے شعبوں میں اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے احتیاط سے کام لے۔
Latest Posts
انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ سندھفی لٹر قیمت میں 100 روپے اضافہ؟ حکومت کی جانب سے جلد عوام پر نیا پٹرول بم گرانے کی اطلاعاتسکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج کی نقل و حمل ناکام بنادی، 8 دہشت گرد ہلاکپنجاب حکومت کی صوبہ بھر میں گوبر پر بھی ٹیکس لگانے کی تیاریوزیرِ اعظم شہباز شریف کا شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کو خراج تحسین
