باپ اور بیٹی کا انمول رشتہ

از قلم :سیدہ رومیصہ گیلانی(کوٹ ادو)
ویسے تو سب رشتے افضل ہیں لیکن باپ اور بیٹی کے رشتے کی بات ہی کچھ اور ہے۔مانا کہ ایک بیٹی اپنے باپ سے بہت پیار کرتی ہے لیکن باپ بیٹی کی ایک بات نہ مانے تو بیٹی سالوں تک وہ بات دل میں رکھتی ہے اور ناراض رہتی ہے؛لیکن باپ بیٹی کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ویسے ہی ایک اچھی بیٹی اپنے والد کو مرشد سمجھتی ہے اس میں خود کو دیکھتی ہے،اسی طرح میرے ابو جان میرے لیے بہت افضل ہیں۔میں نے آج تک جو خواب دیکھے ہیں وہ سب میرے پیارے ابو جان کی عنایت ہیں۔میرے پیارے ابو جان جن کا نام سید صفدر شاہ گیلانی ہے وہ میرے مرشد ہیں۔میرے لیے دنیا میں سب سے زیادہ افضل میرے ابو جان ہیں۔ابو جان لوگ دس بہن بھائی تھے پانچ بہنیں ، پانچ بھائی اور میرے ابو جان سب سے چھوٹے تھے ؛میرے ابو کی زندگی کی داستان کچھ اس طرح ہے۔ایک پر جوش لڑکا جس کا نام صفدر تھا ؛تو صفدر( میرے ابو جان)جب چھوٹا تھا تب ان کو ان کے بڑے بھائی سکول چھوڑنے کی بجائے درزی کی دکان پر بیٹھا آئے تھے لیکن صفدر درزی کی دکان سے بھاگ آیا تھا کیونکہ وہ اپنی زندگی میں کچھ کرنا چا ہتا تھا ؛وہ سکول چلا گیا ؛سکول سے پھر کالج )کالج دوسرے شہر میں تھا (بس کے کرایے کے پیسے تو نہیں ہوتے تھے ان کے پاس اس لیے وہ روزانہ بس کے پیچھے لٹک کر کالج جایا کرتے تھے۔سید صفدر شاہ اپنے دور کا خوبرو گبھرو جوان تھا۔صفدر کو پولیس افسر بنے کا بہت شوق تھا ،آپ اس کا امتحان بھی دینے گئے لیکن جب یہ کمرہ امتحان پہنچے تب تک ایک گھنٹہ گزر چکا تھا۔خیر اس کے بعد صفدر نے کبھی دوبارہ کوشش نہیں کی کیونکہ صفدر سب سے چھوٹا بیٹا تھا تو ان کے والد نے کہا زمین سنبھالو کیونکہ باقی بڑے بیٹے تو اپنا کام کر رہے تھے اور شادی شدہ بھی تھے؛ بہر حال انہوں نے زمین سنبھالی۔زمین جو اکثر بنجر تھی صفدر نے محنت کی اور سب سے پہلے اپنا ٹریکٹر لیا اور زمین آباد کی۔انہوں کرایے نے دوسروں کی زمینوں میں ہل چلائے ؛دن رات محنت کر کے اپنے باپ کی زمین کو آباد کرنے کی پوری کوشش کی۔ابو جان کی شادی ان کی امی ابو کی وفات کے بعد ہوئی۔2010ء میں سیلاب آیا تب ابو زمین پر اتنی محنت کرتے تھے مجھے یاد ہے صبح سویرے اٹھ کر اپنے کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے جاتے تھے اور رات کو واپس آتے تھے میں دوپہر کو ابو جان کو کھیتوں میں خود کھانا دینے جاتی تھی۔جب سیلاب آیا تو کھڑی فصل سیلاب بہا لے گیا اور ہمارا گھر ،سامان سب سیلاب میں ختم ہو گیا۔ابو کی داڑھی کا پہلا بال سفید بھی سیلاب کے بعد ہوا تھا کیونکہ کسان کے لیے سب سے اہم اس کی فصل ہوتی ہے جس پر وہ دن رات محنت کرتا ہے اور ابو کی زمین تو اب جا کر آباد ہوئی تھی؛ فصل سب بھائی بانٹ لیتے تھے باقی تب ابو نے اکیلے زمین آباد کی اور جب زمین آباد ہوگئی تو سب بہن بھائیوں نے آ کر زمین بانٹ لی۔میرے ابو کے بڑے بھائی چاچو اصغر جن کو ابو ہم سے بھی زیادہ اہم رکھتے تھے؛ انہوں نے 2014 میں زمین الگ کی کیو نکہ زمین تو اب آباد کر لی تھی ابو نے لیکن چاچو اور ان کا بڑا بیٹا سہیل انہوں نے زمین آ کر لی اور سہیل میرے چاچو کا بیٹا جو اس وقت کہ رہا تھا کہ صفدر کا ایک بیٹا ہے میں اسکی گردن مروڑ دوں گا اور صفدر کی نسل ختم ہو جائے گی۔میرا ایک بھائی ہے جو سیلاب کے سال 2010 میں پیدا ہوا تھا 2014 میں چار سال کا تھا صرف ؛اور ہم چھوٹی سی دو بیٹیاں تھی؛میرے چاچو کے پانچ بڑے بیٹے تھے اس لیے وہ فخر سے کہ رہے تھے ،”ہمارا ایک مر بھی کیا تو کیا ہوا ؛صفدر کی تو نسل ختم ہو جائے گی۔“
