غزل

شاعر۔۔۔۔ذوالفقار ہمدم اعوان
یہ وہی لمحے ہیں جن میں کوئی تنہائی نہ ہو
کاش دنیا کی حقیقت میں بھی گہرائی نہ ہو
ہم نے چاہا تھا کہ کچھ دیر وہ رک جائے مگر
عشق میں ایسی کسی بات کی بینائی نہ ہو
چاندنی رات میں بکھری ہوئی خوشبو کی قس
کوئی لمحہ بھی ترے ہجر کی پرچھائی نہ ہو
ہم نے سو بار کیا خود سے کوئی وعدہ مگر
عشق جب جاگے تو پھر یاد تری آئی نہ ہو
یاد آتا ہے تری باتوں کا وہ میٹھا پن
دل کی ویرانی میں شامل کوئی رعنائی نہ ہو
یہ مقدر کی لکیریں بھی ستم گر نکلیں
جن میں الفت ہو، مگر ہاتھ بھی ہرجائی نہ ہو
اب بھی صحراؤں میں گونجے تری آواز کہیں
اب بھی راتوں میں وہی درد کی انگڑائی نہ ہو
ہم نے چاہا تھا کہ رہ جائے وہ دل میں روشن
ہائے افسوس کہ تقدیر شناسائی نہ ہو
اب بھی ان آنکھوں میں رستے کے نشاں باقی ہیں
اب بھی اس دل میں کوئی درد کی گہرائی نہ ہو
عشق وہ کارِ جنوں ہے کہ جسے چھو لے کبھی
پھر کسی شے کی تمنا ہو، پذیرائی نہ ہو
ہم تو پھر بھی ترے کوچے میں پہنچ جائیں گے
کاش قسمت بھی ہمیں دار تلک لائی نہ ہو
جو بچھڑ کر بھی رہے دل کے قریں اپنا ہے
ورنہ دنیا میں کہیں عشق کی سچائی نہ ہو

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow