ذوالفقار ہمدم اعوان
آسمان اس دن نیلا نہیں تھا۔ وہ راکھ کے رنگ کا تھا، جیسے کسی نے سورج کو جلا کر اس کی خاک فضا میں بکھیر دی ہو۔ فضا میں بارود کی بو تیر رہی تھی اور زمین پر پھیلے ہوئے ملبے کے درمیان انسانوں کی چیخیں ایک دوسرے سے ٹکرا کر مر رہی تھیں۔ فاختہ نے پہلے کبھی ایسا آسمان نہیں دیکھا تھا۔ وہ ایک ٹوٹی ہوئی عمارت کے کنارے بیٹھی تھی جب پہلا دھماکہ ہوا۔ زمین کانپی، ہوا چیخی اور روشنی کا ایک اندھا کر دینے والا شعلہ فضا کو چیر گیا۔ اس کے پر بے اختیار پھڑپھڑائے اور وہ خوفزدہ ہو کر اڑنے لگی۔ مگر یہ وہ اڑان نہیں تھی جو آزادی دیتی ہے، یہ وہ اڑان تھی جو صرف بچنے کی آخری کوشش ہوتی ہے۔
نیچے ہر طرف تباہی تھی۔ لاشیں، خون، ٹوٹے ہوئے کھلونے اور بکھری ہوئی کتابیں۔ ایک بچہ اپنی ماں کو ہلا رہا تھا مگر وہ ماں اب کبھی نہیں اٹھنے والی تھی۔ فاختہ نے نظریں پھیر لیں، مگر انسانوں کی بے بسی اس کے ننھے دل میں جیسے پتھر بن کر بیٹھ گئی۔ ہوا میں زہریلا دھواں گھل چکا تھا اور اس کے سانس بھاری ہونے لگے۔ اسے محسوس ہوا جیسے کوئی نادیدہ ہاتھ اس کے سینے کو دبا رہا ہو۔ اس نے پر زور سے مارے مگر طاقت جواب دے رہی تھی۔ وہ لڑکھڑائی، پھر ایک چکر کھایا اور زمین پر آ گری۔ وہ ابھی سیدھی طرح سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ اسے ایک سرسراہٹ سنائی دی۔
کالا ناگ!
وہ ملبے کے درمیان سے پھنکارتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک سرد چمک تھی، جیسے وہ اس تباہی کا حصہ ہو، یا شاید اس کا وارث۔ فاختہ کا جسم کانپنے لگا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے کوئی معجزہ ہو جائے، مگر آسمان خاموش تھا۔ ناگ نے جھپٹنا ہی تھا کہ اچانک ایک پتھر اس کے سر کے قریب آ گرا۔ ناگ پلٹا، وہاں ایک بچہ کھڑا تھا جس کا نام یوسف تھا۔ اس کی عمر دس سال سے زیادہ نہیں تھی مگر اس کی آنکھوں میں بچپن کا کوئی نشان نہیں تھا۔ وہ مٹی، خون اور دھوئیں سے لتھڑا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک اور پتھر تھا اور وہ پوری قوت سے ناگ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ناگ نے پھنکارا مگر یوسف نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے ایک اور پتھر پھینکا۔ ناگ پیچھے ہٹا اور پھر ملبے میں گم ہو گیا۔
یوسف آہستہ آہستہ فاختہ کے قریب آیا۔ وہ جھکا اور اسے اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ فاختہ کی سانسیں تیز تھیں اور آنکھیں نیم وا تھیں۔ “ڈرو نہیں،” یوسف نے سرگوشی کی، “میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔” مگر وہ خود جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، وہ خود بھی محفوظ نہیں تھا۔ اس نے اردگرد دیکھا، ہر طرف تباہی تھی۔ وہ شہر جو کبھی روشنیوں سے جگمگاتا تھا، اب ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ جہاں اس کا گھر تھا، اب صرف ایک گڑھا رہ گیا تھا۔ اس کی ماں اسی گڑھے کے نیچے تھی اور باپ کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ وہ اکیلا تھا، مگر اب اس کے ہاتھوں میں ایک اور زندگی تھی۔ اس نے فاختہ کو اپنے سینے سے لگا لیا اور چلنے لگا۔
شہر کے ایک کونے میں ایک عارضی پناہ گاہ قائم تھی۔ یہ ایک پرانا اسکول تھا جس کی دیواریں ابھی تک کھڑی تھیں۔ یہاں زخمی، یتیم اور بے گھر لوگ جمع تھے۔ ڈاکٹر سارہ وہاں کام کر رہی تھیں۔ وہ پچھلے تین دن سے سوئی نہیں تھیں۔ ان کے ہاتھ مسلسل خون سے بھیگے رہتے تھے، مگر وہ رکتی نہیں تھیں۔ ہر مریض ان کے لیے ایک جنگ تھا جسے وہ ہارنا نہیں چاہتی تھیں۔ یوسف اندر آیا، اس کی آواز کانپ رہی تھی، “ڈاکٹر۔۔۔” سارہ نے سر اٹھایا، بچے کو دیکھا اور پھر اس کے ہاتھوں میں موجود فاختہ کو۔ وہ چند لمحے خاموش رہیں، پھر ایک تھکی ہوئی مگر سچی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں، “یہ بھی زخمی ہے؟” یوسف نے سر ہلایا۔ سارہ نے آہستہ سے فاختہ کو اس کے ہاتھوں سے لیا، اس کے پر دیکھے اور سانس سنی۔ “یہ ابھی زندہ ہے،” انہوں نے کہا۔ یوسف کی آنکھوں میں ایک چمک آئی، شاید کئی دنوں بعد پہلی بار۔ “کیا یہ ٹھیک ہو جائے گی؟” سارہ نے جواب دینے سے پہلے ایک لمحہ سوچا اور کہا، “ہم کوشش کریں گے۔”
رات کو پناہ گاہ میں خاموشی تھی، مگر وہ سکون کی خاموشی نہیں تھی۔ یہ وہ خاموشی تھی جس میں دبی ہوئی سسکیاں تھیں، ادھورے خواب تھے اور کل کا خوف تھا۔ یوسف ایک کونے میں بیٹھا تھا، فاختہ اس کے پاس ایک کپڑے میں لپٹی ہوئی تھی۔ “تم جانتی ہو،” اس نے آہستہ سے کہا، “میری امی کہتی تھیں کہ فاختہ امن کی علامت ہوتی ہے۔ اگر تم ٹھیک ہو گئیں، تو شاید سب ٹھیک ہو جائے۔” یہ ایک بچے کی سادہ مگر خوبصورت منطق تھی۔
اگلے دن ایک اور حملہ ہوا۔ اس بار پناہ گاہ بھی محفوظ نہ رہی۔ دھماکے کی آواز آئی، دیواریں ہلیں اور پھر چیخیں بلند ہوئیں۔ یوسف نے فاختہ کو اٹھایا اور بھاگنے لگا۔ دھواں ہر طرف پھیل چکا تھا اور لوگ ایک دوسرے کو دھکیل رہے تھے۔ سارہ ایک زخمی کو اٹھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ “چلو!” یوسف نے چیخ کر کہا۔ سارہ نے سر اٹھایا، مریض کو دیکھا اور پھر یوسف کو۔ وہ ایک لمحے کے لیے رکیں، پھر مریض کو کندھے پر ڈالا اور یوسف کے ساتھ دوڑنے لگیں۔ باہر آسمان اور بھی سیاہ تھا، جہاز اوپر گرج رہے تھے اور زمین نیچے جل رہی تھی۔ یہ دنیا اب کسی کی نہیں رہی تھی۔
وہ تینوں ایک ٹوٹی ہوئی سڑک کے کنارے رک گئے۔ سارہ ہانپ رہی تھیں اور مریض اب بھی بے ہوش تھا۔ یوسف نے فاختہ کو دیکھا، اس کی سانسیں مدھم تھیں۔ “نہیں۔۔۔” یوسف کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، “یہ نہیں مر سکتی، یہ نہیں!” سارہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، مگر اس بار ان کے پاس کوئی تسلی نہیں تھی۔ فاختہ نے آہستہ سے اپنی آنکھ کھولی اور آخری بار آسمان کی طرف دیکھا۔ وہی راکھ کا آسمان، مگر اس میں ایک چھوٹی سی روشنی تھی، شاید کوئی ستارہ یا محض ایک وہم۔ اس نے پر ہلانے کی کوشش کی۔ یوسف نے اسے ہاتھوں میں اٹھا لیا، “اڑو۔۔۔ پلیز اڑو!” فاختہ نے ایک آخری کوشش کی، اس کے پر ہلے، وہ ایک لمحے کے لیے فضا میں اٹھی اور پھر ہمیشہ کے لیے نیچے آ گئی۔
یوسف خاموش ہو گیا، اس کے آنسو رک گئے جیسے کچھ اندر سے ٹوٹ کر ختم ہو گیا ہو۔ “یہ امن تھی،” اس نے آہستہ سے کہا، “اور ہم اسے بھی نہیں بچا سکے۔” سارہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ چند دن بعد اسی شہر کے ملبے میں یوسف ایک گڑھا کھود رہا تھا۔ اس نے فاختہ کو اس میں رکھا اور مٹی ڈال دی۔ اس نے کوئی دعا نہیں پڑھی کیونکہ اسے الفاظ نہیں آتے تھے۔ پھر وہ کھڑا ہوا اور آسمان کی طرف دیکھا۔ وہی راکھ، وہی دھواں اور وہی خاموشی، مگر اس کی آنکھوں میں اب ایک عجیب سی ضد تھی۔ “میں بڑا ہو کر۔۔۔” وہ رکا، پھر بولا، “میں یہ سب ختم کروں گا۔” یہ ایک بچے کا ناممکن مگر سچا وعدہ تھا۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ جنگیں ختم ہونے کے بعد بھی ان لوگوں میں زندہ رہتی ہیں جو بچ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی فاختہ ہمیں یہ سکھا جاتی ہے کہ امن صرف ایک خواب نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔ جب تک کوئی ایک دل بھی اسے چاہنے والا دھڑک رہا ہے، وہ مکمل طور پر مر نہیں سکتا۔ مگر اس دن وہ مر گیا تھا، اور اس کے ساتھ انسانیت کا ایک حصہ بھی۔
Latest Posts
انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ سندھفی لٹر قیمت میں 100 روپے اضافہ؟ حکومت کی جانب سے جلد عوام پر نیا پٹرول بم گرانے کی اطلاعاتسکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج کی نقل و حمل ناکام بنادی، 8 دہشت گرد ہلاکپنجاب حکومت کی صوبہ بھر میں گوبر پر بھی ٹیکس لگانے کی تیاریوزیرِ اعظم شہباز شریف کا شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کو خراج تحسین