میرے ابو کی اولاد چھوٹی تھی اکیلے تھے اس وقت اس لیے وہ زمین کے بٹوارے کے درمیان بھی نہیں گئے۔ گھر بیٹھے رہے اور یہ لوگ دھمکیوں کے ساتھ ساتھ زمین بھی اپنی مرضی سے بانٹ گئے۔ہاں ایک بات جو مجھے پوری ذندگی نہیں بھولے گی سیلاب کے دوران کچھ سامان ہم نے چاچو اصغر کے گھر رکھوایا تھا سیلاب کے بعد جب سامان اٹھانے گئے اپنے ٹریکٹر ٹرالی پر تب ہم سب امی، ابو ،میں ، میری بہن مسکان،میرا بھائی سید علی سب گئے تھے؛تب میرے چاچو اصغر نے بندوق اٹھا لی تھی ابو کو مارنے کے لیے تب ان کو میری چاچی لوگوں نے پکڑ لیا تھا۔
مجھے یاد ہے وہ منظر آج بھی ؛جب میرے ابو کہے ر یے تھے چلاؤ گولی سینہ تانے کھڑا ہوں کلمہ بھی پڑھ لیا ہےاور میں اپنے ابو کے پیچھے چھپ کر کھڑی تھی اپنے ابو کو پکڑا ہوا تھا اور رو رہی،یہ منظر جب بھی یاد آتا ہے میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔یہ میرےابو کے لیے صدمے کی بات تھی کیونکہ میرے ابو ہم لوگوں سے بھی زیادہ چاچو اصغر سے محبت کرتے تھے جو انہوں نے کوٹھی بنوائی۔ اس میں بھی ابو ان کو پیسے دیتے رہے تھے اور جب بھی چاچو لوگ پیسے مانگتے ابو انکو دے آتے اور ہر طرح سے ان کا خیال رکھتے تھے۔خیر بہر حال وہ بھتیجا سہیل جس کو میرے ابو اپنے بیٹوں کی طرح سمجھتے تھے،جب اس کے با پ یعنی میرے چاچو نے جب اسکی بد تمیزیوں کی وجہ اس کو گھر سے نکال دیا تب ابو نے گھر رکھا اور اس کو اس وقت پڑھائی میں مالی امداد فراہم کی اور پھر اسی بھتیجے نے میرے ابو کے اکلوتے بیٹے کو مارنے کی دھمکیاں دیں۔اسی بھتیجے نے 2019 میں ہمارے پلاٹ کا رستہ تنگ کر دیا جب ابو ان کو روکنے گئے اس سہیل نے میرے ابو کو دھکے دیے اور میرے ابو کو گریبان سے پکڑ کر ان کی جیکٹ پھاڑ دی۔مطلب جس چاچو نے اس کا ساتھ دیا اس نے اس کو ہی نہیں چھوڑا۔مجھے یاد ہےجب میں سکول سے واپس آئی تھی میرے ابو پریشان بیٹھے تھے ان کی جیکٹ پھٹی ہوئی تھی میں ابو سے بات کرتی رہی اور وہ ساکن بیٹھے تھے جیسے آنسو روک کر بیٹھے ہوں۔ میں ابو کو کہ رہی تھی آپ پریشان نہ ہوں میں بڑی ہو جاؤ گی نا میں ان سے آپ کے سا رے پیسے واپس لو گی جو کھا گئے ہیں اور جو انہوں نے دھمکیاں دی اور آپ کا گریبان پکڑا، مارنے کی کوشش کی ،آپ کے ساتھ بدسلوکی کی ۔میں کبھی نہیں بھولوں گئی۔تب میرے ابو بے بسی سے ٹھنڈی سانس لے کر بولے تھے ہم کچھ نہیں کر سکتے اور تب میں اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔مجھ سے میرے ابو کی یہ بے بسی برداشت نہیں ہو رہی تھی۔تبھی سوچا تھا کہ زندگی میں اب محنت کرنی ہے میرے ابو کی جو یہ بےبسی ہے کہ یہ بیٹیوں کے باپ ہیں،کمزور ہیں یہ ختم کرنی ہے؛ آج اگر میں گریجویشن کی طالب علم ہوں یہ میرے ابو کی عنایت ہے ورنہ خاندان والے تو منع کرتے تھے، ”بیٹیاں ہیں کیوں پڑھا رہے ہو،کوئی فائدہ نہیں بیٹیوں کو پڑھانے کا “لیکن میں یہ ثابت کروں کی کہ بیٹاں باپ کو وہ مقام اور عزت دلوا سکتی ہیں جو بیٹے بھی نہیں دلوا سکتے۔یقین کا سفر باندھا ہے کہ محنت کے ساتھ کہ اپنے باپ کا سر فخر سے بلند کروں گی اور اس سفر میں کامیابی اللہ دے گا۔إن شاءالله !

About dailypehchan epakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow